أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا لَمۡ تَاۡتِهِمۡ بِاٰيَةٍ قَالُوۡا لَوۡلَا اجۡتَبَيۡتَهَا‌ ؕ قُلۡ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا يُوۡحٰٓى اِلَىَّ مِنۡ رَّبِّىۡ ‌ۚ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنۡ رَّبِّكُمۡ وَهُدًى وَّ رَحۡمَةٌ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور (اے رسول معظم) جب آپ ان کے پاس کوئی نشانی نہیں لاتے تو یہ کہتے ہیں کہ آپ نے کوئی نشانی منتخب کرلی ! آپ کہیے کہ میں صرف اس چیز کی اتباع کرتا ہوں جس کی میرے رب کی طرف سے وحی کی جاتی ہے، یہ (قرآن) تمہارے رب کی طرف سے بصیرت افروز احکام کا مجموعہ ہے اور ایمان لانے والے لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور (اے رسول معظم) جب آپ ان کے پاس کوئی نشانی نہیں لاتے تو یہ کہتے ہیں کہ آپ نے کوئی نشانی منتخب کرلی ! آپ کہیے کہ میں صرف اس چیز کی اتباع کرتا ہوں جس کی میرے رب کی طرف سے وحی کی جاتی ہے، یہ (قرآن) تمہارے رب کی طرف سے بصیرت افروز احکام کا مجموعہ ہے اور ایمان لانے والے لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔

کفار کے فرمائشی معجزات نہ دکھانے کی توجیہ 

اس سے پہلی آیت میں فرمایا تھا کہ شیاطین الانس اور شیاطین الجن لوگوں کو گمراہ کرنے میں کوئی کمی نہیں کرتے۔ اس آیت میں ان کے گمراہ کرنے کی ایک خاص نوع کو بیان فرمایا ہے کہ وہ بطور سرکشی معجزات مخصوصہ طلب کرتے ہیں مثلاً وہ کہتے تھے : ” وقالوا لن نومن لک حتی تفجر لنا من الاض ینبوعا۔ او تکون لک جنۃ من نخیل وعنب فتفجر الانہار خللہا تفجیرا۔ او تسقط السماء کما زعمت علینا کسفا او تاتی باللہ والملائکۃ قبیلا۔ او یکون لک بیت من زخرف او ترقی فی السماء ولن نومن لرقیک حتی تنزل علینا کتبا نقرءہ قل سبحان ربی ھل کنت الا بشرا رسولا : اور انہوں نے کہا ہم ہرگز آپ پر ایمان نہیں لائیں گے حتی کہ آپ زمین سے ہمارے لیے کوئی چشمہ جاری کردیں۔ یا آپ کے لیے کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو جس کے درمیان آپ بہتے ہوئے دریا جاری کردیں۔ یا آپ اپنے قول کے مطابق ہم پر آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے گرا دیں یا آپ ہمارے سامنے فرشتوں کو لے آئیں۔ یا آپ کے لیے سونے کا کوئی گھر ہو یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور ہم آپ کے چڑھنے پر (بھی) ہرگز ایمان نہیں لائیں گے حتی کہ آپ ہم پر ایک کتاب نازل کریں جس کو ہم پڑھیں آپ کہیے کہ میرا رب پاک ہے میں تو صرف بشر ہوں اور اللہ کا فرستادہ (رسول) “

جب آپ نے ان کے فرمائشی معجزات پیش نہیں کیے تو وہ کہنے لگے کہ اگر اللہ نے آپ کو یہ معجزات نہیں دیے تو آپ اپنی طرف سے یہ معجزات کیوں نہیں پیش کردیتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ کہئے کہ میرے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ میں اللہ سے کوئی مطالبہ یا فرمائش کروں، اللہ تعالیٰ از خود جو چاہتا ہے میرے ہاتھ سے نشانی یا معجزہ صادر فرما دیتا ہے۔ اور ان کے فرمائشی معجزات کو پیش نہ کرنا اسلام کی تبلیغ، ہدایت اور میری نبوت کے اثبات کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن نازل فرمایا ہے اور اس کا معجز ہونا بالکل ظاہر ہے، اور جو واقعی ہدایت کا طالب ہوں اس کے لیے تو یہ قرآن ہی کافی ہے اور جس نے خواہ مخواہ کی حجت بازی کرنا ہو اس کے لیے سینکڑو دلائل بھی ناکافی ہیں۔ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر قرآن مجید کی دلالت تو علمی اور عقلی اعتبار سے ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہ کثرت حسی دلائل بھی پیش کیے، جن کو دیکھ کر بغیر غور و فکر کے بداہۃً آپ کا دعوی نبوت میں صادق ہونا ظاہر ہوجاتا ہے۔ مثلاً آپ نے چاند کے دو ٹکڑے کیے، آپ کی دعا سے ڈوبا ہوا سورج طلوع ہوگیا، پتھر نے آپ کو سلام کیا، درخت اور اس کے خوشے آپ کے حکم پر چل کر آئے، مختلف جانوروں نے آپ کا کلمہ پڑھا، کئی بار آپ کی انگلیوں سے پانی جاری ہوا اور کتنی مرتبہ کم کھانا بہت زیادہ آدمیوں کے لیے کافی ہوگیا۔ اس طرح کے اور بہت معجزات ہیں، ان تمام معجزات کو دیکھنے کے باوجود سرکش اور ضدی کفار ایمان نہیں لائے، چونکہ یہ لوگ طلب ہدایت کے لیے نہیں بلکہ محض حجت بازی اور ضد بحث کے طور پر معجزات کو طلب کرتے تھے اس لیے ان کے فرمائشی معجزات پیش نہیں کیے گئے۔ نیز سابقہ امتوں میں کفار نے فرمایشی معجزات طلب کیے اور معجزات دکھائے جانے کے باوجود جب وہ ایمان نہیں لائے تو ان پر آسمانی عذاب آیا، اب اگر ان کے فرمائشی معجزات طلب کیے اور معجزات دکھائے جانے کے باوجود جب وہ ایمان نہیں لائے تو ان پر آسمانی عذاب آیا، اب اگر ان کے فرمائشی معجزات پیش کردیے جاتے اور پھر بھی یہ ایمان نہ لاتے تو ان پر عذاب آنا چاہیے تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماچکا ہے : ” وماکان اللہ لیعذبہم وانت فیہم : اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ ان کو عذاب دے جب کہ آپ ان میں موجود ہیں ” (الانفال :33)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 203