فضائل ذکر الٰہی 

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا :جب کوئی جماعت ذکر الٰہی کے لئے بیٹھتی ہے تو فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں ۔رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے ۔سکون واطمینان کی دولت ان کے لئے نازل ہوتی ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کاتذکرہ ان فرشتوں میں فرماتا ہے جو اس سے قریب ہوتے ہیں۔ (مسلم شریف)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پیارے آقا انے ارشاد فرمایا : اللہ کے کچھ فرشتے راستوںمیں ذکر کرنے والوں کی تلاش میں گھومتے رہتے ہیں جب وہ ذاکرین کی کسی جماعت کو پاتے ہیں تو ایک دوسرے کو پکار تے ہیں کہ آئو اپنے مقصد کی طرف (یعنی مل گئے جنہیں ہم تلاش کررہے تھے )پھر وہ فرشتے ذاکرین کو اپنے پروں میں ڈھانپ لیتے ہیں (محبت والفت کے طور پر)پھر وہ اپنے رب کے دربار میں حاضر ہوتے ہیں تواللہ ان سے پوچھتاہے حالانکہ اللہ اپنے بندوں کا حال جانتاہے (لیکن فرشتوں سے اپنے ذاکر بندوں کی تعریف سننا پسند فرماتاہے )اے فرشتو ! تم نے میرے بندوں کو کس حال میں پایا ؟ 

فرشتے عرض کرتے ہیں’’ یُسَبِّحُوْنَکَ ، وَیُکَبِّرُوْنَکَ ،وَیَحْمَدُوْنَکَ ،وَیَمْجَدُوْنَکَ‘‘رب ! تیرے بندے تیری تسبیح بیان کررہے تھے ،تیری بڑائی بیان کررہے تھے ،تیری تعریفیں بیان کررہے تھے،تیری بزرگی بیان کررہے تھے ۔اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے :ھَلْ رَاَوْنِی؟کیا انہوں نے مجھے دیکھاہے ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں :مَارَأوْکَ۔ نہیں مولا انہوں نے تجھے نہیں دیکھا ۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کَیْفَ لَوْرَأوْنِیْ؟ اگر وہ مجھے دیکھ لیتے توان کا کیا حال ہوتا ؟فرشتے عرض کرتے ہیں اگر وہ تجھے دیکھ لیتے تو وہ اور زیادہ تیری عبادت کرتے اور زیادہ بزرگی بیان کرتے اور زیادہ تسبح بیان کرتے ۔

اللہ تعالیٰ فرماتاہے ۔فَمَایَسْئَلُوْنَ ؟،وہ مجھ سے کیا مانگ رہے تھے ؟فرشتے عرض کرتے ہیں ، مولا وہ تجھ سے جنت مانگ رہے تھے ۔اللہ عزوجل فرماتاہے کیا انہوں نے جنت دیکھی ہے ؟فرشتے عرض کرتے ہیں نہیں بقسم رب ! انہوںنے جنت نہیں دیکھی ۔ اللہ تبارک تعالیٰ فرماتاہے :اگروہ جنت دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا ؟

فرشتے کہتے ہیں اگر وہ جنت دیکھ لیتے تو وہ اس کی بہت حرص کرتے ۔اس کے بہت طلب گار ہوجاتے اوراس کی طرف ان کی رغبت اور زیادہ ہوجاتی ۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وہ کس چیزسے پناہ مانگ رہے تھے ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں’’ مِنَ النَّارِ‘‘جہنم کی آگ سے ۔

اللہ فرماتا ہے’’ کیا انہوںنے جہنم کو دیکھا ہے ؟ 

فرشتے عرض گزار ہوتے ہیں نہیں بقسم اے رب! انہوں نے اسے نہیں دیکھا ۔

اللہ جل شانہ فرماتاہے : اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا ؟ 

فرشتے کہتے ہیں اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو وہ اس سے مزید بھاگتے اور زیادہ ڈرتے ۔

پھر اللہ جل مجدہ الکریم فرماتا ہے :فَاُشْھِدُکُمْ اِنِّیْ غَفَرْتُ لَھُمْ (اے فرشتو! )میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان سب کو بخش دیا فرشتے کہتے ہیں :اے اللہ! ان میں ایک شخص تھا جو ذکر نہیں کر رہاتھا ،بلکہ اپنی کسی ضرورت کے لئے ان کے پاس آیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لَا یَشْقٰی جَلِیْسُھُمْ : ان کے پاس بیٹھنے والا بھی محروم نہیں رہتا (بخاری شریف) 

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا: جنہیں قیامت کے دن سب سے پہلے جنت کی طرف بلایا جائے گا وہ ہوںگے جو خوشی وغم میں اللہ عزوجل کی حمد کرتے ہیں۔

اور روایت ہے حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے وہ اپنے والد سے وہ اپنے داداسے راوی ہیں ۔انہوں نے فرمایا رسول اللہ ا نے فرمایا : جو صبح کو سوبار’’سُبْحَانَ اللّٰہِ‘‘ پڑھے اور شام کو سوبار تو اس کی طرح ہوگا جو سو حج کرے۔ اور جو سوبار’’ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ ‘‘پڑھے اور سو بار شام کو تو اس جیسا ہوگا جو اللہ عزوجل کی راہ میں سو گھوڑے خیرات کرے اور جو صبح کوسوبار’’ لاالہ الااللہ‘‘ پڑھے اور سو بار شام کو تو اس کی طرح ہوگا جو اولاد حضرت اسمٰعیل علیہ السلام سے سوغلام آزادکرے اور جوسو بار صبح کو’’ اَللّٰہُ اکْبَرْ‘‘ پڑھے اور سو بار شام کو تو کوئی اس سے زیادہ نیکیاں اس دن نہ کرسکے گا سوائے اس کے جو اتنی ہی بار یہ کلمات کہہ لے یا اس سے زیادہ۔ 

( مشکٰوۃ ج۲؍ص۳۴۶)

حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا کا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بعض قوموں کا حشر اس طرح فرمائے گا کہ ان کے چہروں پر نور چمکتا ہوگا ۔ وہ موتیوں کے منبروں پر ہوںگے ، لوگ ان پر رشک کرتے ہوںگے ۔وہ انبیاء، شہداء نہ ہوںگے۔ کسی نے عرض کیا : یا رسول اللہ ا! ان کا حال بیان فرمادیجئے تاکہ ہم ان کو پہچان لیں۔

حضور ا نے ارشاد فرمایا ۔یہ وہ لوگ ہوںگے جو اللہ تعالیٰ کی محبت میں مختلف جگہوں سے مختلف خاندانوں سے آکر ایک جگہ جمع ہوگئے ہوںاور اللہ عزوجل کے ذکر میں مشغول ہوں۔(طبرانی شریف )

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہانے فرمایا : جب بندہ ذکر الٰہی کے لئے اپنے ہونٹوں کو ہلاتا ہے اور ذکر کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے ساتھ ہوتا ہے

(صحیح بخاری شریف)

حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ا کی بار گاہ میں حاضر ہوا ۔اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ ااسلام کے مجھ پر بہت سے احکام ہیں ۔آپ ا مجھے ایسی بات بتادیں جس پر میںتکیہ کروں ۔تب رسول اللہانے فرمایا تمہاری زبان اللہ تعالیٰ کی یاد میں ہمیشہ تر رہے ۔ (ترمذی شریف) 

حضرت عبدالرحمٰن بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہم حضور رحمت عالم اکے دولت کدہ میں تھے کہ آیت ’’وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذیِنَ یَدْعُوْنَ ربَّھُمْ بِالْغَدَاۃِ وَ الْعَشِیِّ وَالاِبْکَارِ‘‘ ا لآیہ نازل ہوئی۔ جس کا ترجمہ یہ ہے ۔اپنے آپ کو ان لوگوں کے پاس بیٹھنے کا پابند کیجئے جو صبح وشام اپنے رب کو پکارتے ہیں۔ رسول اعظم ا اس آیت کے نازل ہونے پر ان لوگوں کی تلاش میں نکلے ۔ایک جماعت کو دیکھا کہ اللہ عزوجل کے ذکر میں مشغول ہے ۔بعض لوگ ان میں بکھرے بال والے اور خشک کھالوں والے اور صرف ایک کپڑے والے ہیں۔جب رحمت عالم ا نے ان کو دیکھا تو ان کے پاس بیٹھ گئے۔اور ارشاد فرمایا کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔جس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا فرمائے کہ خود مجھے ان کے پاس بیٹھنے کا حکم دیا (طبرانی شریف)

غافل انساں! اپنے رب کو یاد کر

دل کی اجڑی بستیاں آباد کر 

yxyxyxyx