أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَؕ ۞

ترجمہ:

جو نماز قائم کرتے ہیں اور ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” جو نماز قائم کرتے ہیں اور ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں “

مال حرام سے نجات کے طریقے 

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی تین باطنی صفات بیان فرمائی تھیں۔

1 ۔ وہ اللہ سے ڈرتے ہیں۔ 

2 ۔ اللہ کی آیات سن کر ان کا ایان تازہ ہوجاتا ہے 

3 ۔ اور وہ اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہیں۔

اور ان کے باطن کی پاکیزگی پر ظاہری پاکیزگی مترتب ہوتی ہے اور قلب کی جلاء اور فاء کا قالب پر اثر ہوتا ہے، اس لیے اس کے بعد ان کے ظاہر کی دو صفات بیان فرمائیں کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں اور ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں، بدنی عبادات میں سب سے اضل نماز ہے، اس لیے اس کا ذکر فرمایا، اور اللہ کے دیے ہوئے میں سے خرچ کرنا مالی عبادت ہے اس میں زکوۃ، صدقات، نماز، اور جہاد کے لیے خرچ کرنا، مساجد پر خرچ کرنا، کنویں کھدوانا، لائبریریاں قائم کرنا، دینی مدارس کی امداد کرنا اور سماجی اور رفاہی امور پر خرچ کرنا داخل ہے۔ اور ان تمام نیک کاموں میں حلال مال سے خرچ کرنا چاہیے حرام مال سے نیک کرنا اور سماجی اور رفاہی امور پر خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔ جس مال حرام کی حرمت قطعی ہو، اس کو صدقہ کرنا کفر ہے اور اگر فقیر کو معلوم ہو کہ یہ مال حرام ہے اور پھر بھی وہ دینے والے کو دعا دے تو وہ بھی کافر ہوجائے گا۔ حرام مال سے چھٹکارے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ مال جس کا ہے اس کو واپس کردے۔ اگر وہ شخص مرچکا ہو تو اس کے ورثاء کو واپس کردے۔ اور اگر ان کا پتا نہ چل سکے تو اس مال کے مالک کی طرف سے اس کو صدقہ کرکے اس کا ثواب اس کو پہنچا دے اور اگر اس نے حرام ذرائع سے روپیہ کمایا ہو تو اس مال کو اپنے پاس نہ رکھے اور اپنے ذمہ سے بری ہونے کی نیت سے کسی فقیر یا حاجت مند کو دے دے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 3