اذان قبر پر جاہلانہ اعتراض اور اس کا علمی جواب :

اذان قبر کے منکر بعض جہال یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اذان تو نماز کا اعلان کرنے اور اس کی اطلاع کے لیے ہوتی ہے یہاں کون سی نماز ہوگی ۔ جس کے لیے اذان کہی جاتی ہے ؟

یہ اعتراض سراسر جہالت پر مبنی ہے ۔ ان کی جہالت انھیں کو زیب دیتی ہے۔ شریعت مطہرہ میں نماز کے علاوہ کئی موقعوں پر اذان دینا مستحب فرمایا گیا ہے ۔ مثلاً :احادیث کریمہ میں ہے کہ :

= جب شیطان کا کھٹکا ہو، تب اذان کہو ، وہ دفع ہوجائے گا۔ ( طبرانی، المعجم الأوسط)

= جب آگ دیکھو، اللہ اکبر کی بکثرت تکرار کرو ، وہ آگ بجھ جائے گی ۔ (مرقاۃ المفاتیح)

= جب کسی بستی میں اذان دی جائے ، تو اللہ تعالیٰ اس دن اس بستی کو اپنے عذاب سے امن دیتا ہے ۔(طبرانی ، المعجم الکبیر ، جلد ۱، ص ۲۵۷)

= جب حضرت آدم علی نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام جنت سے زمین(ہندوستان) میں اترے، انھیں گھبراہٹ ہوئی تو حضرت جبریل نے اتر کر اذان دی۔(حلیۃ الأولیاء ، جلد۲،ص۱۰۷)

= ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمنے امیر المومنین ، مولائے کائنات ، حضرت سیدنا علی مشکل کشا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غمگین دیکھا ، ارشاد فرمایا : اے علی ! میں تمھیں غمگین پاتا ہوں، اپنے گھر والوں میں سے کسی سے کہو کہ وہ تمھارے کان میں اذان کہے ۔ اذان غم اور پریشانی کو دفع کرتی ہے۔ ( مرقاۃ المفاتیح ، جلد ۲، ص ۱۴۹)

= حضرت سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی ولادت ہوئی ، تب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے کان میں اذان کہی ۔( ترمذی اور ابودائود )

اسی لیے آج ہر مسلمان کے گھر میں پیدا ہونے والے بچہ کے کان میں اذان دینے کا دستور و رواج ملت اسلامیہ میں شرق سے لے کر غرب تک اور شمال سے لے کر جنوب تک عام ہے ۔

مندرجہ تمام مقامات و مواقع میں اذان کے بعد کوئی نماز نہیں ہے بلکہ ایک قاعدہ یاد رکھیں کہ اذان دینے سے نماز پڑھنا واجب یا فرض نہیں ہوجاتا۔ بلکہ نماز سے پہلے عام طور سے پانچوں وقت مسجد میں جو اذان دی جاتی ہے ، وہ سنت موکدہ ہے اور یہ سنت موکدہ بھی جماعت قائم کرنے کے لیے ہے۔ اگر مسجد کے علاوہ کسی ایسے مکان میں جماعت قائم کی جائے جہاںمحلہ کی مسجد کی اذان کی آواز پہنچتی ہے ۔ تو اب جماعت قائم کرنے کے لیے اذان کہنا وہاں بھی سنت موکدہ نہیں بلکہ مستحب ہے ۔

المختصر! ہر اذان کے بعد نماز نہیں اور اذان دینا کبھی کبھی حصول برکت اور دفع ضرر کے لیے بھی ہوتا ہے اور قبر پر دی جانے والی اذان اسی پر محمول کی جائے۔

اس جواب پر منکرین کا مضحکہ خیز اعتراض :

ابھی ہم نے چند ایسی اذانوں کا ذکر کیا ، جن کے بعد نماز نہیں ، مگر منکرین ان تمام اذانوں کو فراموش کرکے صرف بچے کے کان میں دی جانے والی اذان بطور دلیل پیش کرتے ہیں کہ نومولود یعنی تازہ پیدا شدہ بچے کے کان میں دی جانے والی اذان کے بعد تو نماز ہے ۔ اور وہ نماز بعد موت ہوتی ہے ۔ یعنی نماز جنازہ ۔ لیکن یہ اذان جو دفن کے بعد قبر پر دی جاتی ہے ، اس کی نماز کون سی ہے ؟

سب سے پہلی بات یہ کہ بچے کے کان میں دی جانے والی اذان کو نماز جنازہ کی اذان بتانا خالص جہالت ہے ۔ کسی کے مرنے سے سالہا سال پہلے اس کی ولادت کے وقت کان میں دی گئی اذان کواس کی نماز جنازہ کی اذان بتانا نری جہالت ہی ہے۔ بچے کی پیدائش کے فوراً بعد اس کے کان میں جو اذان دی جاتی ہے وہ اذان شیطان کے ضرر اور شر سے محفوظ کرنے کے لیے دی جاتی ہے ۔

مگر ! پھر بھی میدان دلیل میں آکر منکرین کا یہ کہنا کہ بچہ کے کان میں دی جانے والی اذان ،نماز جنازہ کی اذان ہے ۔ اس ضعیف اور لا غر مریض دلیل کا جواب ترکی بہ ترکی یہ ہے ۔

جواب اعتراض :

اگر منکرین بچہ کے کان میں دی جانے والی اذان کو نماز جنازہ کی اذان مانتے ہیں ، تو نماز جنازہ صرف قیام یعنی کھڑے ہوکر ادا کی جاتی ہے اور اس نماز میں رکوع ، سجدہ ، قعدہ وغیرہ نہیں۔ صرف قیام ہے اور قیام نماز کے تمام افعال ( کاموں) میں ادنیٰ فعل ہے ۔ سب سے افضل فعلِ نماز سجدہ ہے حدیث شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ

’’ بندہ کو خدا سے سب سے زیادہ قرب حالت سجدہ میں حاصل ہوتا ہے ۔‘‘

(مسلم شریف)

نماز کا سب سے اعلیٰ فعل یعنی سجدہ نماز جنازہ میں نہیں۔ صرف ادنیٰ فعل یعنی قیام ( کھڑے ہونا) سے ہی جنازہ کی نماز ہوتی ہے ۔ پھر بھی یہ نماز مقبول ہے ۔ اور درست ہوجاتی ہے ۔

جس کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے کان میں جو اذان دی جاتی ہے اس اذان کو نماز جنازہ کی اذان اگر مان بھی لیں تو یہ کہنا ہوگا کہ اس اذان کے بعد صرف ادنی افعال نماز یعنی قیام سے نمازا دا کی جاتی ہے۔

باقی رہا یہ سوال کہ دفن کے بعد قبر پر دی جانے والی اذان کے بعد اب کون سی نماز ادا کی جائے گی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ :

g قرآن مجید پارہ ۲۹ ، سورئہ قلم ، آیت نمبر ۴۲ میں ہے :

{ یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ إلیَ السُّجُوْدِ فَلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ }

’’ جس دن ایک ساق کھولی جائے گی اور سجدہ کو بلائے جائیں گے ، تو نہ کرسکیںگے ۔ ‘‘ ( کنز الایمان)

اس آیت کی تفسیر میں امام المفسرین ، رئیس المجتہدین ، حضرت علامہ امام جلال الدین عبدالرحمن بن کمال السیوطی (المتوفی ۹۱۱ ؁ھ )رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:

’’ ھُوَ عِبَارَۃٌ عَنْ شِدَّۃِ الأمْرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لِلْحِسَابِ وَ الْجَزَائِ۔‘‘

’’ قیامت کے دن کی سختی حساب اور جزاء کے معاملے میں ۔‘‘

( حوالہ : تفسیر جلالین شریف ، مطبوعہ ، بیروت، ص ۵۶۵)

یعنی جب کشف ساق ہوگا یعنی قیامت کے دن حساب اور جزا کے معاملہ میں سختی پیش آئے گی ، اس دن بھی کفار اور منافقین سجدہ نہ کریں گے یعنی ان کو بلایا جائے گا لیکن وہ اپنے کفر اور نفاق کی وجہ سے سجدہ نہ کر سکیں گے۔

لیکن !

الحمد للہ ! صحیح العقیدہ مومنین اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوں گے ، بعد دفن قبر پر دی جانے والی اذان اس نماز کی اذان ہے ۔حالاںکہ یہ نماز کا فعل سجدہ نماز جنازہ کے فعل قیام سے افضل ہے ۔ منکرین کے اعتراض کا جواب قرآن سے مل گیا کہ بعد دفن قبر پر دی جانے والی اذان روز محشر ہونے والی نماز کی اذان ہے ۔

لہذا بروز محشر جو لوگ نماز (سجدہ ) ادا کریں گے ، وہ بعد دفن قبر پر اذان دیتے ہیں اور منافقین کشف ساق کے وقت یعنی روز محشر سجدہ ادا نہ کر سکیں گے ، وہ قبر پر اذان نہیں دیتے بلکہ انکار کرتے ہیں اور سختی سے منع کرتے ہیں کیونکہ قیامت کے دن جب ان سے سجدہ ہی نہ ہو سکے گا، تو پھر اس نماز کے لیے دفن کے بعد قبر پر کیوں اذان دیں؟۔