ایک مزید اعتراض اور اس کا جواب :

بعد دفن قبر پر اذان دینے کے منکر اور اس اذان کو سبب بناکر جھگڑا فساد برپا کرنے والے منافقین زمانہ ایک بے تکی دلیل یہ بھی پیش کرتے ہیں کہ قبر پر اذان دینے کا حکم قرآن میں کہاں ہے ؟ قرآن مجید کی کون سی آیت میں لکھا ہوا ہے کہ میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر اذان دو ۔

اس کا جواب بہت آسان ہے ۔ جب تم کسی چیز کے جواز کا ثبوت قرآن سے طلب کرتے ہو، تو انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ ممانعت کا ثبوت بھی قرآن سے پیش کرنا تمھارے ذمہ ہے ۔ لہذا اب ہم ان منافقین زمانہ سے سوال کرتے ہیں کہ بعد دفن قبر پر اذان دینے کی قرآن میں کہاں ممانعت ہے؟ بلکہ قرآن مجید کی کس آیت میں یہ ارشاد ہے کہ ’’ میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر اذان مت دو۔‘‘

مزید بر آں ، ہم منافقین زمانہ سے ایک اہم بات یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ ہر مسئلہ اور ہر فعل کا ثبوت اگر قرآن ہی سے طلب کرتے ہیں اور جس چیز کا ظاہری ثبوت قرآن سے نہیں پیش کیا جا سکتا ہے ، اس پر عمل نہیں کرتے بلکہ اس کو سختی سے روکتے ہو، تو اب ہم پوچھتے ہیں کہ :

٭ پانچوں وقت کی نماز کی رکعات کی تعداد کیا ہے ؟

ہر مسلمان جانتا ہے کہ :

٭ فجر میں چار رکعات ہیں ( ۲سنت موکدہ + ۲ فرض = ۴)

٭ ظہر میں بارہ رکعات ہیں ( ۴ سنت + ۴ فرض + ۲ سنت + ۲ نفل = ۱۲)

٭ عصر میں آٹھ رکعات ہیں ( ۴ سنت غیر موکدہ + ۴ فرض = ۸)

٭ مغرب میں سات رکعات ہیں ( ۳ فرض + ۲ سنت + ۲ نفل = ۷)

٭ عشاء میں سترہ رکعات ہیں ( ۴ سنت غیر موکدہ + ۴ فرض + ۲ سنت + ۲ نفل + ۳ وتر+ ۲ نفل = ۱۷)

اب آپ قرآن سے ان رکعات کا ثبوت پیش کریں ۔ قرآن مجید کی وہ کون سی آیات ہیں جن میں یہ ارشاد ہے کہ :

ز اے ایمان والو! فجر میں چار رکعات پڑھو۔

ز اے ایمان والو ! ظہر میں بارہ رکعات پڑھو۔

ز اے ایمان والو ! عصر میں آٹھ رکعات پڑھو۔

ز اے ایمان والو !مغرب میں سات رکعات پڑھو۔

ز اے ایمان والو ! عشاء میں سترہ رکعات پڑھو۔

ارے حد تو یہ ہے کہ رکوع اور سجود کی تسبیحات کی تشریح و دلیل بھی آپ قرآن کی آیات سے نہیں پیش کر سکتے ۔

g رکوع میں سبحان ربی العظیم پڑھتے ہیں۔

g سجدہ میں سبحان ربی الاعلی پڑھتے ہیں۔

اب بتائیے ! قرآن مجید کی کون سی آیات میں یہ حکم لکھا ہوا ہے کہ :

ز اے نماز پڑھنے والو ! رکوع میں سبحان ربی العظیم پڑھو۔

ز اے نماز پڑھنے والو ! سجدہ میں سبحان ربی الاعلی پڑھو۔

بعد دفن قبر پر اذان دینے کے ثبوت میں اگر قرآن مجید کی آیت سے دلیل کا اصرار اور مطالبہ ہے ، تو پھر پانچوں وقت کی نماز کی رکعات اور رکوع و سجود کی تسبیحات کے لیے قرآن مجید کی آیت سے دلیل کیوں نہیں طلب کرتے؟ آدمی ایک مرتبہ پیدا ہوتا ہے اور ایک ہی مرتبہ مرتا ہے اور صرف ایک مرتبہ ہی دفن ہونے کی وجہ سے صرف ایک مرتبہ ہی اس کی قبر پر اذان دی جاتی ہے ۔ اس ایک مرتبہ والے کام پر منافقین زمانہ نے ایسا واویلا مچا رکھا ہے کہ قبرستان ہی میں مار پیٹ اور جھگڑا کرکے بیچارے مردوں کو بھی چین سے نہیں سونے دیتے اور خود روز انہ پانچ وقت کی کل ۴۸؍اڑتالیس رکعات کے چھیانوے سجدوں میں ۲۸۸ مرتبہ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأعْلیٰ (ایک سجدے میں تین مرتبہ کے حساب سے پڑھتے ہیں) اور اس پڑھنے کی ان کے پاس قرآن سے کوئی دلیل نہیں۔

جو کام آدمی کی زندگی میں صرف ایک مرتبہ کیا جاتا ہے یعنی دفن کے بعد قبر پر اذان ،اس کے لیے اتنا شور شرابا اور قرآن سے ثبوت مانگا جائے اور جو کام خود روزانہ ۲۸۸ مرتبہ کریں اس کے لیے کوئی دلیل قرآن کی حاجت نہ سمجھنا کہاں کا انصاف ہے ؟