أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاذۡكُرْ رَّبَّكَ فِىۡ نَفۡسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيۡفَةً وَّدُوۡنَ الۡجَـهۡرِ مِنَ الۡقَوۡلِ بِالۡغُدُوِّ وَالۡاٰصَالِ وَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡغٰفِلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اپنے رب کو اپنے دل میں خوف اور عاجزی کے ساتھ یاد کرو اور زبان سے آواز بلند کیے بغیر صبح اور شام کو یاد کرو اور غفلت کرنے والوں میں سے نہ ہوجاؤ

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور اپنے رب کو اپنے دل میں خوف اور عاجزی کے ساتھ یاد کرو اور زبان سے آواز بلند کیے بغیر صبح اور شام کو یاد کرو اور غفلت کرنے والوں میں سے نہ ہوجاؤ “

ذکر خفی کی فضیلت 

اس آیت میں یا تو خصوصیت کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے یا اس سے ہر سننے والا مخاطب مراد ہے، اس آیت میں دل سے اللہ کو یاد کرنے کا حکم دیا ہے یا آہستہ اور پست آواز سے ذکر کرنے کا حکم دیا ہے۔ 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے میں اپنے بندہ کے گمان کے موافق ہوں، اور میں اس کے اتھ ہوتا ہوں جب وہ میرا ذکر کرتا ہے، اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں، اور اگر وہ ایک جماعت میں میرا ذکر کرے تو میں اس سے بہتر جماعت میں اس کا ذکر کرتا ہوں، اگر وہ ایک بالشت میرے قریب ہو تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہو تو میں دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤ کے برابر اس کے قریب ہوتا ہوں، اور اگر وہ میرے پاس چلتا ہوا آئے تو میں اس کے پاس دوڑتا ہوا آتا ہوں۔ (صحیح مسلم الزکر 21، 2675، 6679 ۔ مسند احمد ج 2، ص 453، طبع قدیم۔ مسند احمد ج 8، رقم الحدیث : 8635، طبع قاہرہ)

آہستہ آہستہ ذکر کرنے یا دل میں ذکر کرنے کی فضیلت یہ ہے کہ آہستہ آہسہت ذکر کرنا اخلاص کے زیادہ قریب ہے اور اس کا قبول ہونا زیادہ متوقع ہے۔ اور ذکر فی نفسہ سے مراد یہ ہے کہ جن اذکار کا وہ زبان سے ذکر کررہا ہے ان کے معانی سے واقف ہو، اور اس کا دل ذکر کے معانی کی طرف متوجہ ہو اور اس کا ذہن اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلالت میں ڈوبا ہوا ہو، کیونکہ اگر وہ خالی زبان سے ذکر کرے اور دل اس کے معنی کے تصور، اس کی یاد، اور خضوع اور خشوع سے خالی ہو تو وہ ذکر بےسود ہے، بلکہ بعض علماء نے ذکر کیا ہے کہ ایسے ذکر سے کوئی ثواب نہیں ملتا۔ 

معتدل آواز کے ساتھ جہر بالذکر ممنوع نہیں ہے 

دون الجہر من القول زبان سے آواز بلند کیے بغیر اس کا معنی ہے چلا چلا کر ذکر نہ کیا جائے یا گلا پھاڑ کر ذکر نہ کیا جائے جیسے کوئی شخص بہرے سے بات کر رہا ہو یا کسی دور کھڑے ہوئے آدمی سے چلا کر بات کر رہا ہو۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے مسلمان بلند آواز کے ساتھ اللہ اکبر اللہ اکبر کہہ رہے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے لوگو ! اپنے نفسوں کے ساتھ نرمی کرو تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے تم سننے والے اور قریب کو پکار رہے ہو جو تمہارے ساتھ ہے، پھر آپ نے فرمایا در آنحالیکہ میں آپ کے پیچھے تاھ اور میں کہتا ہوں لاحول ولا قوۃ الا باللہ گناہوں سے بچنا اور نیکی کی طاقت اللہ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں پھر فرمایا اے عبداللہ بن قیس ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ کی رہنمائی نہ کروں، میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ! یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا کہو لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 6409 ۔ صحیح مسلم ذکر 44 (2704) 6735 ۔ سنن ابو داود رقم الحدیث : 1528، 1527، 1526 ۔ سنن الترمذی، رقم الحدیث : 3472 ۔ مسند احمد ج 4، ص 394، 403) ۔

اس حدیث سے واضح ہوگیا کہ آپ نے گلا پھاڑ کر اور چلا چلا کر ذکر کرنے سے منع فرمایا ہے اور قرآن مجید کی یہ آیت اور یہ حدیث معتدل آواز کے ساتھ ذکر بالجہر کے منافی نہیں ہے۔

ذکر کے لیے صبح اور شام کے اوقات کی تخصیص کی حکمت 

صبح اور شام کے اوقات کو ذکر کے ساتھ خاص فرمایا ہے، یوں تو ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہیے اور کسی وقت اس کے ذکر اور اس کی یاد سے غافل نہیں رہنا چاہیے لیکن ان اوقات کی خصوصیت یہ ہے کہ صبح کے وقت انسان نیند سے بیدار ہوتا ہے اور نیند بہ منزلہ موت ہے اور بیداری بہ منزلہ حیات ہے اور اس وقت جہاں بھی ظلمت سے نور کی طرف منتقل ہوتا ہے اس لیے اس وقت میں اس خاص نعمت پر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہے۔ اور شام کا وقت جو بہ منزلہ موت ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کیونکہ موت کے بعد ہی انسان اخروی نعمتوں سے ہم کنار ہوتا ہے، نیز ان اوقات میں انسان پر سکون ہوتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی یاد کے لیے بہت مناسب اوقات ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فجر کے وقت رات کے فرشتے جا رہے ہوتے ہیں اور دن کے فرشتے آ رہے ہوتے ہیں تو دونوں فرشتے اس کے ذکر کو لکھ لیں گے اور اسی طرح شام کے وقت میں بھی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 205