اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْؕ-وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۴۹)

جب کہتے تھے منافق (ف۹۴) اور وہ جن کے دلوں میں آزار (بیماری)ہے (ف۹۵) کہ یہ مسلمان اپنے دین پر مغرور ہیں (ف۹۶) اور جو اللہ پر بھروسہ کرے (ف۹۷) تو بےشک اللہ (ف۹۸) غالب حکمت والا ہے

(ف94)

مدینہ کے ۔

(ف95)

یہ مکّۂ مکرّمہ کے کچھ لوگ تھے جنہوں نے کلمۂ اسلام تو پڑھ لیا تھا مگر ابھی تک ان کے دلوں میں شک و تردُّد باقی تھا ۔ جب کُفّارِ قریش سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کے لئے نکلے یہ بھی ان کے ساتھ بدر میں پہنچے ، وہاں جا کر مسلمانوں کو قلیل دیکھا تو شک اور بڑھا اور مُرتدّ ہوگئے اور کہنے لگے ۔

(ف96)

کہ باوجود اپنی ایسی قلیل تعداد کے ایسے لشکر گراں کے مقابل ہوگئے ۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔

(ف97)

اور اپنا کام اس کے سپرد کردے اور اس کے فضل و احسان پر مطمئن ہو ۔

(ف98)

اس کا حافِظ و ناصر ہے ۔

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُواۙ-الْمَلٰٓىٕكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْۚ-وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ(۵۰)

اور کبھی تو دیکھے جب فرشتے کافروں کی جان نکالتے ہیں مار رہے ہیں ان کے منہ پر اور ان کی پیٹھ پر (ف۹۹) اور چکھو آ گ کا عذاب

(ف99)

لوہے کہ گُرز جو آ گ میں لال کئے ہوئے ہیں اور ان سے جو زخم لگتا ہے اس میں آ گ پڑتی ہے اور سوزش ہوتی ہے ، ان سے مار کر فرشتے کافِروں سے کہتے ہیں ۔

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۙ(۵۱)

یہ (ف۱۰۰) بدلہ ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۰۱) اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا (ف۱۰۲)

(ف100)

مصیبتیں اور عذاب ۔

(ف101)

یعنی جو تم نے کسب کیا کُفر اور عصیان ۔

(ف102)

کسی پر بے جرم عذاب نہیں کرتا اور کافِر پر عذاب کرنا عدل ہے ۔

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَۙ-وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ-كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(۵۲)

جیسے فرعون والوں اور ان سے اگلوں کا دستور (ف۱۰۳) وہ اللہ کی آیتوں سے منکر ہوئے تو اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑا بےشک اللہ قوت والا سخت عذاب والا ہے

(ف103)

یعنی ان کافِروں کی عادت کُفر و سرکشی میں فرعونی اور ان سے پہلوں کی مثل ہے تو جس طرح وہ ہلاک کئے گئے یہ بھی روزِ بدر قتل و قید میں مبتلا کئے گئے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جس طرح فرعونیوں نے حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی نبوّت کو یہ یقین جان کر ان کی تکذیب کی یہی حال ان لوگوں کا ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کو جان پہچان کر تکذیب کرتے ہیں ۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْۙ-وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ(۵۳)

یہ اس لیے کہ اللہ کسی قوم سے جو نعمت انہیں دی تھی بدلتا نہیں جب تک وہ خود نہ بدل جائیں (ف۱۰۴) اور بےشک اللہ سنتا جانتا ہے

(ف104)

اور زیادہ بدتر حال میں مبتلا نہ ہوں جیسے کہ اللہ تعالٰی نے کُفّارِ مکّہ کو روزی دے کر بھوک کی تکلیف رفع کی ، امن دے کر خوف سے نجات دی اور ان کی طرف اپنے حبیب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبی بنا کر مبعوث کیا ۔ انہوں نے ان نعمتوں پر شکر تو نہ کیا بجائے اس کے یہ سرکشی کی کہ نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی تکذیب کی ، ان کی خوں ریزی کے درپے ہوئے اور لوگوں کو راہِ حق سے روکا ۔ سدی نے کہا کہ اللہ کی نعمت حضرت سیدِ انبیاء محمّدِمصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَۙ-وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ-كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَۚ-وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ(۵۴)

جیسے فرعون والوں اور ان سے اگلوں کا دستور انہوں نے اپنے رب کی آیتیں جھٹلائیں تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کیا اور ہم نے فرعون والوں کو ڈبو دیا (ف۱۰۵) اور وہ سب ظالم تھے

(ف105)

ایسے ہی یہ کُفّارِ قریش ہیں جنہیں بدر میں ہلاک کیا گیا ۔

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ(۵۵)

بےشک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور ایمان نہیں لاتے

اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ(۵۶)

وہ جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا پھر ہر بار اپنا عہد توڑ دیتے ہیں (ف۱۰۶) اور ڈرتے نہیں (ف۱۰۷)

(ف106)

شانِ نزول : ” اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ” اور اس کے بعد کی آیتیں بنی قُریظہ کے یہودیوں کے حق میں نازِل ہوئیں جن کا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عہد تھا کہ وہ آپ سے نہ لڑیں گے ، نہ آپ کے دشمنوں کی مدد کریں گے ، انہوں نے عہد توڑا اور مشرکینِ مکّہ نے جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کی تو انھوں نے ہتھیاروں سے ان کی مدد کی پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معذرت کی کہ ہم بھول گئے تھے اور ہم سے قصور ہوا پھر دوبارہ عہد کیا اور اس کو بھی توڑا ۔ اللہ تعالٰی نے انہیں سب جانوروں سے بدتر بتایا کیونکہ کُفّار سب جانوروں سے بدتر ہیں اور باوجود کُفر کے عہد شکن بھی ہوں تو اور بھی خراب ۔

(ف107)

خدا سے نہ عہد شکنی کے خراب نتیجے سے اور نہ اس سے شرماتے ہیں باوجود یہ کہ عہد شکنی ہر عاقل کے نزدیک شرمناک جرم ہے اور عہد شکنی کرنے والا سب کے نزدیک بے اعتبار ہوجاتا ہے ۔ جب اس کی بے غیرتی اس درجہ پہنچ گئی تو یقینا وہ جانوروں سے بدتر ہیں ۔

فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ(۵۷)

تو اگر تم کہیں انہیں لڑائی میں پاؤ تو انہیں ایسا قتل کرو جس سے ان کے پس ماندوں کو بھگاؤ (ف۱۰۸) اس امید پر کہ شاید انہیں عبرت ہو (ف۱۰۹)

(ف108)

اور ان کی ہمتیں توڑ دو اور ان کی جماعتیں منتشر کردو ۔

(ف109)

اور وہ پند پذیر ہوں ۔

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)

اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی) کا اندیشہ کرو (ف۱۱۰) تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر (ف۱۱۱) بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں

(ف110)

اور ایسے آثار و قرائن پائے جائیں جن سے ثابت ہو کہ وہ عذر کریں گے اور عہد پر قائم نہ رہیں گے ۔

(ف111)

یعنی انہیں اس عہد کی مخالفت کرنے سے پہلے آگاہ کردو کہ تمہاری بدعہدی کے قرائن پائے گئے لہذا وہ عہد قابلِ اعتبار نہ رہا اس کی پابندی نہ کی جائے گی ۔