یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ(۴۵)

اے ایمان والو جب کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کی یاد بہت کرو (ف۸۶) کہ تم مراد کو پہنچو

(ف86)

اس سے مدد چاہو اور کُفّار پر غالب ہونے کی دعائیں کرو ۔

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ انسان کو ہر حال میں لازم ہے کہ وہ اپنے قلب و زبان کو ذکرِ الٰہی میں مشغول رکھے اور کسی سختی و پریشانی میں بھی اس سے غافل نہ ہو ۔

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶)

اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور آپس میں جھگڑو نہیں کہ پھر بزدلی کرو گے اور تمہاری بندھی ہوئی ہوا جاتی رہے گی (ف۸۷) اور صبر کرو بےشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے(ف۸۸)

(ف87)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ باہمی تنازع ضعف و کمزوری اور بے وقاری کا سبب ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ باہمی تنازع سے محفوظ رہنے کی تدبیر خدا اور رسول کی فرماں برداری اور دین کا اِتِّباع ہے ۔

(ف88)

ان کا معین و مددگار ۔

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ(۴۷)

اور ان جیسے نہ ہونا جو اپنے گھر سے نکلے اتراتے اور لوگوں کے دکھانے کو اور اللہ کی راہ سے روکتے (ف۸۹) اور ان کے سب کام اللہ کے قابو میں ہیں

(ف89)

شانِ نُزوُل : یہ آیت کُفّارِ قریش کے حق میں نازِل ہوئی جو بدر میں بہت اتراتے اور تکبّر کرتے آئے تھے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی یاربّ یہ قریش آگئے تکبّر و غُرور میں سرشار اور جنگ کے لئے تیار ، تیرے رسول کو جھٹلاتے ہیں ۔ یاربّ اب وہ مدد عنایت ہو جس کا تو نے وعدہ کیا تھا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب ابوسفیان نے دیکھا کہ قافلہ کو کوئی خطرہ نہیں رہا تو انہوں نے قریش کے پاس پیام بھیجا کہ تم قافلہ کی مدد کے لئے آئے تھے اب اس کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے لہذا واپس جاؤ ۔ اس پر ابو جہل نے کہا کہ خدا کی قسم ہم واپس نہ ہوں گے یہاں تک کہ ہم بدر میں اُتریں ، تین روز قیام کریں ، اونٹ ذَبح کریں ، بہت سے کھانے پکائیں ، شرابیں پئیں ، کنیزوں کا گانا بجانا سنیں ، عرب میں ہماری شہرت ہو اور ہماری ہیبت ہمیشہ باقی رہے لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا جب وہ بدر میں پہنچے تو جامِ شراب کی جگہ انہیں ساغرِ موت پینا پڑا اور کنیزوں کی ساز و نوا کی جگہ رونے والیاں انہیں روئیں ۔ اللہ تعالٰی مؤمنین کو حکم فرماتا ہے کہ اس واقعہ سے عبرت حاصل کریں اور سمجھ لیں کہ فخر و ریا اور غرور تکبّر کا انجام خراب ہے ، بندے کو اخلاص اور اطاعتِ خدا اور رسول چاہئے ۔

وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْۚ-فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَؕ-وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠(۴۸)

اور جب کہ شیطان نے ان کی نگاہ میں ان کے کام بھلے کر دکھائے (ف۹۰) اور بولا آج تم پر کوئی شخص غالب آنے والا نہیں اور تم میری پناہ میں ہو تو جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے اُلٹے پاؤں بھاگا اور بولا میں تم سے الگ ہوں (ف۹۱) میں وہ دیکھتا ہوں جو تمہیں نظر نہیں آتا (ف۹۲) میں اللہ سے ڈرتا ہوں (ف۹۳) اور اللہ کا عذاب سخت ہے

(ف90)

اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عداوت اور مسلمانوں کی مخالفت میں جو کچھ انہوں نے کیا تھا اس پر ان کی تعریفیں کیں اور انہیں خبیث اعمال پر قائم رہنے کی رغبت دلائی اور جب قریش نے بدر میں جانے پر اتفاق کرلیا تو انہیں یاد آیا کہ ان کے اور قبیلۂ بنی بکر کے درمیان عداوت ہے ممکن تھا کہ وہ یہ خیال کرکے واپسی کا قصد کرتے ، یہ شیطان کو منظور نہ تھا اس لئے اس نے یہ فریب کیا کہ وہ سراقہ بن مالک بن جعثم بنی کنانہ کے سردار کی صورت میں نمودار ہوا اور ایک لشکر اور ایک جھنڈا ساتھ لے کرمشرکین سے آملا اور ان سے کہنے لگا کہ میں تمہارا ذمہ دار ہوں ، آج تم پر کوئی غالب آنے والا نہیں جب مسلمانوں اور کافِروں کے دونوں لشکر صف آرا ہوئے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مشتِ خاک مشرکین کے مُنہ پر ماری اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے اور حضرت جبریل ، ابلیسِ لعین کی طرف بڑھے جوسراقہ کی شکل میں حارث بن ہشام کا ہاتھ پکڑ ے ہوئے تھا وہ ہاتھ چھٹا کر مع اپنے گروہ کے بھاگا ۔ حارث پکارتا رہ گیا سراقہ سراقہ تم تو ہمارے ضامن ہوئے تھے کہا ں جاتے ہو ، کہنے لگا مجھے وہ نظر آتا ہے جو تمہیں نظر نہیں آتا ۔ اس آیت میں اس واقعہ کا بیان ہے ۔

(ف91)

اور امن کی جو ذمہ داری لی تھی اس سے سبک دوش ہوتا ہوں ۔ اس پر حار ث بن ہشام نے کہا کہ ہم تیرے بھروسہ پر آئے تھے اس حالت میں ہمیں رسوا کرے گا ، کہنے لگا ۔

(ف92)

یعنی لشکرِ ملائکہ ۔

(ف93)

کہیں وہ مجھے ہلاک نہ کردے ۔ جب کُفّار کو ہزیمت ہوئی اور وہ شکست کھا کر مکّۂ مکرّمہ پہنچے تو انہوں نے یہ مشہور کیا کہ ہماری شکست و ہزیمت کا باعث سراقہ ہوا ، سراقہ کو یہ خبر پہنچی تو اسے حیرت ہوئی اور اس نے کہا یہ لوگ کیا کہتے ہیں نہ مجھے ان کے آنے کی خبر ، نہ جانے کی ، ہزیمت ہوگئی جب میں نے سنا ہے تو قریش نے کہا کہ تو فلاں فلاں روز ہمارے پاس آیا تھا اس نے قسم کھائی کہ یہ غلط ہے تب انہیں معلوم ہوا کہ وہ شیطان تھا ۔