حدیث نمبر39

روایت ہے حضرت ابوحمید ساعدی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب نماز کے لیئے کھڑے ہوتے تو منہ کعبے کو کرتے اور اپنے ہاتھ اٹھاتے۲؎ اور اﷲ اکبر کہتے۔(ابن ماجہ)

شرح

۱؎ یہ حدیث بہت اسنادوں سے مروی:جن میں سے ایک اسنادتو وہ ہے جو امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے امام اوازعی کے مقابلے میں پیش کی جسے ہم پہلے بیان کرچکے ہیں”حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ عَلْقُمَۃ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ”یہ ایسی قوی اورصحیح اسناد ہے کہ اس میں ضعف کا شائبہ بھی نہیں آسکتا۔دوسری اسناد وہ جو امام ترمذی کی ہے۔وہ فرماتے ہیں”وَحَدِیْثُ اِبْنُ مَسْعُوْدٍ حَسَنٌ”یعنی حضرت ابن مسعود کی حدیث حسن ہے۔تیسری اسناد وہ جو ابوداؤد کو ملی جس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ صحیح نہیں لہذا یہ حدیث ضعیف نہیں،بلکہ ابوداؤدکی اسناد غیرصحیح ہے۔حدیث کا ضعف اور ہے اسناد کا ضعف کچھ اور۔خیال رہے کہ ابوداؤد بھی اس حدیث کو ضعیف نہیں کہتے،بلکہ فرماتے ہیں صحیح نہیں۔صحیح نہ ہونے سے ضعف لازم نہیں آتا اس کے نیچے حسن لعینہ،حسن لغیرہ وغیرہ بھی ہیں،نیز اگر ضعف بھی ہو تو دیگر احادیث سے اسے قوت پہنچے گی۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب “جاءالحق”حصہ دوم میں دیکھو۔

۲؎ اس طرح کہ کلائیاں کندھوں تک اور انگوٹھے کان تک پہنچ جاتےجیساکہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ غیر مکی کے لیے عین کعبہ کی طرف منہ کرنا فرض نہیں سمتِ کعبہ کافی ہے کیونکہ یہاں قبلہ فرمایا گیا نہ کہ کعبہ اورقبلہ سمتِ کعبہ کا نام ہے۔