وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْاؕ-اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ(۵۹)

اور ہرگز کافر اس گُھمنڈ میں نہ رہیں کہ وہ (ف۱۱۲) ہاتھ سے نکل گئے بےشک وہ عاجز نہیں کرتے (ف۱۱۳)

(ف112)

جنگِ بدر سے بھاگ کر قتل و قید سے بچ گئے اور مسلمانوں کے ۔

(ف113)

اپنے گرفتار کرنے والے کو ۔ اس کے بعد مسلمانوں کو خِطاب ہوتا ہے ۔

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْۚ-لَا تَعْلَمُوْنَهُمْۚ-اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْؕ-وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ(۶۰)

اور ان کے لیے تیار رکھو جو قوت تمہیں بن پڑے (ف۱۱۴) اور جتنے گھوڑے باندھ سکو کہ ان سے کہ ان کے دلوں میں دھاک بٹھاؤ جو اللہ کے دشمن اور تمھارے دشمن ہیں (ف۱۱۵) اور ان کے سوا کچھ اوروں کے دلوں میں جنہیں تم نہیں جانتے (ف۱۱۶) اللہ انہیں جانتا ہے اور اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کرو گے تمہیں پورا دیا جائے گا (ف۱۱۷) اور کسی طرح گھاٹے میں نہ رہو گے

(ف114)

خواہ وہ ہتھیار ہوں یا قلعے یا تیر اندازی ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں قوت کے معنٰی رمی یعنی تیر اندازی بتائے ۔

(ف115)

یعنی کُفّار اہلِ مکّہ ہوں یا دوسرے ۔

(ف116)

ابنِ زید کا قول ہے کہ یہاں اوروں سے منافقین مراد ہیں ۔ حسن کا قول ہے کہ کافِر جن ۔

(ف117)

اس کی جزا وافر ملے گی ۔

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۶۱)

اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی جھکو (ف۱۱۸) اور اللہ پر بھروسہ رکھو بےشک وہی ہے سنتا جانتا

(ف118)

ان سے صلح قبول کر لو ۔

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُؕ-هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ(۶۲)

اور اگر وہ تمہیں فریب دیا چاہیں (ف۱۱۹) تو بےشک اللہ تمہیں کافی ہے وہی ہے جس نے تمہیں زوردیا اپنی مدد کا اور مسلمانوں کا

(ف119)

اور صلح کا اظہار مَکرکے لئے کریں ۔

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْؕ-لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْؕ-اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۶۳)

اور ان کے دلوں میں میل کردیا (اُلفت پیدا کر دی)(ف۱۲۰) اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کردیتے ان کے دل نہ ملا سکتے (ف۱۲۱) لیکن اللہ نے ان کے دل ملادئیے بےشک وہی ہے غالب حکمت والا

(ف120)

جیسا کہ قبیلۂ اوس و خزرج میں مَحبت و الفت پیدا کردی باوجود یہ کہ ان میں سو برس سے زیادہ کی عداوتیں تھیں اور بڑی بڑی لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں ، یہ مَحض اللہ کا کرم ہے ۔

(ف121)

یعنی ان کی باہمی عداوت اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ انہیں ملادینے کے لئے تمام سامان بے کار ہو چکے تھے اور کوئی صورت باقی نہ رہی تھی ، ذرا ذرا سی بات میں بگڑ جاتے اور صدیوں تک جنگ باقی رہتی ، کسی طرح دو دل نہ مل سکتے جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبعوث ہوئے اور عرب لوگ آپ پر ایمان لائے اور انہوں نے آپ کا اِتِّباع کیا تو یہ حالت بدل گئی اور دلوں سے دیرینہ عداوتیں اور کینے دور ہوئے اور ایمانی مَحبتیں پیدا ہوئیں ۔ یہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا روشن معجِزہ ہے ۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠(۶۴)

اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) اللہ تمہیں کافی ہے اور یہ جتنے مسلمان تمہارے پیرو ہوئے (ف۱۲۲)

(ف122)

شانِ نُزُول : سعید بن جبیر حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کرتے ہیں کہ یہ آیت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کے بارے میں نازِل ہوئی ۔ ایمان سے صرف تینتیس مرد اور چھ عورتیں مشرّف ہوچکے تھے تب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے ۔ اس قول کی بنا پر یہ آیت مکّی ہے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے مدنی سورت میں لکھی گئی ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت غزوۂ بدر میں قبلِ قتال نازِل ہوئی اس تقدیر پر آیت مدنی ہے اور مؤمنین سے یہاں ایک قول میں انصار ، ایک میں تمام مہاجرین و انصار مراد ہیں ۔