حکایت نمبر281: قناعت پسند صوفی

حضرتِ سیِّدُنا احمد بن محمدبَزَّاز علیہ رحمۃ اللہ الغفّار فرماتے ہیں:”ایک مرتبہ عاشورہ کی رات میں ایک مسافر خانے میں داخل ہوا تو وہاں ایک درویش جَو کی روٹی نمک کے ساتھ کھا رہا تھا۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر میں تڑپ اٹھا۔ میرے پاس اس وقت ایک ہزار دینار تھے جو میں نے عبادت گزاروں کو نذرانہ دینے کی غرض سے جمع کر رکھے تھے ۔ میں نے لوگوں سے ا س درویش کے متعلق پوچھا تو پتا چلاکہ وہ علم تَصَوُّف کا بہت بڑا عالم اور یہاں کے تمام زاہدوں پر فوقیت رکھتا ہے۔ میں نے سوچا کہ یہ تمام دینار اسے دے دینے چاہیں کیونکہ اس سے بہتر کوئی نہیں جس پر مال خرچ کیا جائے ۔

چنانچہ، صبح ہوتے ہی میں چندرفقاء کے ساتھ اس درویش کے پاس گیا۔ وہ بڑی خندہ پیشانی سے ملا، میں بھی خوش رُوئی سے پیش آیا۔ میں نے کہا:” کل میں نے آپ کو نمک کے ساتھ جَو کی روٹی کھاتے دیکھا۔ میرا خیال ہے کہ تم دن کو روزہ رکھتے ہو اور افطاری میں صرف نمک کے ساتھ جَو کی روٹی کھاتے ہو۔ میں چاہتاہوں کہ تمہیں کچھ ہدیہ پیش کروں۔” یہ کہہ کر میں نے دیناروں کی تھیلی اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا: ”یہ ایک ہزار دینار ہیں انہیں قبول فرماکر مجھ پر احسان فرمائیں ۔” یہ سن کر اس درویش نے میری طرف بڑی غضب ناک نظروں سے دیکھا اورکہا:” اپنے دینار واپس لے جاؤ! بے شک یہ تواس کی جزاء ہے جس نے اپنا راز لوگوں پر ظاہر کردیاہو، جاؤ! ہمیں تمہارا یہ مال نہیں چاہے۔” میں نے بہت اصرار کیالیکن اس نے ایک دینار بھی قبول نہ کیا۔(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)(سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ !ہمارے بزرگانِ دین میں کیسی خودداری ہواکرتی تھی کہ نمک کے ساتھ جَو کی روٹی کھا نا تو منظور کر لیتے لیکن کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کرتے۔ اگر کوئی بن مانگے دیتاتب بھی اس سے گریز کرتے ، ذرا سابھی خیال آجاتا کہ یہ ہدیہ ہمیں اس لئے دیا جارہا ہے کہ لوگوں پر ہماری عبادت کا حال ظاہر ہوگیا ہے اورہماری عبادت وریاضت سے متاثر ہوکر ہدیہ دیا جا رہا ہے تو ہرگز قبول نہ کرتے ۔ بس اپنے پاس جورزقِ حلال ہوتا اسی پراکتفاء کر کے صابر وشاکر رہتے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے صدقے ہمیں بھی قَناعت کی دولت سے مالا مال فرمائے اورہر حال میں اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)