أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّهُمۡ طٰۤئِفٌ مِّنَ الشَّيۡطٰنِ تَذَكَّرُوۡا فَاِذَا هُمۡ مُّبۡصِرُوۡنَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

بیشک جو لوگ سے اللہ سے ڈرتے ہیں انہیں اگر شیطان کی طرف سے کوئی برا خیال چھو بھی جاتا ہے تو وہ خبر دار ہوجاتے ہیں اور اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” بیشک جو لوگ سے اللہ سے ڈرتے ہیں انہیں اگر شیطان کی طرف سے کوئی برا خیال چھو بھی جاتا ہے تو وہ خبر دار ہوجاتے ہیں اور اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں “

طائف من الشیطان کا معنی 

علامہ راغب اصفہانی متوفی 502 ھ لکھتے ہیں : 

انسان کو ورغلانے کے لیے انسان کے گرد گردش کرنے والے شیطان کو طائف کہتے ہیں، کسی چیز کا خیال یا اس کی صورت جو نیند اور بیداری میں دکھائی دے اس کو طیف کہتے ہیں۔ (المفردات ج 2، ص 406، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

علامہ المبارک بن محمد المعروف بابن الاثیر جزری متوفی 606 ھ لکھتے ہیں : 

طیف کا اصل معنی جنون ہے پھر اس کو غضب، شیطان کے مس کرنے اور اس کے وسوسہ کے معنی میں استعمال کیا گیا اور اس کو طائف بھی کہتے ہیں۔ (النہایہ ج 3، ص 139، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، 1418 ھ)

علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد قطبی مالکی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں : 

طیف کا معنی تخیل ہے اور طائف کا معنی شیطان ہے اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جو لوگ گناہوں سے بچتے ہیں انہیں کوئی وسوسہ لاحق ہو تو وہ اللہ عزوجل کی قدرت میں اور اللہ نے ان پر جو انعام کیے ہیں ان میں غور کرتے ہیں اور پھر معصیت کو ترک کردیتے ہیں۔ (الجامع لاحکام القرآن جز 7، ص 313، مطبوعہ دار الفکر بیروت)

انسان کس طرح غور و فکر کرکے انتقام لینے کو ترک کرے 

امام فخر الدین رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں :

جب انسان کسی دوسرے شخص پر غضب ناک ہو اور اس کے دل میں شیطان یہ خیال ڈالے کہ وہ اس سے انتقام لے تو پھر وہ انتقام نہ لینے کی وجوہات پر غور وفکر کرے اور انتقام لینے کے ارادہ کو ترک کردے۔ وہ وجوہات حسب ذیل ہیں :

1 ۔ انسان کو یہ سوچنا چاہیے کہ وہ خود کتنے گناہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو سزا دینے پر قادر ہے، اس کے باوجود اس سے درگزر کرتا ہے اور اس سے انتقام نہیں لیتا سو اس کو بھی چاہیے کہ وہ انتقام لینے کا ارادہ ترک کردے۔

2 ۔ جس طرح اس کا مجرم بےبس اور مجبور ہے اسی طرھ وہ بھی اللہ کا مجرم ہے اور اس کے سامنے مجبور اور بےبس ہے۔ 

3 ۔ غضب ناک شخص کو ان احکام پر غور کرنا چاہیے جن میں اسے انتقام کو ترک کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ 

4 ۔ اس کو اس پر غور کرنا چاہیے کہ اگر اس نے غضب اور انتقام کے تقاضوں کو تو پورا کردیا تو اس کا یہ عمل موذی درندوں کی طرح ہوگا اور اگر اس نے صبر کیا اور انتقام نہیں لیا تو اس کا یہ عمل انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام کی مثل ہوگا۔ 

5 ۔ اس کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جس کمزور شخص سے آج وہ انتقام لینا چاہتا ہے ہوسکتا ہے کل وہ قوی اور قادر ہوجائے اور یہ کمزور اور ناتواں ہوجائے اور اگر وہ اس کو معاف کردے تو پھر یہ شخص اس کا احسان مند رہے گا۔ (تفسیر کبیر ج 5، ص 437، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ)

انسان کس طرح غور و فکر کرکے گناہوں کو ترک کرے 

امام رازی نے ترک انتقام کی جو یہ وجوہات بیان کی ہیں ان کو معصیت کی دیگر انواع میں بھی جاری کیا جاسکتا ہے۔ جب بھی شیطان انسان کو کسی معصیت اور گناہ پر اکسائے وہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے انعامات پر غور کرے کہ اللہ اس پر اتنی مہربانی کرتا ہے تو کیا یہ انصاف ہوگا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے۔ نیز اس پر غور کرے کہ اگر اس نے یہ گناہ کیا تو اس سے شیطان راضی ہوگا اور اللہ ناراض ہوگا تو کیا یہ جائز ہے کہ وہ اللہ کو ناراض اور شیطان کو راضی کرے۔ نیز یہ سوچنا چاہیے اگر آج اس نے اللہ کے حکم کو بھلا دیا تو ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن اللہ اس کو بھلا دے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” وقیل الیوم ننساکم کما نسیتم لقاء یومکم ھذا : اور کہا جائے گا آج ہم تمہیں اس طرح بھلا دیں گے جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا ” (الجاثیۃ :34)

اور یہ سوچنا چاہیے کہ اللہ نے اس کو دنیا میں رزق دینے اور پر وش کرنے کا جو وعدہ کیا ہے وہ اس کو پورا کررہا ہے تو اس نے کلمہ پڑھ کر اللہ کی اطاعت کا جو وعدہ کیا ہے، وہ اس کو کیوں پورا نہیں کر رہا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” واوفوا بعہدی اوف بعہدکم : تم میرے عہد کو پورا کرو میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا ” (البقرہ :40)

اور یہ سوچنا چاہی کہ وہ اللہ سے جو دعا کرتا ہے، اللہ اسے قبول کرلیتا ہے تو پھر کیا یہ انصاف کا تقاضا نہیں ہے کہ اللہ اس سے جو کچھ کہے وہ بھی اس پر عمل کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” اجیب دعوۃ الداعی اذا دعان فلیستجیبوا لی : جب دعا کرنے والا دعا کرے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو انہیں بھی چاہیے کہ وہ بھی میرا حکم مانیں ” (186)

اور یہ غور کرنا چاہیے کہ اگر اس نے وہ گناہ کرلیا تو وہ فساق و فجار کی مثل ہوگا اور اگر اس نے اس گناہ سے دامن بچا لیا تو وہ انبیاء کا متبع اور اولیاء کی مانند ہوگا۔ اور جو شخص فساق و فجار کے کام کرے گا وہ کیسے یہ توقع کرسکتا ہے کہ اس کی دنیا اور آخرت کی زندگی اللہ کے نیک بندوں کی طرح ہوگی ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” ام حسب الذین اجترحوا السیئات ان نجعلہم کالذین امنوا وعملوا الصالحات سواء محیاھم ومماتہم ساء ما یحکمون : جن لوگوں دلیری سے گناہ کیے ہیں کیا انہوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ ہم انہیں ان لوگوں کی طرح کردیں گے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے کہ ان (سب) کی زندگی اور موت برابر ہوجائے۔ وہ کیا ہی برا فیصلہ کرتے ہیں ” (الجاثیہ :21)

اور یہ بھی سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے بچوں، اپنے شاگردوں، مریدوں اور اپنے ماتحت لوگوں کے سامنے بےحیائی کے اور برے کام نہیں کرت اور جب تنہا ہو اور صرف اللہ دیکھ رہا ہو تو وہ بےحیائی اور برائی کے کاموں سے باز نہیں آتا تو کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوگا کہ اس کے دل میں اللہ کا اتنا خوف بھی نہیں ہے جتنا اپنے ماتحت لوگوں کے سامنے بےحیائی کے اور برے کام نہیں کرتا اور جب تنہا ہو اور صرف اللہ دیکھ رہا ہو تو وہ بےحیائی اور برائی کے کاموں سے باز نہیں آتا تو کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوگا کہ اس کے دل میں اللہ کا اتنا خوف بھی نہیں ہے جتنا اپنے ماتحت لوگوں اور چھوٹوں کا ہے ! حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” فلاتخشوا الناس واخشون : تم لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ہی ڈرو ” (المائدہ :44)

اور یہ بھی غور کرنا چاہیے کہ اگر اس نے لوگوں کے ڈر سے برے کام چھوڑ بھی دیے تو وہ اس کو کوئی انعام نہیں دیں گے جب کہ اللہ کے ڈر سے اس نے گناہ اور برے کام چھوڑ دیے تو اللہ نے اس سے بہت بڑے انعام کا وعدہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” واما من خاف مقام ربہ ونھی لنفس عن الھوی۔ فان الجنۃ ھی الماوی : اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا، اور اس نے اپنے نفس (امارہ) کو (اس کی) خواہش سے روکا تو بیشک جنت ہی اس کا ٹھکانا ہے ” (النازعات : 40 ۔ 41)

نیز فرمایا : ولمن خاف مقام ربہ جنتا : اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو جنتیں ہیں (الرحمن :46)

خوف خدا سے مرنے والوں نوجوان کو دو جنتیں عطا فرمانا 

خوف خدا سے مرنے والے نوجوان کو دو جنتیں عطا فرمانا 

امام ابو القاسم علی بن الحسن بن عساکر متوفی 571 ھ روایت کرتے ہیں : 

یحیی بن ایوب الخزاعی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ حضرت عمر بن الخطاب کے زمانہ میں ایک عبادت گزارنوجوان تھا جس نے مسجد کو لازم کرلیا تھا، حضرت عمر اس سے بہت خوش تھے، اس کا ایک بوڑھا باپ تھا، وہ عشاء کی نماز پڑھ کر اپنے باپ کی طرف لوٹ آتا تھا، اس کے راستہ میں ایک عورت کا دروازہ تھا وہ اس پر فریفتہ ہوگئی تھی، وہ اس کے راستہ میں کھڑی ہوجاتی تھی، ایک رات وہ اس کے پاس سے گزرا تو وہ اس کو مسلسل بہکاتی رہی حتی کہ وہ اس کے ساتھ چلا گیا، جب وہ اس کے گھر کے دروازہ پر پہنچا تو وہ بھی داخل ہوگئی، اس نوجوان نے اللہ کو یاد کرنا شروع کیا اور اس کی زبان پر یہ آیت جاری ہوگئی : ” ان الذین اتقوا اذا مسہم طائف من الشیطان تذکروا فاذاھم مبصرون : بیشک جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں انہیں اگر شیطان کی طرف سے کوئی خیال چھو بھی جاتا ہے تو وہ خبر دار ہوجاتے ہیں اور اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں ” (الاعراف :201)

پھر وہ نوجوان بےہوش ہو کر گرگیا ، اس عورت نے اپنی باندی کو بلایا اور دونوں نے مل کر اس نوجوان کو اٹھایا اور اسے اس کے گھر کے دروازہ پر چھوڑ آئیں۔ اس کے گھر والے اسے اٹھا کر گھر میں لے گئے، کافی رات گزرنے کے بعد وہ نوجوان ہوش میں آیا۔ اس کے باپ نے پوچھا اے بیٹے تمہیں کیا ہوا تھا ؟ اس نے کہا خیر ہے، باپ نے پھر پوچھا تو اس نے پورا واقعہ سنایا۔ باپ نے پوچھا اے بیٹے تم نے کون سی آیت پڑھی تھی ؟ تو اس نے اس آیت کو دہرایا جو اس نے پڑھی تھی اور پھر بےہوش ہو کر گرگیا گھر والوں نے اس کو ہلایا جلایا لیکن وہ مرچکا تھا۔ انہوں نے اس کو غسل دیا اور لے جاکر دفن کردیا، صبح ہوئی تو اس بات کی خبر حضرت عمر (رض) تک پہنچی۔ صبح کو حضرت عمر اس کے والد کے پاس تعزیت کے لیے آئے اور فرمایا تم نے مجھے خبر کیوں نہیں دی ؟ اس کے باپ نے کہا رات کا وقت تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا ہمیں اس کی قبر کی طرف لے چلو، پھر حضرت عمر اور ان کے اصحاب اس کی قبر پر گئے، حضرت عمر نے کہا اے نوجوان ! جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں ہیں ؟ تو اس نوجوان نے قبر کے اندر سے جواب دیا : اے عمر ! مجھے میرے رب عزوجل نے جنت میں دو بار دو جنتیں عطا فرمائی ہیں۔ (مختصر تاریخ دمشق ترجمہ عمرو بن جامع، رقم : 114، ج 19 ص 190 ۔ 191، مطبوعہ دار الفکر بیروت)

حافظ ابن عساکر کے حوالہ سے اس حدیث کو حافظ ابن کثیر متوفی 774 ھ، حافظ جلال الدین سیوطی متوفی 911 ھ اور امام علی متقی ہندی متوفی 975 ھ نے بھی ذکر کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر الاعراف 201، ج 3، ص 269، طبع دار الاندلس بیروت، شرح الصدور ص 13، طبع دار الکتب العلمیہ بیروت، 1404، کنز العمال ج، ص 516 ۔ 517، رقم الحدیث : 4634)

حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب کے زمانہ میں ایک نوجوان نے عبادت اور مسجد کو لازم کرلیا تھا، ایک عورت اس پر عاشق ہوگئی، وہ اس کے پاس خلوت میں آئی اور اس سے باتیں کیں اس کے دل میں بھی اس کے متعلق خیال آیا، پھر اس نے ایک چیخ ماری اور بےہوش ہوگیا۔ اس کا چچا آیا اور اس کو اٹھا کرلے گیا جب اس کو ہوش آیا تو اس نے کہا اے چچا ! حضرت عمر کے پاس جائیں ان سے میرا سلام کہیں اور پوچھیں کہ جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرے اس کی کیا جزا ہے ؟ اس کا چچا حضرت عمر کے پاس گیا، اس نوجوان نے پھر چیخ ماری اور جاں بحق ہوگیا۔ حضرت عمر (رض) اس کے پاس کھڑے ہوئے اور کہا تمہارے لیے دو جنتیں ہیں، تمہارے لیے دو جنتیں ہیں۔ (شعب الایمان، ج 1، ص 468 ۔ 469، رقم الحدیث : 736، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1410 ھ) 

امام بیہقی کے حوالے سے اس حدیث کو حافظ سیوطی متوفی 911 ھ امام علی متقی ہندی متوفی 975 ھ اور علامہ آلوسی متوفی 1270 ھ نے بھی ذکر کیا ہے۔ (الدر المنثور ج 6، ص 147، طبع قدیم ج 7، ص 708، طبع جدید دار الفکر، کنز العمال رقم الحدیث : 4635، روح المعانی ج 27 ص 116)

حافظ ابن عساکر نے جو حدیث تفصیلاً روایت کی ہے اس پر حافظ ابن کثیر نے بھی اعتماد کیا ہے اور اس کو اپنی تفسیر میں درج کیا ہے اور اس حدیث سے حسب ذیل امور ثابت ہوتے ہیں۔ 

1 ۔ گناہ کی ترگیب کے موقع پر اللہ کو یاد کرکے اس کے خوف سے گناہ کو ترک کردینا دو جنتوں کے حصول کا سبب ہے۔

2 ۔ نیک مسلمان اپنی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں سے بہرہ اندوز ہوتے ہیں۔ 

3 ۔ نیک مسلمانوں اور اولیاء اللہ کی قبروں کی زیارت کے لیے جانا حضرت عمر (رض) کی سنت ہے۔

4 ۔ کسی فوت شدہ مسلمان کی تعزیت کے لیے اس کے والدین اور اعزہ کے پاس جانا حضرت عمر کا طریقہ ہے۔

5 ۔ صاحب قبر سے کلام کرنا اور صاحب قبر کا جواب دینا، اس حدیث سے یہ دونوں امر ثابت ہیں۔ 

6 ۔ جن احادیث میں ہے کہ قبر والے ایسا جواب نہیں دیتے جن کو تم سن سکو، ان کا معنی یہ ہے کہ تم ان کا جواب عادۃ نہیں سن سکتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 201