أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ‌ؕ لَهُمۡ دَرَجٰتٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ وَمَغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ‌ۚ ۞

ترجمہ:

یہی لوگ برحق مومن ہیں ان کے رب کے پاس ان کے لیے (بلند) درجات ہیں اور بخشش اور معزز روزی ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” یہی لوگ برحق مومن ہیں ان کے رب کے پاس ان کے لیے (بلند) درجات ہیں اور بخشش اور معزز روزی ہے “

میں یقیناً مومن ہوں یا میں انشاء اللہ مومن ہوں کہنے میں فقہاء اور متکلمین کا اختلاف 

آیات سابقہ میں تین باطنی اور دو ظاہری صفات ذکر کی گئی ہیں یعنی اللہ کا ذکر سن کر دل کا خوفزدہ ہونا، آیات سن کر ایمان زیادہ ہونا اور صرف اللہ کے فضل اور اس کی نصرت پر اعتماد اور توکل کرنا اور نامز قائم کرنا اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، اور جو مسلمان ان پانچوں صفات کے ساتھ متصف ہوں ان کے متعلق فرمایا اولئک ہم المومنون حقا، ” وہی برحق مومن ہیں ” اور ظاہر ہے کوئی مسلمان جزم اور یقین کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں ان صفات کے ساتھ متصف ہوں اور برحق مومن ہوں۔ کیونکہ جو مسلمان ان صفات کے ساتھ متصف ہوں، ان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : یہ برحق مومن ہیں اور ان کے لیے ان کے رب کے پاس (جنت میں) بلند درجات ہیں اور بخشش اور عزت والی روزی ہے، سو یہ کہنا کہ میں برحق مومن ہوں، اس کہنے کو مستلزم ہے کہ میں جنتی ہوں اور کوئی شخص یہ یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ میں جنتی ہوں تو وہ یہ بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ میں برحق مومن ہوں، ورنہ اس کا اس آیت کے نصف اول پر ایمان ہوگا اور باقی نصف پر ایمان نہیں ہوگا۔ اس بناء پر ائمہ ثلاثہ کا یہ مذہب ہے کہ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ یہ کہے کہ ” انا مومن حقا ” (میں برحق مومن ہوں) بلکہ اس کو یہ کہنا چاہی ” انا مومن انشاء اللہ ” (انشاء اللہ میں مومن ہوں)

ائمہ ثلاثہ نے اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے : 

حضرت انس بن مالک انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ان کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گزر ہوا، آپ نے ان سے پوچھا : اے حارث ! تم نے کس حال میں صبح کی۔ انہوں نے کہا میں نے اس حال میں صبح کی در آنحالیکہ میں برحق مومن تھا، آپ نے فرمایا غور کرو تم کیا کہہ رہے ہو ؟ کیونکہ ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے، سو تمہارے ایمان کی کیا حقیقت ہے ؟ انہوں نے کہا میں دنیا سے بےرغبت ہوں میں رات بھر بیدار رہا اور دن بھر پیاسا رہا (یعنی روزہ سے رہا) اور گویا کہ میں اہل جنت کو دیکھ رہا تھا وہ ایک دوسرے کی زیارت کر رہے تھے اور گویا کہ میں اہل دوزخ کو دیکھ رہا تھا وہ بھوک سے بلبلا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا اے حارث ! تم نے معرفت حاسل کرلی ہے۔ تم ان (مذکورہ) تین اوصاف کو لازم رکھنا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ج 11، ص 43، المعجم الکبیر ج 3، رقم الحدیث : 3367 ۔ مسند البزار رقم الحدیث : 22 کتاب الزہد للبیہقی رقم الحدیث : 971 ۔ مجمع الزوائد ج 1، ص 57، کنزل العمال رقم الحدیث : 36988 ۔ الدر المنثور ج 4، ص 13)

امام رازی شافعی متوفی 606 ھ اور امام قرطبی مالکی متوفی 668 ھ نے درج ذیل اثر سے بھی ائمہ ثلاثہ کے موقف پر استدلال کیا ہے۔ 

حسن بصری سے کسی نے سوال کیا کہ کیا آپ مومن ہیں ؟ انہوں نے کہا ایمان کی دو قسمیں ہیں : اگر تم مجھ سے اللہ، فرشتوں، کتابوں رسولوں اور یوم آخرت کے ایمان کے متعلق سوال کرتے ہو تو میں مومن ہوں، اور اگر تمہاری مراد یہ ہے کہ مومن صرف وہ ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو وہ خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ (الانفال : 2) تو اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ میں مومن ہوں یا نہیں۔ (تفسیر کبیر ج 5، ص 454، الجامع لاحکام القرآن ج 7، ص 329، بیروت)

مبحث مذکور میں فریقین کے درمیان محاکمہ 

اس مبحث میں تحقیقی یہ ہے کہ ایمان کی دو قسمیں ہیں : 

1 ۔ نفس ایمان یعنی دل سے ان تمام چیزوں کی تصدیق کرنا جس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے پاس سے لے کر آئے۔ 

2 ۔ ایمان کامل یعنی دل سے تصدیق کرنا، زبان سے اقرار کرنا اور تمام احکام شرعیہ پر عمل کرنا۔ 

نفس ایمان کے اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہے کہ میں برحق مومن ہوں، اور ایمان کامل کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے کیونکہ ایمان کامل میں اعمال بھی داخل ہیں اور انسان کو تصدیق بالقلب پر ہرچند کہ یقین ہوتا ہے لیکن مستقبل میں احکام شرعیہ پر عمل کرنے کے متعلق وہ کچھ نہیں کہہ سکتا آیا مستقبل میں وہ نیک عمل کرے گا یا نہیں۔ اس لیے ایمان کامل کے اعتبار سے اس کا یہ کہنا صحیح نہیں کہ میں برحق مومن ہوں بلکہ یہ کہنا صحیح ہے کہ انشاء اللہ میں مومن ہوں۔ امام ابوحنیفہ جب مطلقاً لفظ ایمان بولا جائے تو اس سے نفس ایمان مراد لیتے ہیں اس لیے وہ فرماتے ہیں کہ یہ کہنا صحیح ہے کہ میں برحق مومن ہوں یا میں یقیناً مومن ہوں۔ ائمہ ثلاثہ جب لفظ ایمان مطلقاً بولا جائے تو اس سے مومن کامل مراد لیتے ہیں اس لیے وہ کہتے ہیں کہ میں یقیناً مومن ہوں کہنا صحیح نہیں ہے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ میں انشاء اللہ مومن ہوں۔

” میں یقیناً مومن ہوں ” کہنے کے دلائل 

علامہ مسعود بن عمر سعد الدین تفتا زانی متوفی 793 ھ لکھتے ہیں :

بہ شمول امام شافعی متوفی 204 ھ کثیر سلف صالحین کا یہ موقف ہے کہ یہ کہنا صحیح ہے کہ میں انشاء اللہ مومن ہوں اور امام ابوحنیفہ ان کے اصحاب اور اکثرین نے اس سے منع کیا ہے، کیونکہ انسان کو یہ معلوم ہے کہ اس کے دل میں اللہ اور فرشتوں، کتابوں، رسولوں، تقدیر اور یوم آخرت کی تصدیق ہے اور اس تصدیق کے تحقق اور ثبوت میں کوئی شک اور تردد نہیں ہے، اور جس شخص کو است صدیق کے تحقق میں شک اور تردد ہوگا، وہ قطعی طور پر مومن نہیں ہوگا اور جب اس کو شک اور تردد نہیں ہے تو پھر انشاء اللہ میں مومن ہوں، کہنے کو ترک کرنا اولیٰ ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ میں حقا اور یقیناً مومن ہوں، اور تصدیق میں شک اور تردد کے وہم کو دور کیا جائے۔ اور جو ائمہ ” میں انشاء اللہ مومن ہوں ” کہنے کے قائلین ہیں، ان کے دلائل اور ان دلائل کے جوابات حسب ذیل ہیں : 

” میں انشاء اللہ مومن ہوں ” کہنے کے دلائل کا تجزیہ 

1 ۔ میں مومن ہوں کے ساتھ انشاء اللہ، اللہ کے ذکر کے ساتھ تبرک حاصل کرنے کے لیے ذکر کیا جاتا ہے اور ادب کے لیے کہ تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیت کی طرف مفوض ہیں، اور اپنے نفس سے تکبر کو دور کرنے کے لیے، اور تردد مستقبل کے اعتبار سے ہے۔ اس دلیل کا جواب یہ ہے کہ اس دلیل سے صرف اس قول کی صحت معلوم ہوتی ہے نہ کہ ” میں انشاء اللہ مومن ہوں ” کی ترجیح ” میں یقینا مومن ہوں ” کہنے پر۔ اور تردد کا وہم بہرحال باقی رہتا ہے اور تبرک اور ادب کی ایمان کے ساتھ کیا تخصیص ہے، یہ تو باقی نیک اعمال اور عبادات میں بھی ہوسکتا ہے۔ 

2 ۔ تصدیق ایمانی، جس پر نجات کی مدار ہے وہ ایک مخفی امر قلبی ہے اور شیطان اور خواہش اس کے معارض ہوتے رہتے ہیں۔ ہرچند کہ انسان کو اس کے حصول کا یقین ہوتا ہے لیکن وہ اس خطرہ سے مامون نہیں ہے کہ اس کو کوئی ایسی چیز لاحق ہوجائے جو نجات کے منافی ہو، خاص طور پر جب وہ احکام شرعیہ اور ممنوعات شرعیہ کی تفصیلوں کو دیکھتا ہے تو اس کو بعض احکام اور ممنوعات اپنی خواہشات کے خلاف دکھائی دیتے ہیں اور بہت سی چیزیں جو اس کے نزدیک لذیذ اور پسندیدہ ہیں اور شرعاً ممنوع ہیں اور کتنی مرتبہ وہ احکام شرعیہ کے مقابلہ میں اپنے نفس کے تقاضوں پر عمل کرلیتا ہے تو بہتر ہے کہ وہ اپنے ایمان کو اللہ کی مشیت کے سپرد کردے اور کہے کہ میں انشاء اللہ مومن ہوں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تقریر ایمان کامل میں جاری ہوتی ہے نہ کہ نفس ایمان میں۔ 

3 ۔ امام الحرمین نے یہ کہا ہے کہ ایمان فی الحال قطعاً ثابت ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے لیکن جس ایمان پر کامیابی اور نجات کا مدار ہے یہ وہ ایمان ہے جو پوری زندگی میں موت تک قائم رہے اور کوئی شخص جزم اور یقین سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ تاحیات مومن رہے گا اور اس کا خاتمہ ایمان پر ہوگا، اس وجہ سے سلف صالحین نے یہ کہا ” کہ میں انشاء اللہ مومن ہوں ” کہنا چاہیے، اس لیے اب اشاعرہ پر یہ اعتراض نہیں ہوگا کہ جب انسان ایمان کے ساتھ متصف ہے تو وہ یقیناً مومن ہے اور انشاء اللہ میں مومن ہوں کہنا صحیح نہیں ہے جیسا کہ میں انشاء اللہ زندہ ہوں کہنا صحیح نہیں کیونکہ اعتبار خاتمہ کا ہوتا ہے، کئی لوگ زندگی میں نیک اور صالح ہوتے ہیں اور ان کا خاتمہ بدکاری پر ہوتا ہے اور کئی لوگ پوری زندگی مومن ہوتے ہیں اور ان کا خاتمہ کفر پر ہوتا ہے، اور انسان کچھ نہیں جانتا کہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہوگا یا کفر پر اور وہ اللہ کے علم میں مومن ہے یا نہیں، وہ ہرچند کہ اس وقت قطعاً اور یقیناً مومن ہے اور اس میں کوئی شک اور تردد نہیں لیکن وہ کفر پر خاتمہ سے ڈرتا ہے اور ایمان اور اعمال صالحہ پر خامتہ کی امید رکھتا ہے۔ اس لیے انجام بخیر کی امید سے وہ کہتا ہے کہ میں انشاء اللہ مومن ہوں، یعنی جس طرح اب میں قطعاً اور یقیناً مومن ہوں تو اگر اللہ نے چاہا تو میں تادم مرگ مومن ہی رہوں گا اور ایمان پر آئندہ بھی برقرار رہوں گا اور یہ قول برحق ہے اور اس آیت کے موافق ہے : ” ولا تقولن لشای انی فاعل ذلک غدا۔ الا انیشاء اللہ واذکر ربک اذا نسیت : اور آپ کسی چیز کے متعلق ہرگز یہ نہ کہیں کہ میں اس کام کو کل کرنے والا ہوں، مگر یہ کہ اللہ چاہے اور جب آپ بھول جائیں تو آپ اللہ کو یاد کریں ” (الکہف :23 ۔ 24)

یہ تقریر بالکل درست ہے لیکن اس تقدیر پر مطلقاً یہ کہنا درست نہیں ہے کہ میں یقیناً مومن ہوں، نہیں کہنا چاہیے بلکہ میں انشاء اللہ معمون ہوں کہنا چاہیے، بلکہ صحیح یہ ہے کہ حال کے اعتبار سے میں یقیناً مومن ہوں کہنا چاہیے اور مآل اور خاتمہ کے اعتبار سے میں انشاء اللہ مومن ہوں کہنا چاہیے۔ 

اللہ تعالیٰ صحت اور عافیت کے ساتھ ایمان پر ہماری زندگی برقرار رکھے اور عزت اور کرامت کے ساتھ ایمان پر ہمارا خاتمہ کرے اور ہمیں دنیا اور آخرت کی ہر آفت اور بلا اور ہر فکر اور پریشانی سے محفوظ رکھے اور ہمیں دارین کی فوزوفلاح عطا فرمائے اور آخرت میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی آل اور اصحاب کی رفاقت عطا فرمائے۔ (آمین) ۔ (شرح المقاصد ج 5، ص 215 ۔ 217، ملخصاً و موضحاً ، مطبوعہ منشورات الرضی ایران، 1409 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 4