أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خُذِ الۡعَفۡوَ وَاۡمُرۡ بِالۡعُرۡفِ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡجٰهِلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ عفو و درگزر کا طریقہ اختیار کیجیے اور نیکی کا حکم دیجے اور جاہلوں سے اعراض کیجیے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” آپ عفو و درگزر کا طریقہ اختیار کیجیے اور نیکی کا حکم دیجے اور جاہلوں سے اعراض کیجیے ” 

آیات سابقہ سے ارتباط 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور نیک مسلمانوں کا حامی وناصر ہے، اور بت اور ان کے پجاری کسی کو نفع یا نقصان پہنچانے پر قادر نہیں ہیں۔ اور اب اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے ساتھ سلوک کرنے کا صحیح اور معتدل طریقہ بیان فرمایا ہے، کیونکہ صالح اور نیک ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کے ساتھ ساتھ مخلوق کے ساتھ بھی نیک سلوک کیا جائے اور حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی رعایت کی جائے۔ 

معاف کرنے، نیکی کا حکم دینے اور جاہلوں سے اعراض کرنے کے الگ الگ محامل 

بندوں کے حقوق کی تفصیل یہ ہے کہ بعض چیزوں میں ان سے تساہل اور درگزر کرنا مستحسن ہے اور بعض چیزوں میں ان سے اغماض اور چشم پوشی کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر کسی شخص کو کوئی انسان ذاتی نقصان پہنچائے تو اس کو معاف کردینا مستحسن ہے اور اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کرے اور حدود اللہ کو پامال کرے تو اس کے ساتھ مداہنت کرنا جائز نہیں ہے، اس لیے معاف کرنے کے حکم کا تعلق انسان کے ذاتی معمالت سے ہے اور جہاں اللہ تعالیٰ کے احکام سے بغاوت اور روگردانی کا معاملہ ہو وہاں نیکی کا حکم دینا اور برائی پر ٹوکنا ضروری ہے، اور اگر نیکی کا حکم دینے پر کوئی شخص بدتمیزی اور جہالت سے پیش آئے تو پھر اس سے اعراض کرنے کا حکم ہے۔ 

امام ابن جریر طبری متوفی 310 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جبرئیل سے پوچھا : اے جبرئیل اس کا کیا معنی ہے ؟ حضرت جبرئیل نے کہا میں اللہ تعالیٰ سے پوچھ کر بتاؤں گا، پھر کہا اللہ تعالیٰ آپ کو یہ حکم دیتا ہے کہ جو آپ پر ظلم کرے اس کو معاف کردیں جو آپ کو محروم کرے اس کو عطا کریں اور جو آپ سے تعلق توڑے اس سے آپ تعلق جوڑیں۔ (جامع البیان جز 9، ص 207، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)

امام احمد بن حنبل متوفی 241 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میری رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا اے عقبہ بن عامر جو تم سے تعلق توڑے، تم اس سے تعلق جوڑو اور جو تم کو محروم کرے اس کو عطا کرو، اور جو تم پر ظلم کرے اس کو معاف کردو۔ میں دوبارہ ملاقات کے لیے گیا تو آپ نے فرمایا اے عقبہ بن عامر ! اپنی زبان پر قابو رکھو، اپنے گناہوں پر روؤ اور تمہارے گھر میں گنجائش رہنی چاہیے۔ (مسند احمد ج 6، رقم الحدیث : 17458، 17457 ۔ شیخ احمد شاکر نے کہا ہے اس حدیث کی سند صحیح ہے، مسند احمد ج 13، رقم الحدیث : 17383)

عفو اور درگزر کرنے کے متعلق قرآن مجید کی آیات 

والذین یجتنبون کبائر الاثم والفواحش واذا ما غضبوا ھم یغفرون : اور جو لوگ کبیرہ گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے اجتناب کرتے ہیں اور جب وہ غضبناک ہوں تو معاف کردیتے ہیں۔ (الشوری :37)

ولمن صبر و غفر ان ذلک لمن عزم الامور : اور جو صبر کرے اور معاف کردے تو یقینا یہ ضرور ہمت کے کاموں سے ہے (الشوری :43)

وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلہا فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ : اور برائی کا بدلہ اسی کی مثل برائی ہے، پھر جو معاف کردے اور نیکی کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ (کرم پر) ہے۔ (الشوری :40)

وان تعفوا و تصفحوا و تغفروا فان اللہ غفور رحیم : اور اگر تم معاف کردو، اور درگزر کرو اور بخش دو تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے : (التغابن :22)

ولیعفوا ولیصفحوا الاتحبون ان یغفر اللہ لکم : اور انہیں چاہیے کہ وہ معاف کردیں اور درگزر کریں (اے ایمان والو) کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے۔ (النور :22)

فاعف عنہم واصفح ان اللہ یحب المحسنین : آپ ان کو معاف کردیجئے اور ان سے درگزر کیجئے، بیشک اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے (النور : 13)

عفو اور درگزر کرنے کے متعلق احادیث 

حضرت معاذ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اپنے غضب کے تقاضے کو پورا کرنے پر قادر ہو، اس کے باوجود وہ اپنے غصہ کو ضبط کرلے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا اور اس کو یہ اختیار دے گا کہ وہ جس بڑی آنکھوں والی حور کو چاہے لے لے۔ (سنن ابو داود رقم الحدیث : 4777 ۔ سنن الترمذی رقم الحدیث : 2028 ۔ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 4186 ۔ مسند احمد ج 5، رقم الحدیث : 15637)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تم کس شخص کو پہلون کہتے ہو ؟ ہم نے کہا جو لوگوں کو پچھاڑ دے۔ آپ نے فرمایا نہیں پہلوان وہ شخص ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔ (سنن ابو داود رقم الحدیث : 4779 ۔ صحیح مسلم البر والصلہ 106، (2608)

حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب بھی دو چیزوں کا اختیار دیا جاتا تو آپ ان میں سے آسان کو اختیار کرتے بشرطیکہ وہ گناہ ہو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی اپنی ذات کا انتقام نہیں لیا۔ البتہ اگر اللہ کی حدود پامال کی جاتیں تو آپ اللہ کی طرف سے انتقام لیتے۔ (سنن ابو داود رقم الحدیث : 4785 ۔ صحیح البخاری رقم الحدیث : 3560 ۔ صحیح مسلم فضائل 77 (2327) ۔ الموطا رقم الحدیث : 1671

حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی کسی خادم کو مارا نہ عورت کو۔ (سنن ابو داود رقم الحدیث : 4786)

حضرت ابوتمیمہ ھجیمی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کی کہ مجھے نصیحت فرمائیں تو آپ نے فرمایا کسی نیک کام کو حقیر نہ جاننا اور جب تم اپنے کسی بھائی سے ملاقات کرو، تو کشادہ جبیں اور مسکراتے ہوئے ملاقات کرو اور پانی مانگنے والے کو اپنے ڈول سے پانی دینا۔ اگر کسی شخص کو تمہارے کسی عیب کا علم ہو اور وہ تمہیں اس کے ساتھ برا کہے تو تمہیں اس کے جس عیب کا علم ہو تم اس کو اس کے عیب کے ساتھ برا نہ کہنا، تمہیں اس پر اجر ملے گا اور اسے اس کا گناہ ہوگا اور تم تکبر سے تہبند نہ لٹکانا کیونکہ اللہ عزوجل تکبر کو پسند نہیں کرتا اور کسی شخص کو گالی نہ دینا، میں نے اس کے بعد کسی کو گالی نہیں دی نہ بکری کو نہ اونٹ کو۔ (مسند احمد ج 7، رقم الحدیث : 20660، مطبوعہ دار الفکر طبع جدید)

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے قدرت کے باوجود کسی کو معاف کردیا تنگی کے دن اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردے گا۔ (المعجم الکبیر ج 7، رقم الحدیث : 7585)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درگزر کرنے کے متعلق احادیث 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں جنگ حنین کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے بعض لوگوں کو ترجیح دی۔ اقرع بن حابس اور عیینہ کو سو سو اونٹ دیے اور عرب کے سرداروں کو بھی عطا فرمایا، اور ان کو اس دن تقسیم میں ترجیح دی۔ ایک شخص نے کہا اللہ کی قسم ! اس تقسیم میں عدل نہیں کیا گیا، اور اس میں اللہ کی رضا جوئی کا قصد نہیں کیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا میں نے دل میں سوچا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی اطلاع ضرور دوں گا، میں آپ کے پاس گیا اور آپ کو اس واقعہ کی خبر دی۔ یہ سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ متغیر ہوگیا، پھر آپ نے فرمایا اگر اللہ اور اس کا رسول عدل نہیں کرے گا تو پھر کون عدل کرے گا۔ پھر آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ پر رحم فرمائے ان کو اس سے زیادہ اذیت پہنچائی گئی تھی تو انہوں نے صبر کیا تھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 4336 ۔ صحیح مسلم زکوۃ :140 (1062) 2408 ۔ مسند احمد ج 1، ص 380 ۔ 396)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میری ماں مشرکہ تھی میں اس کو اسلام کی دعوت دیتا تھا، ایک دن میں نے اس کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق بہت ناگوار اور بری باتیں کہیں جن سے میں بہت رنجیدہ ہوا، میں روتا ہوا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا یارسول اللہ ! میں اپنی ماں کو اسلام کی دعوت دیتا تھا اور وہ انکار کرتی تھی، آج میں نے اس کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے مجھے ایسی باتیں سنائیں جن سے مجھے بہت رنج ہوا آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت دے، آپ نے دعا کی اے اللہ ! ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت دے، آپ نے دعا کی اے اللہ ! ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت دے۔ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کی وجہ سے خوش خوش گھر لوٹا، ماں نے میرے قدموں کی آہٹ سنی تو کہا وہیں ٹھہرو اور میں نے پانی گرنے کی آواز سنی، اس نے غسل کیا، کپڑے بدلے، پھر کہا اے ابوہریرہ ! اشہدان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمدا عبدہ ورسولہ میں خوشی سے روتا ہوا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچا۔ میں نے کہا یارسول اللہ ! مبارک ہو، اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرلی اور ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت دے دی ہے آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کی اور فرمایا اچھا ہوا۔ (صحیح مسلم فضائل صحابہ 158 (2491) 6279)

امام ابن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صاحبزادی حضرت زینب (رض) کو ان کے شوہر ابوالعاص نے بدر کے بعد مدینہ منورہ کے لیے روانہ کیا، وہ اونٹ پر ھودج میں سوار تھیں، قریش مکہ کو ان کی روانگی کا علم ہوا تو انہوں نے حضرت زینب کا پیچا کیا حتی کہ مقام ذی طوی پر ان کو پالیا، ھبار بن الاسود نے ان کو نیزہ مارا حضرت زینب گرگئیں اور ان کا حمل ساقط ہوگیا۔ (السیرۃ النبویہ لابن ہشام ج 2، ص 465، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ھ)

حضرت جبیر بن مطعم (رض) بیان کرتے ہیں کہ جعرانہ سے واپسی پر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اچانک دروازہ سے ھبار بن الاسود داخل ہوا مسلمانوں نے کہا یارسول اللہ یہ ھبار بن الاسود ہے، آپ نے فرمایا میں نے اس کو دیکھ لیا، ایک شخص اس کو مارنے کے لیے کھڑا ہوا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اشارہ کیا کہ وہ بیٹھ جائے، ھبار کھڑا ہوا اور اس نے کہا السلام علیک یا نبی اللہ اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمدا رسول اللہ، یا رسول اللہ ! میں آپ سے بھاگ کر کوئی شہروں میں گرگیا اور میں نے سوچا میں عجم کے ملکوں میں چلا جاؤں، پھر مجھے آپ کی نرم دلی، صلہ رحمی اور دشمنوں سے آپ کا درگزر کرنا یاد آیا، اے اللہ کے نبی ہم مشرک تھے اللہ نے آپ کے سبب سے ہمیں ہدایت دی، اور ہم کو ہلاکت سے نجات دی۔ آپ میری جہالت سے درگزر فرمائیں اور میری ان تمام باتوں سے جن کی خبر آپ تک پہنچی ہے، میں اپنے تمام برے کاموں کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے تم کو معاف کردیا، اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا کہ تم کو اسلام کی ہدایت دے دی اور اسلام پچھلے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ (الاصابہ ج 6، ص 413، رقم : 8951، اسد الغابہ رقم : 2709 ۔ الاستیعاب رقم : 2710)

ایک ھبار بن الاسو کو معاف کردینے کی مثال نہیں ہے، آپ نے ابو سفیان کو معاف کردیا جس نے متعدد بار مدینہ پر حملہ کیا۔ وحشی کو معاف کردیا جس نے آپ کے عزیز چچا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کو شہید کیا تھا۔ ہند کو معاف کردیا جس نے حضرت حمزہ کا کلیجہ نکال کر دانتوں سے چبایا تھا، فتح مکہ کے بعد تمام ظالموں کو معاف کردیا۔ عبداللہ بن ابی جو رئیس المنافقین تھا جو آپ کو ہمیشہ اذیتیں پہنچاتا رہا، جس نے کہا تھا اپ کی سواری سے بدبو آتی ہے، جو غزوہ احد میں عین لڑائی سے پہلے اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ لشکر اسلام سے نکل گیا تھا، جس نے کہا تھا کہ مدینہ پہنچ کر عزت والے، ذلت والوں کو نکال دیں گے، جس نے آپ کے حرم محترم ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) پر تہمت باندھی اور آپ کو رنج پہنچایا۔ اس نے بھی جب مرتے وقت آپ کی قمیص اپنے کفن کے لیے منگوائی تو آپ نے عطا کردی، آپ سے نماز جنازہ پڑھانے کی درخواست کی تو آپ نے اس کی درخواست کو قبول فرما لیا۔ صفوان بن معطل، عمیر بن وہب، اور عکرمہ بن ابوجہل کو معاف کردیا۔ سراقہ کو امان لکھ دی اور بہت سے ظالموں اور ستم شعاروں کے مظالم اور ان کی جفاؤں سے اعراض کر کے انہیں معاف کردیا۔ غرض آپ کی پوری زندگی خذا العفو وامر بالمعرف واعرض عن الجاہلین سے عبارت تھی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 199