أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِمَّا يَنۡزَغَـنَّكَ مِنَ الشَّيۡطٰنِ نَزۡغٌ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰهِ‌ؕ اِنَّهٗ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اور (اے مخاطب) اگر شیطان تمہیں کوئی وسوسہ ڈالے تو اللہ کی پناہ طلب کرو، بیشک وہ بہت سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور (اے مخاطب) اگر شیطان تمہیں کوئی وسوسہ ڈالے تو اللہ کی پناہ طلب کرو، بیشک وہ بہت سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے “

نزغ شیطان کا معنی 

علامہ راغب اصفہانی متوفی 502 ھ لکھتے ہیں : 

نزغ کا معنی ہے کسی چیز کو فاسد اور خراب کرنے کے لیے اس میں داخل ہونا۔ (المفردات ج 2، ص 631، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

علامہ ابن اثیر الجزری المتوفی 606 ھ نے لکھا ہے : 

نزغ کا معنی ہے، کسی نوکدار چیز کو چبھونا۔ کسی کو کسی کے خلاف بھڑکانا، فساد ڈالنا، نزغ الشیطان بینہم کا معنی ہے شیطان نے ان کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکایا اور ان کے درمیان فساد ڈال دیا۔ (النہایہ ج 5، ص 36، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، 1418 ھ)

وساوس شیطان سے نجات کا طریقہ 

اس سے پہلی آیت میں اللہ ت عالیٰ نے فرمایا تھا کہ جاہلوں سے اعراض کیجیے اور جاہلوں کی جفا اور جہالت پر انسان کو طبعی طور پر غصہ آتا ہے۔ ابن زید نے کہا کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا : اے میرے رب اگر مجھے ان کی باتوں پر غصہ آئے تو کیا کروں، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر شیطان آپ کو غضب میں لائے تو آپ اللہ کی پناہ طلب کریں (جامع البیان جز 9، ص 208، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)

علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد قرطبی مالکی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :

نزغ شیطان کا معنی ہے شیطان کا وسوسہ۔ سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں حضرت عثمان اور حضرت علی (رض) کی خدمت میں تھا، ان کے درمیان شیطان نے وسوسے ڈال دیے تھے ان میں سے ہر ایک دوسرے کو برا کہتا رہا، پھر وہ اس وقت تک مجلس سے نہیں اٹھے جب تک کہ ہر ایک نے دوسرے سے معافی نہیں مانگ لی۔ 

متقدمین میں سے ایک استاذ نے اپنے شاگرد سے کہا اگر شیطان تمہیں گناہوں پر اکسائے تو تم کیا کروگے ؟ اس نے کہا میں اس کے خلاف کوشش کروں گا، استاذ نے کہا اگر وہ پھر اکسائے ؟ کہا، میں پھر کوشش کروں گا، کہا اگر وہ پھر اکسائے ؟ کہا میں پھر کوشش کروں گا۔ استاز نے کہا یہ سلسلہ تو دراز ہوجائے گا۔ استاذ نے کہ یہ بتاؤ اگر تم بکریوں کے ریوڑ کے درمیان سے گزرو اور بکریوں کا محافظ کتا تم پر بھونکنے لگے تو تم کیا کرو گے ؟ اس نے کہا میں اس کو دور بھگانے کی کوشش کروں گا استاذ نے کہا یہ سلسلہ تو دراز ہوجائے گا لیکن اگر تم بکریوں کے چرواہے سے مدد طلب کرو تو وہ کتے کو تم سے دور کردے گا، اسی طرح جب شیطان تم کو کسی گناہ پر اکسائے تو تم اللہ کی پناہ طلب کرو، وہ شیطان کو تم سے دور کردے گا۔ (الجامع لاحکا القرآن جز 7، ص 311، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)

وسوسہ شیطان کی وجہ سے عصمت انبیاء پر اعتراض اور اس کے جوابات 

عصمت انبیاء کے منکرین نے اس آیت سے اپنے موقف پر استدلال کیا ہے کہ اگر انبیاء (علیہم السلام) کا گناہ اور معصیت پر اقدام ناممک ہوتا تو اللہ ت عالیٰ یہ نہ فرماتا کہ اگر شیطان تم کو کوئی وسوسہ ڈالے تو تم اللہ کی پناہ طلب کرو۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اولاً تو اس آیت میں عام مسلمانوں سے خطاب ہے۔ ثانیاً جواب یہ ہے کہ اگر اس آیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہو تو اس کا معنی یہ ہے کہ اگر بالفرض شیطان آپ کو کوئی وسوسہ ڈالے تو آپ اللہ کی پناہ طلب کریں اور اس سے شیطان کا آپ کو وسوسہ ڈالنا لازم نہیں آتا۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” لئن اشرکت لیحبطن عملک : اگر بالفرض آپ نے شرک کیا تو آپ کے عمل ضائع ہوجائیں گے ” (الزمر :65) ۔ اور اس آیت سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ العیاذ باللہ شرک کریں۔ اور اس کی نظیر یہ آیت ہے : ” قل ان کان للرحمن ولد فانا اول العابدین : آپ کہیے اگر (بہ فرض محال) رحمٰن کی اولاد ہوتی تو میں (اس کی) سب سے پہلے عبادت کرنے والا ہوتا ” (الزخرف :81)

ثانیاً شیطان کا صرف وسوسہ ڈالنا عصمت کے منافی نہیں ہے، عصمت کے منافی یہ ہے کہ آپ شیطان کا وسوسہ قبول کریں اور یہ اس آیت سے ثابت نہیں، بلکہ اس کے خلاف ثابت ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔ ” ان عبادی لیس لک علیہم سلطان الا من اتبعک من الغاوین : بیشک میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی غلبہ نہیں ہے۔ ماسوا گمراہوں کے جو تیری پیروی کریں ” (الحجر :42)

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان کا قرین لگا دیا گیا ہے اور ایک قرین فرشتوں میں سے لگا دیا گیا ہے، صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ آپ کے ساتھ بھی ؟ فرمایا ہاں میرے ساتھ بھی۔ لیکن اللہ نے اس کے خلاف میری مدد فرمائی وہ مسلمان ہوگیا وہ مجھے نیک باتوں کے سوا کوئی مشورہ نہیں دیتا۔ (صحیح مسلم منافقین 69 (2814) 6975، مشکوۃ رقم الحدیث : 67)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک بہت بڑا جن گزشتہ رات مجھ پر حملہ آور ہوا تاکہ میری نماز کو خراب کرے، اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قدرت دی تو میں نے اس کو دھکا دے کر بھگا دیا، اور میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ میں اس کو مسجد کے ستونوں میں سے کسی ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں حتی کہ صبح کو تم سب اسے دیکھتے۔ پھر مجھے اپنے بھائی سلمان کی یہ دعا یاد آئی : ” قال رب اغفرلی وھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی : سلیمان نے دعا کی اے میرے رب مجھے بخش دے اور مجھے ایسی سلطنت عطا فرما جو میرے بعد کسی اور کو زیبا نہ ہو ” (ص :35) ۔ (صحیح مسلم المساجد 39 (549) 1189 ۔ سنن کبری للنسائی رقم الحدیث :1440)

اس حدیث سے واضح ہوگیا کہ شیطان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کوئی غلبہ نہیں بلکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی غالب تھے۔ اس لیے یہ ممکن نہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شیطان کا وسوسہ قبول کریں۔ 

ثالثاً اس آیت میں بہ ظاہر آپ کو خطاب ہے لیکن مراد آپ کی امت ہے کہ جب شیطان مسلمانوں کو کسی چیز کا وسوسہ ڈالے تو وہ اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کریں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 200