أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ عِنۡدَ رَبِّكَ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِهٖ وَيُسَبِّحُوۡنَهٗ وَلَهٗ يَسۡجُدُوۡنَ ۩۞

ترجمہ:

بیشک جو آپ کے رب کی بارگاہ کے مقربین ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں ۞ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” بیشک جو آپ کے رب کی بارگاہ کے مقربین ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں “

فرشتوں کی کثرت عبادت سے انسان کو عبادت پر ابھارنا 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کی تلقین کی تھی اور دائماً ذکر کرنے کی ترغیب دی تھی اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ذکر کے محرکات اور بواعث کو مزید تقویت دی ہے اور فرمایا جو آپ کے رب کی بارگاہ کے مقربین ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ فرشتے بہت مکرم اور مشرف ہیں اور طاہر اور معصوم ہیں وہ شہوت اور غضب کے محرکات سے بری ہیں اور کینہ اور حسد کے بواعث سے منزہ ہیں، ان اوصاف اور کمالات کے باوجود جب وہ دائماً اللہ عزوجل کی عبادت کرتے ہیں اور خضوع اور خشوع سے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور انسان جو کہ جسمانی ظلمتوں اور بشری کثافتوں کا مرقع ہے اور شہوت اور غضب کے تقاضوں کی آماجگاہ ہے تو وہ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی زیادہ عبادت کرے۔ فرشتوں کی اطاعت اور عبادت کے متعلق قرآن مجید کی اور بھی آیات ہیں : ” لایصون اللہ ما امرھم و یفعلون ما یومرون : وہ اللہ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے، وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے ” (التحریم :6)

وما منا الا لہ مقام معلوم۔ وانا لنحن الصافون۔ وانا لنحن المسبحون : اور ہم (فرشتوں) میں سے ہر ایک کے لیے اس کے قیام کی جگہ مقرر ہے۔ اور بیشک ہم ہی صف باندھنے والے ہیں۔ اور بیشک ہم ہی تسبیح کرنے والے ہیں۔ (الصافات :164 ۔ 166)

وتری الملائکۃ حافین من حول العرش یسبحون بحمد ربہم : اور آپ فرشتوں کو دیکھیں گے کہ وہ عرش الٰہی کے گرد حلقہ باندھے ہوئے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہوں گے۔ 

فرشتوں کی کثرت عبادت ان کی افضیلت کو مستلزم نہیں 

قرآن مجید کی اس آیت میں فرشتوں کی طہارت اور عصمت اور قدرومنزلت کے باوجود ان کی اطاعت اور عبادت کو بیان کرکے عام مسلمانوں کو اللہ کی اطاعت اور عبات پر برانگیختہ فرمایا ہے۔ ان آیات کا یہ مطلب نہیں ہے کہ فرشتے انبیاء (علیہم السلام) سے افضل ہیں کیونکہ ان آیات میں خطاب عام مسلمانوں کی طرف متوجہ ہے اور جہاں تک افضیلت کا تعلق ہے تو ہمارے متکلمین نے تصریح کی ہے کہ رسل بشر رسل ملائکہ سے افضل ہیں اور رسل ملائکہ عامۃ البشر سے افضل ہیں اور عامۃ البشر (نیک مسلمان) عامۃ الملائکہ سے افضل ہیں اور جہاں تک فرشتوں کی کثرت عبادت اور اطاعت کا معاملہ ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ فرشتوں میں شہوت اور غضب کا مادہ نہیں رکھا گیا اور ان میں بھوک اور پیاس اور دیگر انسانی اور بشری تقاضے نہیں رکھے گئے، اور ان کو اطاعت اور عبادت سے روکنے اور منع کرنے والی کوئی چیز نہیں، نہ ان پر کسی کی کفالت کی ذمہ داری ہے، اور انسان کے ساتھ یہ تمام عوارض ہیں سو ان عوارض اور ان تقاضوں کے باوجود انسان کا گناہوں سے رکنا اور اللہ کی عبادت کرنا فرشتوں کی عبادت سے کہیں افضل ہے جو ان عوارض اور موانع کے بغیر عبادت کرتے ہیں۔ حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے ولہ یسجدون کا تعارض اور اس کے جوابات 

اس آیت کے آخر میں فرمایا ہے اور فرشتے اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔ اس آیت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس آیت کا تقاض ایہ ہے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو سجدہ نہیں کرتے حالانکہ فرشتوں نے حضرت ادم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا تھا امام رازی نے امام غزالی سے اس سوال کا یہ جواب نقل کیا ہے کہ زمین کے فرشتوں نے حضرت آدم کو سجدہ کیا تھا اور آسمان کے عظیم فرشتوں نے حضرت آدم کو سجدہ نہیں کیا تھا۔ اس لیے اثبات اور نفی کے محل الگ الگ ہیں۔ پھر امام رازی نے خود اس سوال کا یہ جواب دیا ہے کہ اس آیت میں نفی عموم ہے اور حضرت آدم کے قصہ میں خاص فرشتوں کے سجدہ کا ذکر ہے اور خاص عام پر مقدم ہوتا ہے۔ (تفسیر کبیر ج 5، ص 446، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ)

امام غزالی اور امام رازی کی عظمتیں مسلم ہیں لیکن میرے نزدیک اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں سجدہ عبودیت کی نفی ہے یعنی فرشتے اللہ کے سوا کسی کو عبادت کا سجدہ نہیں کرتے اور حضرت آدم (علیہ السلام) کو فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے سجدہ تعظیم کیا تھا، اور اب یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ حضرت آدم کو صرف زمینی کے فرشتوں نے سجدہ کیا تھا جب کہ قرآن مجید میں یہ تصریح ہے کہ حضرت آدم کو سب فرشتوں نے سجدہ کیا تھا۔ فسجد الملائکۃ کلہم اجمعون الا ابلیس (الحجر :30) تو ابلیس کے سوا سب کے سب فرشتوں کے اکٹھے ہو کر آدم کو سجدہ کیا نیز البقرہ : 34 کی تفسیر میں خود امام رازی نے یہ تصریح کی ہے کہ اکثرین کا مذہب یہ ہے کہ سب فرشتوں نے حضرت آدم کو سجدہ کیا تھا اور اس پر دو دلیلیں ہیں ایک یہ کہ سورة الحجر کی آیت میں جمع کا صیغہ ہے پھر اس کو کل اور اجمعون کی تاکیدات سے موکد کیا ہے۔ اور دوسری دلیل یہ ہے کہ اس آیت میں صرف ابلیس کا استثناء کیا ہے، اور پھر لکھا ہے کہ البتہ بعض لوگوں نے اس کا انکار کیا اور کہا کہ صرف زمین کے فرشتوں نے حضرت آدم کو سجدہ کیا تھا اور انہوں نے اس کو مستبعد جانا کہ اکابر ملائکہ کو حضرت آدم کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیا جائے۔ تفسیر کبیر ج 1، ص 448، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ)

اس لیے محفوظ جواب یہی ہے کہ سب فرشتوں نے حضرت آدم کو سجدہ تعظیم ادا کیا تھا اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو فرشتے سجدہ عبادت نہیں کرتے اور سیاق کلام بھی اسی کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تلقین کی جا رہی ہے کہ فرشتے اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں اس کے غیر کو سجدہ عبادت نہیں کرتے۔

سجدہ تلاوت کی تحقیق 

سورۃ الاعراف کی یہ آخری آیت ہے اور قرآن مجید میں یہ پہلی آیت سجدہ ہے اور آخری آیت سجدہ سورة العلق کی آخری آیت ہے واسجد واقترب (العلق :19) ۔ آیات سجدہ کے متعلق فقہاء کے دو قسم کے اختلاف ہیں، ایک اختلاف اس میں ہے کہ آیت سجدہ کا حکم کیا ہے آیا اس آیت کو پڑھنے یا سننے کے بعد اس آیت پر سجدہ کرنا سنت ہے ویا واجب ؟ اور دوسرا اختلاف آیات سجدہ کی تعداد میں ہے۔ ہم پہلے آیات سجدہ کے حکم میں فقہاء کا اختلاف بیان کریں گے اور پھر ان کی تعداد میں فقہاء کے مذاہب بیان کریں گے۔

سجدہ تلاوت کے حکم میں مذاہب فقہاء 

امام مالک بن انس اصبحی متوفی 179 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

عروہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الکطاب (رض) نے جمعہ کے دن منبر کے اوپر سجدہ کی آیت تلات کی پھر منبر سے اتر کر سجدہ کیا اور مسلمانوں نے بھی ان کے ساتھ سجدہ کیا، دوسرے جمعہ کو پھر اس آیت کو پڑھا تو مسلمان سجدہ کے لیے تیار ہوئے، حضرت عمر نے کہا اپنی جگہ بیٹھے رہو، بیشک اللہ نے ہم پر اس سجدہ کو فرض نہیں کیا مگر یہ کہ ہم سجدہ کرنا چاہیں پھر حضرت عمر نے سجدہ نہیں کیا اور لوگوں کو سجدہ کرنے سے منع کیا۔ (موطا امام مالک رقم الحدیث : 482، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1409) 

امام ابو اسحاق ابراہیم بن علی فیروز آبادی شیرازی شافعی متوفی 455 ھ لکھتے ہیں : قرآن کی تلاوت کرنے والے اور اس کو غور سننے والے دونوں کے لیے سجدہ تلاوت مشروع ہے، کیونکہ حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کرتے اور جب سجدہ کی ایت سے گزرتے تو اللہ اکبر کہہ کر سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے، اور اگر قرآن پڑھنے والا سجدہ تلاوت ادا نہ کرے تو اس کو غور سے سننے والا سجدہ کرے، کیونکہ سجدہ دونوں کی طرف متوجہ ہوا ہے توا یک کے سجدہ ترک کرنے کی وجہ سے دوسرا سجدہ کو ترک نہ کرے، اور جس شخص نے کسی شخص سے تلاوت سنی لیکن وہ اس کو غور سے نہیں سن رہا تھا (آیت سجدہ کی طرف متوجہ نہ تھا) تو اس کے متعلق امام شافعی نے کہا میں اس پر سجدہ کرنے کی ایسی تاکید نہیں کرتا جیسے میں غور سے سننے والے کو سجدہ کرنے کی تاکید کرتا ہوں۔ کیونکہ حضرت عمر اور حضرت عمران بن حصیں (رض) نے فرمایا سجدہ اس پر ہے جو غور سے سنے اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا سجدہ اس پر ہے جو اس کے لیے بیٹھے۔ اور سجدہ تلاوت کرنا سنت ہے واجب نہیں ہے۔ کیونکہ حضرت زید بن ثابت (رض) نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سورة والنجم پڑھی تو ہم میں سے کسی شخص نے سجدہ نہیں کیا۔ (المہذب ج 1، ص 85، مطبوعہ دار الفکر بیروت)

علامہ موفق الدین عبداللہ بن قدامہ مقدسی حنبلی متوفی 620 ھ لکھتے ہیں : 

سجدہ تلاوت واجب نہیں ہے کیونکہ حضرت زید بن ثابت (رض) نے کہا میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سورة النجم پڑھی تو ہم میں سے کسی نے بھی سجدہ نہیں کیا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) اور حضرت عمر نے کہا اے لوگو ! ہم آیات سجدہ کے ساتھ گزرتے تھے تو جو سجدہ کرلیتا وہ درست کرتا اور جو سجدہ نہیں کرتا اس پر کوئی گناہ نہیں تھا اور اللہ تعالیٰ نے ہم پر سجدہ تلاوت فرض نہیں کیا۔ (الکافی ج 1، ص 271 ۔ 272، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، 1414 ھ)

علامہ علی بن ابی بکر المرغینانی الحنفی متوفی 593 ھ لکھتے ہیں۔ 

تلاوت کرنے والے پر اور سننے والے پر سجدہ تلاوت ادا کرنا واجب ہے خواہ اس نے سننے کا قصد کیا ہو یا نہیں۔ کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : سجدہ اس پر ہے جو اس کو سنے اور جو اس کی تلاوت کرے۔ لفظ ” علی ” وجوب کے لیے آتا ہے اور حدیث میں قصد کی قید نہیں ہے۔ (ہدایہ اولین ص 163، مطبوعہ شر کہ علمیہ ملتان)

علامہ المرغینانی نے جو حدیث نقل کی ہے وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نہیں بلکہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کا قول ہے۔ امام ابوبکر عبداللہ بن حمد بن ابی شیبہ العبسی المتوفی 235 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ سجدہ صرف اس شخص پر ہے جو آیت سجدہ کو سنتا ہے۔ (المصنف ج 2، ص 6، مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی، 1406 ھ)

حفص نے بیان کیا کہ ابراہیم نخعی، نافع اور سعید بن جبیر نے یہ کہا کہ جس شخص نے آیت سجدہ کو سنا اس پر سجدہ کرنا لازم ہے۔ (المصنف ج 2، ص 5، مطبوعہ ادارۃ القرآن، کراچی، 1406 ھ)

سجدہ تلاوت کے وجوب پر امام ابوحنیفہ (رح) نے ان آیات سے بھی استدلال کیا ہے : ” واذا قرء علیہم القران لا یسجدون : اور جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ سجدہ نہیں کرتے ” (الانشقاق :21)

اس آیت میں سجدہ نہ کرنے پر مذمت کی گئی ہے اور مذمت واجب کے ترک کرنے پر ہوتی ہے۔ 

فاسجدوا للہ واعبدوا : پس اللہ کے لیے سجدہ کرو اور اس کی عبادت کرو۔ (النجم :62)

واسجد واقترب : آپ سجدہ کریں اور (ہم سے مزید) قریب ہوں۔ (العلق)

ان دونوں آیتوں میں سجدہ کا امر کیا ہے اور امر وجوب کے لیے آتا ہے سو ان آیات سے ثابت ہوا کہ سجدہ تلاوت ادا کرنا واجب ہے۔ 

سجدہ تلاوت کی تعداد میں مذاہب فقہاء 

امام مالک بن انس اصبحی متوفی 179 ھ لکھتے ہیں : 

ہمارے نزدیک عزائم سجود القرآن گیارہ سجدے ہیں ان میں سے مفصل (الحضرات سے آخرت قرآن تک) میں کوئی سجدہ نہیں ہے۔ (یعنی النجم، الانشقاق اور العلق کے سجدات) (الموطا ص 127، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1409)

علامہ ابو الولید سلیمان بن خلف باجی اندلسی مالکی متوفی 494 ھ لکھتے ہیں : 

امام مالک (رح) اور ان کے جمہور اصحاب کا یہی مذہب ہے، حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر (رض) کا بھی یہی قول ہے اور ابن وہب نے کہا عزائم سجود القرآن چودہ سجدے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔ اور ابن حبیب نے کہا عزائم السجود پندرہ سجدے ہیں انہوں نے سورة حج کا دوسرا سجدہ بھی شامل کرلیا۔ (المنتقی ج 1، ص 351، مطبوعہ دار الکتاب العربی، بیروت)

علامہ ابوبکر محمد بن عبداللہ المعروف بابن العربی المالکی متوفی 543 ھ لکھتے ہیں : 

قرآن مجید میں پندرہ سجدے ہیں۔ پہلا سجدہ سورة الاعراف کی آخری آیت میں ہے ولہ یسجدون (الاعراف :206) ۔ دوسرا سجدہ وظلا لہم بالغدو والاصال (الرعد :15) ۔ تیسرا سجدہ ویفعلون ما یومران (النح :50) ۔ چوتھا سجدہ ویزیدھم خشوعا (بنی اسرائیل :109) ۔ پانچواں سجدہ خروا سجدا وب کیا (مریم :58) ۔ چھٹا سجدہ یفعل ما یشاء (الحج :18) ۔ ساتواں سجدہ تفلحون (الحج :77) ۔ آٹھواں سجدہ نفورا (الفرقان :60) ۔ نواں سجدہ رب العرش العظیم (النمل :26) ۔ دسواں سجدہ وھم لایستکبرون (السجدہ :15) ۔ گیارہواں سجدہ۔ خر راکعا واناب (ص :24) ۔ بارھواں سجدہ ان کنتم ایاہ تعبدون (حم السجدہ :15) ۔ تیرھواں سجدہ واعبدوا (النجم : 62) چودھواں سجدہ لایسجدون (الانشقاق :21) ۔ پندرھواں سجدہ، واسجد واقترب (العلق :19) ۔ (احکام القرآن ج 4، ص 368 ۔ 369، دار الکتب العلمیہ بیروت، 1408 ھ)

امام ابو اسحاق ابراہیم بن علی فیروز آبادی شافعی متوفی 455 ھ لکھتے ہیں : 

امام شافعی کا قول جدید یہ ہے کہ سجدات التلاوات چودہ سجدے ہیں (علامہ ابن العربی مالکی کے حوالے سے جو ہم نے پندرہ ایات سجدہ ذکر کی ہیں ان میں سورة ص 24، کے علاوہ باقی وہی ایات سجدہ ہیں) اور اس پر دلیل یہ ہے کہ حضرت عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے قرآن مجید میں پندرہ سجدوں کی تعلیم دی۔ ان میں سے تین مفصل میں ہیں، دو حج میں ہیں اور امام شافعی کا قول قدیم یہ ہے کہ سجود تلاوت گیارہ سجدے ہیں۔ اور انہوں نے مفصل کے تین سجدے ساقط کردیے کیونکہ حضرت ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ جب سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں ہجرت فرمائی آپ نے مفصل کی کسی آیت پر سجدہ نہیں کیا۔ (مفصل کے سجدات سے مراد النجم، الانشقاق اور العلق کے سجدات ہیں) ۔ (المہذب ج 1، ص 85، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

علامہ موفق الدین عبداللہ بن قدامہ مقدسی حنبلی متوفی 620 ھ لکھتے ہیں : 

سجدات القرآن چودہ سجدے ہیں ( سورة ص کے سجدہ کے علاوہ باقی مذکورہ سجدات) ان میں سے دو سجدے الحج میں ہیں اور تین مفصل میں ہیں۔ امام احمد سے ایک روایت یہ ہے کہ پندرہ سجدے ہیں، ان میں سے ایک ص کا سجدہ ہے، کیونکہ حضرت عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو پندرہ سجدوں کی تعلیم دی، ان میں سے تین مفصل میں ہیں اور دو سجدے الحج میں ہیں۔ (سنن ابو داود) اور صحیح یہ ہے کہ سورة ص کا سجدہ عزائم سجود میں سے نہیں ہے کیونکہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا سورة ص عزائم سجود میں سے نہیں ہے۔ (سنن ابو داود)

تمام آیات سجدات اجماع سے ثابت ہیں سوائے مفصل کے سجدات کے اور الحج کے دوسرے سجدہ کے اور یہ سجدے حضرت عمرو بن العاص کی حدیث سے ثابت ہیں، اور حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا : یا رسول اللہ کیا الحج میں دو سجدے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں اور جس نے یہ دو سجدے نہیں کیے اس نے ان کو نہیں پڑھا۔ (ابو داودد) ۔ (الکافی ج 1، ص 272، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1414 ھ)

علامہ علاء الدین ابوبکر بن مسعود الکاسانی الحنفی المتوفی 587 ھ لکھتے ہیں : 

قرآن مجید میں چودہ سجدے ہیں۔ وہ یہ ہیں۔ 1، الاعراف۔ 2، الرعد۔ 3، النحل۔ 4، بنی اسرائیل۔ 5، مریم۔ 6، الحج کا پہلا سجدہ۔ 7، الفرقان۔ 8، النمل۔ 9، الم تنزیل السجدہ۔ 10، ص۔ 11 ۔ حم السجدہ۔ 12، النجم۔ 13، الانشقاق۔ 14، اقراء۔ اس کی تعداد میں دیگر فقہاء سے ہمارے تین اختلاف ہیں، پہلا اختلاف یہ ہے امام شافعی، امام احمد اور بعض فقہاء مالکیہ کے نزدیک سورة الحج کا دوسرا سجدہ (ارکعوا واسجدوا (الحج : 77) بھی سجدہ تلاوت ہے اور ہمارے نزدیک وہ نماز کا سجدہ ہے۔ (جن احادیث سے ان ائمہ نے استدلال کیا ہے وہ ضعفی ہیں۔ فتح القدیر میں تفصیل کے ساتھ ان کی وجہ ضعف بیان کی گئی ہے) ہماری دلیل یہ ہے کہ حضرت ابی بن کعب (رض) نے ان سجدات کو شمار کیا جو انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنے تھے اور سورة الحج کا ایک سجدہ شمار کیا اور حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا سجدہ تلاوت الحج میں پہلا سجدہ ہے اور دوسرا نماز کا سجدہ ہے۔ نیز جب سجدہ کا رکوع کے ساتھ ذکر ہو تو اس سے مراد نماز کا سجدہ ہوتا ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے واسجدی وارکعی۔ (آل عمران : 43)

دوسرا اختلاف اس میں ہے کہ سورة ص کا سجدہ ہمارے نزدیک سجدہ تلاوت ہے اور امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک وہ سجدہ شکر ہے۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ حضرت عثمان (رض) نے نماز میں سورة ص پڑھی اور سجدہ تلاوت کیا اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ سجدہ تلاوت کیا، صحابہ کرام کی ایک جماعت کے ساتھ یہ سجدہ ہوا اور اس پر کسی نے انکار نہیں کیا، اگر یہ سجدہ واجب نہ ہوتا تو اس کو نماز میں داخل کرنا جائز نہ ہوتا۔ نیز روایت میں ہے کہ ایک صحابی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے خواب میں دیکھا کہ میں سورة ص پڑھ رہا ہوں جب میں سجدہ کی جگہ پر پہنچا تو دوات اور قلم نے سجدہ کیا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہم دوات اور قلم کی بہ نسبت سجدہ کرنے کے زیادہ حقدار ہیں پھر آپ نے اس مجلس میں سورة ص کو پڑھنے کا حکم دیا پھر آپ نے اور آپ کے اصحاب نے اس آیت پر سجدہ کیا۔ (اس حدیث کا امام ترمذی اور امام حاکم نے ذکر کیا ہے اور اس میں دوات اور قلم کی جگہ درخت کا ذکر ہے اور اس میں درخت کی اس دعا کا ذکر ہے۔ اے اللہ ! مجھ سے اس سجدہ کو اس طرح قبول فرما جس طرح تو نے اس سجدہ کو اپنے بندہ داود سے قبول کیا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 579، المستدرک ج 1، ص 219 ۔ 220)

تیسرا اختلاف یہ ہے کہ ہمارے نزدیک مفصل (النجم، الانشقاق، العلق) میں تین سجدے ہیں، اس میں امام مالک کا اختلاف ہے۔ ہماری دلیل حضرت عمران بن حصین کی حدیث ہے جس میں یہ تصریح ہے کہ مفصل میں تین سجدے ہیں۔ (بدائع الصنائع ج 2، ص 3 ۔ 6، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، 1418 ھ)

حرف آخر 

الحمد للہ علی احسانہ آج بہ روز منگل مورخہ 18 شعبان 1419 ھ/ 8 نومبر 1998 ء کو بعد از نماز ظہر سورة الاعراف کی تفسیر مکمل ہوگئی۔ الٰہ العالمین جس طرح ان سورتوں کی تفسیر کو آپ نے مکمل کرا دیا ہے قرآن مجید کی باقی سورتوں کی تفسیر کو بھی مکمل کرا دیں، اور اس کتاب کو اپنی بارگاہ میں مقبول فرمائی، اس کو تاقیام قیامت فیض آفریں رکھیں، اس کو موافقین کے لیے باعث استقامت اور مخالفین کے لیے باعث ہدایت بنائیں اور اس کتاب کو اور میری باقی کتابوں کو مخالفین کے شر اور فساد سے محفوظ رکھیں، اور محض اپنے فضل سے میری مغفرت فرما دیں۔ امین یا رب العالمین بجاہ حبیبک سیدنا محمد خاتم النبیین صلوات اللہ علیہ وعلی الہ الطاہرین و اصحابہ الکاملین وازواجہ امھات المومنین والعلماء الراسخین والاولیاء العارفین۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 206