حدیث نمبر43

روایت ہے حضرت انس سے کہ ایک شخص آیا صف میں داخل ہوا اس کا سانس چڑھا ہوا تھا ۱؎ اس نے کہا “اﷲ اکبر الحمدﷲ حمدًا کثیرًا طیبًا مبارکًا فیہ”۲؎ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کی تو فرمایا کہ تم میں سے یہ کلمات کس نے کہے ۳؎قوم خاموش رہی پھر فرمایا تم میں سے یہ کلمات کس نے کہےقوم پھر خاموش رہی پھر فرمایا تم میں سے یہ کلمات کس نے کہے اس نے کوئی بری بات نہیں کہی ۴؎ تب وہ شخص بولا میں آیا اور میرا سانس پھولا ہوا تھا تو میں نے یہ کلمات کہے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا کہ ان کے لے جانے میں جلدی کررہے ہیں کہ کون پہلے بارگاہِ الہٰی میں پیش کرے۵؎(مسلم)

شرح

۱؎ کیونکہ جماعت یا رکوع پانے کے لیے دوڑتا ہوا آیا تھا،بلا ضرورت دوڑتے ہوئے نماز کے لیے آنے کی ممانعت ہے،ضرورۃً دوڑنے کی اجازت ہے بلکہ اگر جمعہ کی نماز جارہی ہو امام آخری التحیات میں ہو تو جماعت پانے کے لیے بھاگنا فرض ہے،لہذا یہ حدیث بھاگنے کی ممانعت کی حدیث کے خلاف نہیں۔

۲؎ ظاہر یہ ہے کہ اس نے یہ کلمات تکبیرتحریمہ سے پہلے کہے،یہ اﷲ اکبر تکبیرتحریمہ نہیں اور اگر تکبیرتحریمہ ہو تو اس نے یہ کلمات اس لیے کہے کہ حضور رکوع یا التحیات میں تھے اور اسے رکوع باجماعت مل جانے کی امید تھی۔فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی جماعت میں جب ملے جب کہ امام رکوع کررہا ہے تو اگر اسے امید ہو کہ میں سبحان اﷲ پڑھ کر بھی رکوع پالوں گا تو سبحان اﷲ پڑھے پھر رکوع میں شامل ہواس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

۳؎ خیال رہے کہ سوال اور پوچھ گچھ سائل کی بے علمی کی دلیل نہیں،سوال کی بہت سی حکمتیں ہوتی ہیں،رب نے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا اے موسیٰ!تیرے ہاتھ میں کیا ہے۔

۴؎قوم کی یہ خاموشی ہیبت بارگاہِ عالیہ کی وجہ سےتھی کہ شاید ہم نے غلطی کی ہے ہم عتاب میں جائیں گے اسی لیے نہ آنے والا بولا نہ اس کے ساتھ والوں نے کچھ کہا ایسے موقع پر خاموش رہنا جرم نہیں،جب حضور نے فرمایا کہ اس نے گناہ نہیں کیا تب ڈھارس بندھی۔

۵؎ یعنی یہ کلمے ایسے مقبول ہوئے کہ ہر فرشتے نے چاہا کہ انہیں بارگاہِ الٰہی میں مَیں لے جاؤں تاکہ انعام کامستحق میں بنوں۔اس سے معلوم ہوا کہ آپ کو اس شخص کی خبرتھی جس نے یہ کلمات کہے۔اس سے پہلےگزر چکا کہ مجھ پر تمہارے رکوع اور سجدے پوشیدہ نہیں رہتے میں آگے کی طرح پیچھے بھی دیکھتا ہوں۔یہ بھی گزر چکا کہ پچھلی صف میں ایک شخص نے نماز میں غلطی کی،حضور نے بعد نماز نام لے کر پکارا اور فرمایا نماز درست پڑھا کرو۔تو کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ پر یہ شخص پوشیدہ رہے،نیز رب تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے مگر پھربھی لوگوں کے اعمال اس کی بارگاہ میں ملائکہ پیش کرتے ہیں۔یوں ہی حضور کی بارگاہ میں لوگوں کے صلوٰۃ و سلام فرشتہ پیش کرتا ہے اس سے خود آپ کا نہ سننا لازم نہیں۔