حدیث نمبر 40

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز ظہر پڑھائی اور آخری صف میں ایک شخص تھا جس نے نماز بری طرح پڑھی ۱؎جب سلام پھیرا تو اسے حضورنے آواز دی کہ اے فلاں کیا تو اﷲسے نہیں ڈرتا کیاتو نہیں دیکھتا کہ کیسے نماز پڑھتا ہے تم یہ سمجھتے ہو کہ مجھ پر تمہارا کوئی عمل چھپا رہتا ہے اﷲ کی قسم! میں پیچھے ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسے کہ اپنے آگے دیکھتا ہوں۔(احمد)

شرح

۱؎ اس حدیث سے چند مسئلے ثابت ہوئے:ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی آنکھ شریف آگے پیچھے،داہنے بائیں،اندھیرے اجالے میں ہر چیز دیکھ لیتی ہے جیسے ہمارے کان ہرطرف کی آواز بہرحال سن لیتے ہیں ایسے ہی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی آنکھ مبارک۔دوسرے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی آنکھ پاک کے لیے کوئی چیز آڑ یا حجاب نہیں۔دیکھو حضورصلی اللہ علیہ و سلم امامت کے مصلےٰ پر ہیں اور وہ شخص آخری صف میں درمیان میں بہت سی صفیں ہیں مگر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی نگاہ پاک اس کی ہرحرکت کو ملاحظہ کررہی ہےکیوں نہ ہو۔جب حضرت سلیمان علیہ السلام تین میل کے فاصلے سے چیونٹی کو دیکھ لیں اور اس کی آواز سن لیں،آصف برخیہ شام میں بیٹھے بلقیس کے یمنی تخت کو دیکھ لیں،عیسی علیہ السلام گھروں کے اندر کھائے ہوئے کھانے اور جمع کیے ہوئے غلے کو ملاحظہ فرمالیں تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم تو سید الانبیاء ہیں۔تیسرے یہ کہ جو حدیث میں گزرا کہ سرکار نے بحالت نماز جوتے شریف اتار ے اور فرمایا کہ مجھے جبریل علیہ السلام نے بتایا ان میں قذر ہے وہاں سے مراد پلیدی نہیں اور نہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنے نعلین سے بے خبر تھے جس کی تحقیق پہلے کی جاچکی۔کیسے ہوسکتا ہے کہ سرکار کو پچھلی صف کے نمازی کی حالت کی تو خبر ہو اور اپنے نعلین شریف کی خبر نہ ہو۔چوتھے یہ کہ حضورصلی اللہ علیہ و سلم بیک وقت رب کی طرف بھی متوجہ رہتے ہیں اور عالم کا مشاہدہ بھی کرتے ہیں،ادھر کی توجہ ادھر سے بے خبر نہیں کرتی۔یہ دیکھو بحالت نماز حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا خشوع خضوع رب کی طرف تو جہ بدرجہ کمال حاصل ہے مگر اسی وقت اپنے ہر امتی پر نگاہ بھی ہے۔پانچویں یہ کہ ہر امتی کو چاہیے کہ نماز میں خیال رکھے کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ و سلم دیکھ رہے ہیں۔دیکھو سرکار نے فرمایا کہ میں تم کو پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں تا قیامت سرکار اپنے ہر امتی کو ملاحظہ فرمارہے ہیں۔