أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَمَاۤ اَخۡرَجَكَ رَبُّكَ مِنۡۢ بَيۡتِكَ بِالۡحَـقِّۖ وَاِنَّ فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ لَـكٰرِهُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

(مال غنیمت کی تقسیم میں ان کا اختلاف کرنا اسی طرح ہے) جس طرح اس وقت ان کا اختلاف تھا جب آپ کا رب حق کے ساتھ آپ کو آپ کے گھر سے باہر لایا تھا اور بیشک مسلمانوں کا ایک گروہ اس کو ناپسند کرنے والا تھا

تفسیر:

5 ۔ 6:۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” (مال غنیمت کی تقسیم میں ان کا اختلاف کرنا اسی طرح ہے) جس طرح اس وقت ان کا اختلاف تھا جب آپ کا رب حق کے ساتھ آپ کو آپ کے گھر سے باہر لایا تھا اور بیشک مسلمانوں کا ایک گروہ اس کو ناپسند کرنے والا تھا۔ وہ لوگ حق ظاہر ہونے کے باوجود آپ سے اس میں بحث کر رہے تھے، گویا کہ وہ آنکھوں دیکھتے موت کی طرف دھکیلے جا رہے تھے “

بعض صحابہ کے نزدیک لشکر کفار سے مقابلہ کا ناگوار ہونا، اس کا پس منظر اور پیش منظر 

امام بیہقی نے روایت کیا ہے کہ قریش کا قافلہ شام سے مکہ آ رہا تھا، اور اس میں بہت زیادہ غلہ اور سازوسامان تھا، اس قافلہ کے ساتھ چالیس سوار تھے۔ ان میں ابو سفیان، عمرو بن العاص، اور دوسرے کفار قریش تھے، حضرت جبریل (علیہ السلام) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس فقفلہ کی خبر دی، آپ نے مسلمانوں کو بتایا وہ اس خبر سے بہت خوش ہوئے اور انہوں نے سوچا کہ وہ قافلہ پر حملہ کرکے اس کا مال و متاع چھین لیں گے، کیونکہ اس قافلہ میں مال بہت زیادہ تھا اور اس کے محافظ کم تھے، جب وہ قافلہ پر حملہ کے ارادہ سے نکلے تو اہل مکہ کو اس کی خبر ہوگئی، ابوجہل نے کعبہ کی چھت پر کھڑے ہو کر ندا کی، اے اہل مکہ ہر مشکل اور رسوائی سے اپنے آپ کو بچاؤ اگر (سیدنا) محمد ( (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) نے قافلہ لوٹ لیا، تو تم ہرگز فلاح نہ پاسکو گے، ان ہی دنوں عباس بن عبدالمطلب کی بہن نے ایک خواب دیکھا اور اپنے بھائی سے کہا میں نے ایک عجیب و غریب خواب دیکھا ہے، میں نے دیکھا ہے کہ ایک شتر سوار آیا اور اس نے پکار کر کہا اے عہد شکن قوم تین دن کے اندر اپنی قتل گاہوں کی طرف دوڑو، اور اس نے پہاڑ سے ایک چٹان الگ کرلی اور مکہ کے ہر گھر میں اس چٹان سے ایک پتھر ٹوٹ کر پہنچ گیا، عباس نے یہ خواب ابوجہل کو سنایا تو ابوجہل نے کہا کہ تم مردوں کی نبوت پر راضی نہ ہوئے تھے کہ تمہاری عورتوں نے دعوی نبوت کرنا شروع کردیا، پھر ابوجہل تمام اہل مکہ کو لے کر نکلا اور یہ بہت بڑا لشکر تھا، ابوجہل کو بتایا گیا کہ ابوسفیان کے قافلہ نے ساحل کا راستہ اختیار کرلیا ہے اور وہ محفوظ ہوچکا ہے، تم اب لوگوں کو واپس مکہ لے جاؤ۔ اس نے کہا نہیں ! خدا کی قسم یہ کبھی نہیں ہوسکتا، حتی کہ ہم اونٹوں کو ذبح کریں گے، شراب پئیں گے اور ہماری باندیاں آلات موسیقی کے ساتھ گانا سنائیں گی اور تمام قبائل عرب ہمارے خروج کی خبر سن لیں گے، اور (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وآلہ وسلم نے ہرچند کہ قافلہ کو نہیں لوٹا لیکن وہ اپنی قوم کو لے کر میدان بدر میں آ چکے ہیں، اور میدان بدر میں تمام قبائل عرب سال میں ایک بار بازار لگاتے تھے، ادھر حضرت جبریل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور کہا اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ نے آپ سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ فرمایا ہے، تجارتی قافلہ یا لشکر قریش ! نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا اور فرمایا قریش مکہ، ہر مشکل اور ہر مصیبت کا چیلنج قبول کرکے مکہ سے نکل کر یہاں آن پہنچے ہیں، تمہارے نزدیک تجارتی قافلہ پر حملہ کرنا پسندیدہ ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا، آپ نے فرمایا تجارتی قافلہ تو ساحل سمندر کے راستے مکہ کی طرف روانہ ہوچکا ہے اور اب توہ تمہاری دست برد سے محفوظ ہے، اور ادھر ابوجہل اپنے لشکر کے ساتھ تمہارے سر پر پہنچ چکا ہے۔ اصحاب نے پھر کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! قافلہ کا پیچھا کیجئے اور دشمن کو چھوڑیے، جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غضب ناک ہوئے تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) نے اچھی باتیں کہیں، پھر حضرت سعد بن عبادہ کھڑے ہوئے، اور کہا آپ وہی کام کیجئے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے، اور آپ جو بھی ارادہ کریں گے ہم آپ کے ساتھ ہیں، اللہ کی قسم اگر آپ عدن کی طرف بھی روانہ ہوئے تو انصآر میں سے کوئی شخص آپ کا ساتھ نہ چھوڑے گا، پھر حضرت مقداد بن عمرو نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ وہی کیجئے جس کا آپ کو اللہ نے حکم دیا ہے، اور آپ جو بھی ارادہ کریں گے، ہم آپ کے ساتھ ہیں اور ہم اس سطرح نہیں کہیں گے جس طرح بنو اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا آپ اور آپ کا رب جا کر جنگ کریں ہم یہیں بیٹھنے والے ہیں۔ (المائدہ :24) بلکہ ہم آپ سے یہ کہیں گے کہ آپ اور آپ کا رب جنگ کریں ہم آپ کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتے رہیں گے جب تک ہماری آنکھوں کی پلکیں جھپکتی رہیں گی، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرائے اور آپ نے فرمایا اللہ کی برکت سے روانہ ہو، بیشک میں قوم کفار کے گرنے کی جگہوں کو دیکھ رہا ہوں۔ (الحدیث) ۔ (دلائل النبوۃ، ج 3، ص 28 ۔ 34، ملخصاً ، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1410 ھ)

اس قصہ سے یہ معلوم ہوگیا کہ لشکر قریش سے مقابلہ کرنا صرف بعض اصحاب کو ناگوار تھا تمام صحابہ کو ناگوار نہیں تھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے بیشک مسلمانوں کا ایک گروہ اس کو ناپسند کرنے والا تھا، اور یہ فرمایا ہے کہ ” وہ حق ظاہر ہونے کے باوجود آپ سے اس میں بحث کر رہے تھے ” اس کا معنی یہ ہے کہ وہ لشکر کفار سے مقابلہ کرنے کی بجائے قافلہ کے مال و متاع کی وجہ سے اس پر حملہ کرنے کو ترجیح دیتے تھے، حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو یہ بتا چکے تھے کہ اس مقابلہ میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوگی اور ان کی بحث یہ تھی کہ ہم تو قافلہ پر حملہ کرنے کی نیت سے اپنے گھروں سے نکلے تھے۔ اور آپ نے ہمیں پہلے کیوں نہیں بتایا تاکہ ہم اس لشکر سے مقابلہ کرنے کی اچھی طرح تیاری کرلیتے، پھر ان پر لشکر کفار کا جو رعب اور ہیبت طاری تھی اس کو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے حال سے تشبیہ دی ہے جو آنکھوں دیکھے موت کی طرف دھکیلے جارہے ہوں، ان کے خوف کی وجہ یہ تھی کہ لشکر کفار کے مقابلہ میں ان کی تعداد ایک تہائی تھی، اور ان کے پاس صرف دو گھوڑے تھے اور باقی پیادہ تھے اور ان کے پاس ہتھیار بھی بہت کم تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 5