باب مایقرأ بعد التکبیر

تکبیر کے بعد کیا پڑھیں ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ یعنی تکبیرتحریمہ کے بعد اور سورۂ فاتحہ سے پہلے کون سی دعائیں پڑھنا سنت ہیں۔خیال رہے کہ اس بارے میں روایتیں مختلف ہیں۔بعض میں”اِنِّیۡ وَجَّہۡتُ وَجْہِیَ”الخ،بعض میں “سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ” اور بعض میں دیگر دعائیں۔حق یہ ہے کہ نمازی کو اختیار ہے کہ فرائض ونوافل وغیرہ میں جو دعا چاہے پڑھے”سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ”مختصر اور جامع ہے یہ پڑھنا بہتر ہے اس لیے احناف اکثر سبحان پڑھتے ہیں۔خیال رہے کہ نفل کا ہر شفعہ مستقل نماز ہے لہذا اس میں تیسری رکعت میں بھی سبحان پڑھنا چاہیے۔

حدیث نمبر41

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر اور قرأت کے درمیان کسی قدر خاموش رہتے تھے ۱؎میں نے کہا میرے ماں باپ فدا ہوں یارسول اﷲ آپ کی تکبیر اور قرأت کے درمیان خاموشی کیسی آپ اس میں کیا کہتے ہیں ۲؎ فرمایا میں کہتا ہوں الہٰی میرے اور میری خطاؤں کے درمیان ایسی دوری کردے جیسی تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری کی ۳؎ الہٰی مجھے خطاؤں سے ایسے پاک و صاف کردے جیسا سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے ۴؎ الہٰی میری خطائیں پانی اور برف اور اولوں سے دھودے ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یعنی تلاوتِ قرآن سے پہلے خاموش رہتے تھے جہر نہ کرتے تھے جیسا کہ آئندہ کلام سے معلوم ہورہا ہے۔

۲؎ یہ ہے عشق و ادب کا اجتماع!سوال سے پہلے اپنی قربانی کا ذکر،پھر آپ کا عمل شریف پوچھا تاکہ خود بھی اس کی نقل کرکے رحمتِ الہٰی کے مستحق ہوجائیں۔

۳؎ یعنی مجھے خطاؤں سے بہت دور رکھ یا جو خطائیں مجھ سے واقع ہوچکیں انہیں مجھ سے دور کر جیسے مشرق مغرب سے نہیں مل سکتی ایسے وہ خطائیں مجھ سے نہ مل سکیں۔پہلی صورت میں دعائے عصمت ہے اور دوسری صورت میں تعلیم امت۔

۴؎خیال رہے کہ سفید کپڑے کو بہت احتیاط سے صاف کرتے ہیں کیونکہ اس کا معمولی دھبہ دور سے نظرآتا ہے اس لیے سفید کپڑے کا ذکر فرمایا۔

۵؎یعنی مجھے اپنی مغفرت و رحمت کے ٹھنڈے پانی سے غسل دے دے جس سے طہارت بھی حاصل ہو اور ٹھنڈک و راحت بھی،یہ عجیب قسم کی تمثیل ہے۔خیال رہے کہ ان جیسی تما م دعاؤں میں ہم گنہگاروں کو تعلیم دینا مقصود ہے،ورنہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم ہر طرح طیب و طاہر تھے،ہیں اور رہیں گے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان تو بہت بلند و بالا ہے۔جس پر حضور کی نگاہ کرم ہوجائے وہ پاک ہوجائے،رب فرماتا ہے:”وَیُزَکِّیۡہِمْ”ہمارے نبی لوگوں کو پاک فرماتے ہیں۔