أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَسۡــئَلُوۡنَكَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ‌ ؕ قُلِ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ‌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَيۡنِكُمۡ‌ۖ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

(اے رسولِ مکرم ! ) یہ آپ سے انفال (اموالِ غنیمت کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ کہیے کہ انفال (کے حکم) کا اللہ اور اس کا رسول مالک ہے سو تم اللہ سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر تم مومن (کامل) ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” (اے رسولِ مکرم ! ) یہ آپ سے انفال (اموالِ غنیمت کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ کہیے کہ انفال (کے حکم) کا اللہ اور اس کا رسول مالک ہے سو تم اللہ سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر تم مومن (کامل) ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو ” 

انفال کا معنی اور اس کے مصداق میں مفسرین کے نظریات 

انفال کے معنی میں صحابہ کرام اور اخیار تابعین کا اختلاف ہے، عکرمہ، مجاہد، ضحاک، قتادہ، عطاء اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ انفال کا معنی ہے : اموال غنیمت۔ 

عطاء، ابن جریج اور حضرت ابن عباس (رض) سے ہی یہ بھی روایت ہے کہ انفرادی طور پر مشرکوں سے مسلمان جو چیز حاصل کرلیں مثلاً غلام یا سواری وگیرہ وہ انفال ہے، یا مشرکین سے جو چیز چھین لیں یا اس کے لباس سے اتار لیں مثلاً گھوڑا اور تلوار وغیرہ۔

حضرت ابن عباس (رض) سے یہ بھی روایت ہے کہ مال غنیمت کی تقسیم سے جو چیزیں الگ کرلی جائیں وہ انفال ہیں۔ ایک شخص نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا : انفال کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا گھوڑا انفال میں سے ہے اور مشرکین سے چھینی ہوئی چیزیں انفال میں سے ہیں۔ 

نیز عطا نے کہا جو چیز بغیر جنگ کے مسلمان انفرادی طور پر مشرکین سے حاصل کرلیں وہ انفال ہے۔

مجاہد سے یہ بھی روایت ہے کہ انفال کا معنی خمس ہے۔

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ نے فرمایا ان اقوال میں اولیٰ یہ ہے کہ انفال مال غنیمت سے وہ زائد چیز ہے جس کو امیر لشکر، لشکر کے بعض یا کل افراد کو بہ طور ترغیب اور تحریص عطا کرتا ہے جس میں ان کی یا تمام مسلمانوں کی بہتری ہو، اور چیز کفار سے چھینے ہوئے سامان میں سے ہوتی ہے یا امیر لشکر تک وہ زائد پہنچتی ہے یا مشرکین کے اسباب میں سے ہوتی ہے، ہم نے اس قول کو اولیٰ اس لیے کہا ہے کہ کلام عرب میں نفل اصل سے زائد چیز کو کہتے ہیں۔ ہر وہ چیز جو لشکریوں کے حصہ مال غنیمت سے زائد ہو اور لشکری کو وہ چیز امیر لشکر نے عطا کی ہو جیسے کافر سے چھینا ہوا مال، وہ انفال ہے۔ (جامع البیان جز 9، ص 224 ۔ 228، ملخصاً ، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1415 ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی شافعی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں : اس آیت میں انفال کے ان تمام معانی کا احتمال ہے اور بعض کی بعض پر ترجیح کی کوئی دلیل نہیں ہے، اگر حدیث سے کسی ایک معنی کی تعیین ثابت ہوجائے تو وہی معنی متعین ہوجائے گا۔ ان معانی میں تناقض نہیں ہے اس لیے ان تمام معانی کا ارادہ کرنا جائز ہے اور اقرب یہ ہے کہ اس سے مراد خمس ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مال ہے اور آپ کو یہ اختیار ہے کہ آپ مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے یا تقسیم کے بعد اس میں سے جس کو چاہیں بطور ترغیب عطا فرما دیں، اور جس مجاہد کو یہ ملے گا وہ اس کے حصہ مال غنیمت سے زائد ہوگا۔ (تفسیر کبیر ج 5، ص 449، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی 668 ھ کا مختار یہ ہے کہ انفال سے مراد مال غنیمت ہے، ان کا استدلال اس حدیث سے ہے : 

امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی 261 ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب نے عظیم غنیمت کو حاصل کیا، اس میں ایک تلوار بھی تھی، میں وہ تلوار لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا، اور عرض کیا مجھے یہ تلوار زیادہ دے دیں کیونکہ آپ کو میرا حال معلوم ہے۔ آپ نے فرمایا اس کو وہیں رکھ دو جہاں سے اس کو لیا ہے میں اس کو وہاں رکھنے گیا، پھر میرے دل میں خیال آیا میں آپ کے دوبارہ گیا اور کہا آپ مجھے یہ تلوار دے دیں ! آپ نے بہ آواز بلند فرمایا اس کو وہیں رکھ دو جہاں سے اس کو لیا ہے اور تب یہ آیت نازل ہوئی : یسئلونک عن الانفال۔ (الانفال :1) ۔ (صحیح مسلم فضائل صحابہ : 43 (2414) 6121 ۔ سنن ابو داود رقم الحدیث : 2740، سنن الترمذی رقم الحدیث : 3090)

مال غنیمت کے استحقاق میں صحابہ کرام کا اختلاف 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : یہ آپ سے انفال کے متعلق سوال کرتے ہیں، نیز فرمایا اور آپس میں صلح رکھو، اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کا مال غنیمت کے حکم میں اختلاف تھا، پھر انہوں نے اس کا حکم معلوم کرنے کے لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ انفال (مال غنیمت) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کے تابع ہیں، وہ جس کو چاہیں اور جتنا چاہیں عطا کردیں۔ مال غنیمت کے حکم میں مسلمانوں کے اختلاف کی تفصیل حسب ذیل روایت سے معلوم ہوتی ہے : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے ایسا ایسا کام کیا اس کو فلاں چیز زائد ملے گی، پس نوجوان آگے بڑھے اور بڑے بوڑھے جھنڈوں کے پاس کھڑے رہے اور ان کے ساتھ نہیں گئے، جب اللہ نے ان کو فتح عطا فرمائی تو بوڑھوں نے کہا تم ہماری پناہ میں تھے، اگر تم شکست کھاتے تو ہماری طرف آتے، تو تم ہمارے بغیر مال غنیمت نہ لو، جوانوں نے اس کا انکار کیا اور کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ مال غنیمت ہمارے لیے رکھا ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : یسئلونک عن الانفال الایہ۔ (سنن ابو داود رقم الحدیث : 2637، السنن الکبری للنسائی ج 6، رقم الحدیث : 1197، المستدرک، ج 2، ص 326، حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی، جامع البیان جز 9، ص 228 ۔ الدر المنثور، ج 4، ص 6)

حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ باہر نکلے، میں آپ کے ساتھ بدر میں حاضر تھا، مسلمانوں کا کفار سے مقابلہ ہوا، اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست دے دی، مسلمانوں کی ایک جماعت ان کا پیچھا کر رہی تھی اور ان کو قتل کر رہی تھی اور مسلمانوں کی دوسری جماعت ان کا مال جمع کر رہی تھی، اور تیسری جماعت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد آپ کی حفاظت کر رہی تھی، مبادا آپ کو دشمن کی طرف سے کوئی ضرر پہنچے، حتی کہ جب رات ہوگئی اور مسلمانوں کی آپس میں ملاقات ہوئی تو جن مسلمانوں نے مال غنیمت جمع کیا تھا، انہوں نے کہا کہ اس مال میں اور کسی کا حق نہیں ہے اس مال غنیمت کو ہم نے اکٹھا کیا ہے، اور جن مسلمانوں نے دشمن کا پیچھا کیا تھا انہوں نے کہا تم ہم سے زیادہ اس مال غنیمت کے حقدار نہیں ہو ہم نے دشمن کو بھگایا ہے اور ہم نے اس کو شکست دی ہے، اور جن مسلمانوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت کی تھی انہوں نے کہا تم ہم سے زیادہ اس مال غنیمت کے حقدار نہیں ہو، ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت کی تھی، مبادا آپ کسی کافر کے حملہ کی زد میں آجائیں اور ہم آپ کی حفاظت میں مشغول رہے تب یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ آپ سے اموال غنیمت کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ کہیے کہ انفال (کے حکم) کے اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مالک ہیں، سو تم اللہ سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مال غنیمت کو ان میں ان کے حصوں کے اعتبار سے تقسیم فرمایا۔ (مسند احمد ج 5 ۔ ص 524، طبع قدیم، مسند احمد ج 8، رقم الحدیث : 22826، طبع جدید، دار الفکر مسند احمد ج 16، رقم الحدیث : 22661، طبع دار الحدیث قاہرہ، شیخ احمد شاکر نے کہا اس کی سند صحیح ہے۔ المسترک، ج 2، ص 326، مجمع الزوائد، ج 7، ص 26، الدر المنثور، ج 4، ص 5)

تنفیل (کسی نمایاں کارنامہ پر مجاہدوں کو غنیمت سے زائد انعام دینے) میں فقہاء مالکیہ کا نظریہ 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد قرطبی مالکی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں : امام مالک (رح) کا مذہب یہ ہے کہ خمس (مال غنیمت کے پانچویں حصہ) میں سے امام اجتہاد سے جو انعامات عطا کرے وہ انفال ہیں، اور مال غنیمت کے باقی چار حصوں میں سے نفل (یہ انعام) نہیں دیا جائے گا۔ ان کے نزدیک اصل مال غنیمت سے نفل دینا اس لیے جائز نہیں کہ مال غنیمت کے مستحقین متعین ہیں اور وہ میدان جہاد میں گھوڑے دوڑانے والے مجاہدین ہیں، اور خمس میں سے عطا کرنا امام کی رائے پر موقوف ہے اور اس کے مستحقین غیر معین ہیں، امام مالک کا استدلال اس حدیث سے ہے : 

حضرت عبداللہ بن عمر ررضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجد کی طرف ایک لشکر بھیجا ان کو مال غنیمت میں بہت زیادہ اونٹ ملے اور مال غنیمت میں سے ان کا حصہ بارہ بارہ یا گیارہ گیارہ اونٹ تھے اور ان کو ایک ایک اونٹ زائد دیا گیا۔ الموطا رقم الحدیث : 987 اور سنن ابو داود میں ہے کہ ان کا حصہ بارہ بارہ اونٹ تھے ان کو ایک ایک اونٹ زائد دیا گیا تو ہر ایک کو تیرہ تیرہ اونٹ مل گئے۔ (سنن ابو داود رقم الحدیث : 2744)

نیز امام مالک نے اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے : عمرو بن شعیب بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حنین سے لوٹے اور جعرانہ کی طرف جانے لگے اور آپ کی چادر درخت کی شاخوں سے الجھ کر گرگئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری چادر اٹھا دو ، کیا تم کو یہ خطرہ ہے کہ اللہ نے جو کچھ مجھ کو عطا کیا ہے میں وہ تماہرے درمیان تقسیم نہیں کروں گا، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے اگر اللہ مجھے تہامہ کے درختوں کے برابر اونٹ بھی عطا کرے تو میں ان کو تمہارے درمیان تقسیم کردوں گا، پھر تم مجھے بخیل پاؤگے نہ بزدل نہ جھوٹا۔ پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں نے میں قیام کیا تو فرمایا کسی کے پاس سوئی یا دھاگہ بھی ہے تو دے دے کیونکہ مال غنیمت عار ہے اور نار کا سبب ہے۔ اس کے بعد آپ نے زمین کو کردیا اور اونٹ کا ایک بال یا کوئی چیز اٹھا کر فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو مال عطا فرمایا ہے اس میں سے خمس کے سوا میرے پاس کچھ نہیں ہے اور خمس بھی تم پر لوٹا دیا جاتا ہے۔ (محل استدلال یہ اخری جملہ ہے کہ خمس بھی تم پر لوٹا دیا جاتا ہے) (الموطا رقم الحدیث : 994 ۔ مسند احمد ج 6، رقم الحدیث : 17154) ۔ 

(الجامع لاحکام القرآن ج 7، ص 356، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)

تنفیل میں فقہاء شافعیہ کا نظریہ 

علامہ ابو اسحاق ابراہیم بن علی الشیرازی الشافعی المتوفی 455 ھ لکھتے ہیں :

جو شخص ایسا کارنامہ انجام دے جس کی وجہ سے دشمن پر فتح حاسل ہو، مثلا وہ دشمن کی جاسوسی کرے اور اس کے راستوں کو یا اس کے قلعہ کا کھوج لگائے یا وہ ابتداء دار الحرب میں داخل ہو، یا سب کے بعد دارالحرب سے لوٹے تو امام کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کو نفل دے (مال غنیمت کے حصہ سے زیادہ دے) کیونکہ حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابتداء میں چوتھائی حصہ زائد عطا فرماتے تھے اور لوٹتے وقت تہائی حصہ، اور زائد کی مقدار لشکر کے امیر کی رائے پر موقوف ہے کیونکہ وہ جنگی مصلحت کے لیے خرچ کرتا ہے اور بہ قدر عمل دیتا ہے، کیونکہ جو شخص ابتداء میں دار الحرب میں داخل ہوتا ہے اس وقت دشمن اس سے غیر محتاط ہوتا ہے۔ اور جو آخر میں دارالحرب سے لوٹتا ہے اس کو دشمن کے خوف کا زیادہ مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابتداءً دار الحرب میں داخل ہونے والوں کی نسبت آخر میں لوتنے والوں کو زیادہ حصہ دیتے تھے۔ زائد حصہ مسلمانوں کے بیت المال سے دینا بھی جائز ہے اور اس مال سے بھی دینا جائز ہے جو مشرکین سے لے کر جمع کیا جاتا ہے۔ اگر مسلمانوں کے بیت المال سے دیا جائے تو یہ خمس کے پانچویں حصہ میں سے دیا جائے گا۔ کیونکہ سعید بن مسیب روایت کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو نفل (مال غنیمت سے زائد حصہ) خمس میں سے دیا جاتا تھا، اور اس لیے بھی کہ خمس وہ مال ہے جس کو کسی مصلحت میں خرچ کیا جاتا ہے اس لیے وہ خمس کے پانچویں حصہ میں سے دیا جائے گا اور نفل کی مقدار کا مجہول رکھنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ ایک عقد کا عوض ہے اور اگر نفل کفار کے مال سے دیا جائے تو پھر اس کا مجہول رکھنا جائز ہے، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابتداء میں چوتھائی حصہ رکھا اور لوٹنے میں تہائی رکھا اور یہ مال غنیمت کا ایک مجہول حصہ ہے۔ (کیونکہ مال غنیمت کی مقدار غیر معلوم ہے تو اس کا تہائی یا چوتھائی حصہ بھی غیر معلوم ہوگا) ۔ (المہذب ج 2، ص 243، مطبوعہ دار الفکر بیروت)

تنفیل میں فقہاء حنبلیہ کا نظریہ 

علامہ موفق الدین عبداللہ بن قدامہ حنبلی متوفی 620 ھ لکھتے ہیں : 

نفل کا معنی ہے کس شخص کو اس کے حصہ سے زیادہ دینا، اور اس کی دو نوع ہیں : 

نوع اول وہ ہے جس میں نفل کا استحقاق کسی شرط کی وجہ سے ہو، اور اس کی پھر دو قسمیں ہیں : قسم اول یہ ہے کہ امیر جب دار الحرب میں جہاد کے لیے داخل ہو تو وہ اپنے سامنے ایک لشکر کو دشمن پر حملہ کرنے کے لیے بھیجے اور ان کو پانچویں حصہ کے بعد چوتھائی حصہ دینے کا اعلان کرے، اور جب مال غنیمت اکٹھا ہو تو دونوں لشکروں کو حسب اعلان دے پھر باقی مال غنیمت ان دونوں لوشکروں سمیت پورے بڑے لشکر میں تقسیم کرے۔ نوع اول کی دوسری قسم یہ ہے کہ امیر اس شخص کے لیے کسی زائد حصہ کا اعلان کرے جو مسلمانوں کے لیے کوئی مفید کام انجام دے، مثلاً امیر یہ کہے کہ جو شخص اس قلعہ میں داخل ہوگا اس کو یہ انعام ملے گا، یا یہ کہے کہ جو شخص قلعہ میں نقب لگائے گا، یا جو شخص کسی کو گرفتار کرکے لائے گا اس کو یہ انعام ملے گا، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا جو شخص کسی قتیل (کافر) کو قتل کرے گا، اس کا سب سامان اس کو ملے گا۔ (سنن ابو داود رقم الحدیث : 2718)

اور یہ انعام مسلمانوں کے مال سے دینا بھی جائز ہے اور مشرکین سے لیے ہوئے مال سے دینا بھی جائز ہے۔ اگر مسلمانوں کے مال سے انعام کا اعلان کیا جائے تو اس کی مقدار کا معلوم ہونا ضروری ہے اور اگر مشرکین کے مال سے انعام کا اعلان کیا جائے تو پھر اس کی مقدار کا مجہول رکھنا بھی جائز ہے جیسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ جس شخص نے کسی قتیل کو قتل کیا تو اس سے چھینا ہوا سامان اس کا ہے، اور سامان کی مقدار مجہول ہے۔

نوع ثانی یہ ہے کہ کسی مسلمان کی کسی خاص کارکردگی کی وجہ سے امام اس کو خصوصی زائد حصہ دے مثلا اس نے جنگ میں زیادہ مشقت برداشت کی ہو یا کسی اہم معاملہ میں جاسوسی کی ہو یا وہ مقدمۃ الجیش میں ہو یا اور کوئی نمایاں کام کیا ہو تو اس میں بغیر پیشگی شرط کے بھی زائد حصہ دینا جائز ہے، جیسا کہ امام ابو داود نے روایت کیا ہے کہ عبدالرحمن بن عیینہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اونٹ لوٹ لیے، حضرت سلمہ بن الاکوع نے ان کا پیچھا کیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو سوار کا حصہ بھی دیا اور پیادہ کا حصہ بھی دیا۔ (سنن ابو داود رقم الحدیث : 2697 ۔ الکافی، ج 4، ص 138 ۔ 139، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1414 ھ)

تنفیل میں فقہاء احناف کا نظریہ 

علامہ ابو الحسن علی بن ابی بکر المرغینانی الحنفی المتوفی 593 ھ لکھتے ہیں :

اگر امام حالت جنگ میں کسی شخص کے لیے تنفیل (زائد حصہ دینے) کا اعلان کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، مثلا یہ کہے کہ جس شخص نے کسی قتیل (کافر) کو قتل کیا تو اسے اس کا سلب (سامان) ملے گا، یا لشکر سے یہ کہے کہ خمس نکالے جانے کے بعد تمہیں اس کا چوتھائی حصہ ملے گا، کیونکہ جنگ پر ابھارنا مستحب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : یا ایہان النبی حرض المومنین علی القتال : (الانفال :65) اے نبی آپ مسلمانوں کو جہاد پر ابھاریں۔ اور یہ اعلان بھی ایک قسم کا جنگ پر ابھارنا ہے۔ تنفیل (زائد حصہ دینے کا اعلان کرنا) اس طرح بھی ہوسکتا ہے اور کسی اور طرح بھی ہوسکتا ہے، لیکن امام کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کافروں سے حاصل کیے ہوئے تمام مال کا اعلان کردے کیونکہ اس سے تمام مجاہدوں کا حق ضائع ہوگا، ہاں اگر تمام لشکر کے لیے اعلان کردے تو یہ جائز ہے، اور جب مال غنیمت جمع کرکے دار الاسلام میں پہنچا دیا جائے تو پھر کسی کے لیے اعلان نہ کرے، کیونکہ اب اس میں دوسروں کا حق موکد ہوچکا ہے، البتہ خمس میں سے اب بھی اعلان کیا جاسکتا ہے، کیونکہ خمس میں مال غنیمت لینے والوں کا بھی حق ہے اور جب کافر کا سلب (سامان) قاتل کو نہ دیا جائے تو وہ من جملہ مال غنیمت میں سے ہے اور قاتل اور غیر قاتل اس میں برابر ہیں اور کافر کا سلب اس کے کپڑے، اس کے ہتھیار اور اس کی سوار ہے اور سواری پر جو زین اور دیگر آلات ہوں وہ بھی اس میں داخل ہیں، اسی طرح سواری کے اوپر جو کافر کا سامان ہو وہ بھی اس میں شامل ہے اور ان کے علاوہ اور کوئی چیز اس میں داخل نہیں ہے۔ پھر تنفیل (خصوصی حصہ دینے کا اعلان) کا حکم یہ ہے کہ اس سے دوسروں کا حق منقطع ہوجاتا ہے اور مجاہدین اس کے مالک اس وقت ہوتے ہیں جب مال غنیمت در الاسلام میں پہنچ جاتا ہے حتی کہ اگر امام نے یہ اعلان کیا کہ جس شخص کو کوئی باندی ملی وہ اس کی ہے اور کسی مجاہد کو ایک باندی مل گئی اور اس نے اس کا استبراء کرلیا (یعنی باندی کا حیض گزر گیا) تب بھی اس مجاہد کے لیے اس باندی سے مباشرت کرنا جائز ہے نہ اس کو فروخت کرنا۔ یہ امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف کا قول ہے، امام محمد کے نزدیک یہ دونوں امر جائز ہیں۔ (ہدایہ اولین ص 578 ۔ 580، ملخصا، مطبوعہ مکتبہ شرکۃ علمیہ، ملتان)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 1