حدیث نمبر47

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسری رکعت سے اٹھتے تو الحمدﷲ رب العلمین سے قرأت شروع کرتے اور خاموش بالکل نہ ہوتے ۱؎ صحیح مسلم میں یوں ہی ہے حمیدی نے اسے اپنے افراد میں ذکر کیا،یوں ہی جامع والے نے صرف مسلم سے۔

شرح

۱؎ یہ حدیث حنفیوں کی قوی دلیل ہے کہ امام الحمدﷲ سے قرأت شروع کرے نہ کہ بسم اﷲ سے کیونکہ بسم اﷲ سورتوں کا جز و نہیں۔چونکہ پہلی رکعت میں سبحان اﷲ آہستہ پڑھی جاتی ہے نہ کہ دوسری میں اس لیے روایت میں دوسری رکعت کا ذکر فرمایا گیا،سنت غیرمؤکدہ کی تیسری رکعت میں بھی سبحان اور اعوذ و تسمیہ آہستہ پڑھی جائیں گی۔