جہنم میں لے جانے والا عمل

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ’’ مَا سَلَکَکُمْ فِیْ سَقَرٍ قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ المُصَلِّیْنَ‘‘

تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی، وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے۔ (کنز الایمان)

صاحب’’ ضیاء القرآن‘‘ علامہ پیر کرم شاہ ازہری علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ ’’اہل جنت دوزخیوں سے پوچھیں گے تمہیں کس جرم کی پاداش میں جہنم کے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا گیا ؟ وہ جواب دیں گے ہمارے دوقصور تھے جن کی ہم یہ سزا بھگت رہے ہیں ( جن میں سے ایک یہ ہے ) کہ اپنے ربِّ کریم کو سجدہ نہیں کرتے تھے۔ اکڑے اکڑے رہتے تھے کبھی بھولے سے بھی یہ خیا ل نہ آتا تھا کہ جس کریم کے کرم کے صدقے یہ زندگی عزت و آرام سے گزر رہی ہے اسے سجدہ بھی کرنا چاہئے، اس کی عبادت بھی ضروری ہے ‘‘۔

میرے پیارے آقاﷺ  کے پیارے دیوانو!آپ نے نماز ترک کرنے والے کا انجام دیکھا؟ غور کریں رزق خداکھا کر اسی کی بارگا ہ میں اگر سر جھکانے کے لئے وقت نہ ملتاہو تو اس کا انجام یقینا یہی تو ہوگا۔ لہٰذا خداراجہنم کے سخت ترین عذاب سے بچنے کی فکر ہو تو ترک نماز کے گناہ سے باز آجائو۔ اللہد ہم سب کو نماز کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔

تارکین صلوٰۃ کیلئے ’’غَیّْ‘‘ ہے

رب قدیر کافرمان ہے : فَخَلَفَ مِنْ م بَعْدِھِمْ خَلْفٌ اَضَا عُوْا الصَّلوٰۃَ وَاتَّبعُوْا الشَّھَوٰتِ فَسَوْفَ یُلْقَوْن غَیًّاo ترجمہ : ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلَف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں اور اپنی خواہش کے پیچھے ہوئے عنقریب دوزخ میں غی کا جنگل پائیں گے۔

میرے پیارے آقاﷺ  کے پیارے دیوانو! انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام ہر لحظہ جلال خداوندی سے ترساں اور لرزاں رہتے اور آنکھیں اشک فشاں رہتیںلیکن ان کے بعد بعض جانشین ایسے بھی ہوئے جنہوں نے اپنے اسلاف کرام کے طریقہ کو بالکل فراموش کردیا مستحبات و مندوبات کی پابندی تو کجا! نماز جیسے فرض کو بھی انہوں پسِ پشت ڈال دیا یا تو سرے سے اس کی فرضیت ہی کے قائل نہ رہے یا فرضیت کا انکار تو نہیں کیالیکن اسے ادا کرنے کی زحمت گوارانہ کی یا اسے اداتو کیا لیکن اس کے آداب و شرائط کو نظر اندازکردیا اور اِرشادات ِ الٰہی د کی بجا آوری کی جگہ اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی میں لگ گئے۔ وہ یاد رکھیں انہیں اپنے کئے کی سزا بھگتنی پڑے گی۔

میرے پیارے آقاﷺ  کے پیارے دیوانو! اللہ نے اس آیت کریمہ میںتین چیزوں کا ذکر فرمایا (۱) نماز کوضائع کیا۔ یعنی ترکِ صلوٰۃاور بے رغبتی سے فاسق ہوئے، یا بے وقت اور غلط پڑھ کر فاجر ہوئے، یا نماز تو صحیح پڑھی مگر غیبت، چغلی، حسد و بغض کرکے اپنے نامۂ اعمال سے نیکیاں برباد کرکے خاسر ہوئے یہ تما م صورتیںنماز کوضائع کرنے کی ہیں۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیںکہ ضائع کرنے کا معنیٰ یہ نہیں کہ بالکل نمازپڑھتے ہی نہیں بلکہ یہ کہ اس کومؤخرکرکے پڑھتے ہیں۔

دوسری چیز جو اس آیت کریمہ میں مذکور ہے وہ یہ ہے کہ خواہشات نفسانی میں پڑگئے سب سے بڑی خواہش نفس کفرو شرک ہے۔

تیسری چیز جس کا ذکر اس آیت میں ہے وہ یہ ہے کہ’’ غَیّ‘‘ میں ڈالے جائیں گے ایسوں کے لئے دنیا میں بھی غی ہے اور آخرت میں بھی، دنیوی ’’غی‘‘ ذلّت، خسارہ اور شر ہے۔ اُخروِی’’ غی‘‘، جہنم کی ایک سب سے نیچے والی وادی جس کے سخت عذا ب سے دوزخ کے دوسرے طبقے خودپناہ مانگتے ہیں یا جہنم کا ایک کنواں جو بہت گہرا ہے یا جہنم کی ایک بڑی نالی جس میں جہنمیوں کی پیپ و خون، بول و براز اور اس کی بدبو کا عذاب ہوگا۔ واضح رہے کہ یہ عذاب اس شخص کیلئے ہے جو توبہ کئے بغیر مرجائے۔

میرے پیارے آقاﷺ  کے پیارے دیوانو! کتنی بھیانک وادیٔ’’ غی‘‘ ہے ؟ کیا ہم میں سے کوئی اس کا عذاب برداشت کرسکتا ہے ؟ نہیں اورہرگز نہیں، تو ہمیں چاہئے کہ نماز ضائع کرنے کے جرم، خواہشات کی پیروی کے جرم سے اپنے آپ کو بچانے کا سامان کریں۔ اللہد جملہ مسلمین و مسلمات کو نمازوں کی محافظت اور ترک شہوات کی توفیق رفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم۔