(۲۰) اللہ عزوجل و سیلہ بننے سے پاک ہے

۲۹۔ عن جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: أتی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم أعرابی فقال: یا رسول اللہ ! جہدت الأنفس و ضاعت العیال و نہت الأموال و ہلکت الأنعام ، فاستسق اللہ لنا ، فإنا نستشفع بک علی اللہ ونستشفع باللہ علیک ، قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :َویْحکَ ، أتدْرِی ما تقولُ : و سبّح رسولُ اللہِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وَ ما زالَ یُسبِّحُ حتٰی عُرفَ ذلک فی وجوہ أصحابہ ثم قال : و یحک إنہ لاَ یُسْتَشْفَعُ بِاللہ علٰی أحد مِّنْ

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر ایک اعرابی نے عرض کیا : یا رسول اللہ!لوگ پریشانی میں مبتلا ہیں، اہل و عیال ضائع ہوگئے ، اموال میں کمی آگئی، اور جانور ہلاک ہوگئے ، ہم حضور کو اللہ کی طرف شفیع بناتے ہیں، اور اللہ عزوجل کو حضور کے سامنے شفیع لاتے ہیں ۔ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دیر تک سبحان اللہ ، سبحان اللہ فرماتے رہے یہاں تک کہ صحابہ ٔکرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے مقدس چہروں سے بھی اس اعرابی کے قول کی ناپسندید گی کا اظہار ہونے لگا ۔ پھر فرمایا؛ ارے ناداں! اللہ تعالیٰ کو کسی کے پاس شفارشی نہیں لاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی شان اس سے بہت بڑی ہے۔

]۵[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں

استعانت و فریادرسی کی حقیقت خاص بخدا، اور وسیلہ و توسل وتوسط غیر کیلئے ثابت اور قطعا روا۔ بلکہ یہ معنی تو غیر خدا کیلئے ہی خاص ہیں ۔ اللہ عزوجل وسیلہ و توسط بننے سے پاک ہے۔ اس سے اوپرکون ہے کہ یہ اسکی طرف وسیلہ ہوگا ،اور اسکے سوا حقیقی حاجت روا کو ن ہے کہ یہ بیچ میں وا سطہ ہوگا ۔ اہل اسلام انبیاء و اولیاء علہیم الصلوۃ و السلام سے یہ ہی استعانت کرتے ہیں جو اللہ عزوجل سے کیجئے تو اللہ اور اسکا رسول غضب فرمائیں ،اور اسے اللہ جل و علا کی شان میں بے ادبی ٹھہرائیں ، اور حق تو یہ ہے کہ اس معنی کا اعتقاد کر کے جناب الہی جل و علا سے کرے تو کافر ہوجائے۔ مگر وہابیہ کی بدعقلی کو کیا کہیئے نہ اللہ کا ادب ،نہ رسول سے خوف ،نہ ایمان کا پاس۔ خواہی نخواہی اس استعانت کو ’’ إیِاکَ نَسْتَعِیْنُ ‘‘ میں داخل کر کے جو اللہ عزوجل کے حق میں محال قطعی ہے اسے اللہ تعالیٰ سے خاص کئے دیتے ہیں ۔ ایک بیوقوف وہابی نے کہا تھا:

وہ کیا ہے جو نہیں ملتا خدا سے جسے تم مانگتے ہو اولیاء سے

فقیر غفر اللہ تعالیٰ لہ نے کہا :

توسل کر نہیں سکتے خدا سے اسے ہم مانگتے ہیں اولیاء سے

یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ خداسے توسل کر کے اسے کسی کے یہاں وسیلہ بنایئے اسی وسیلہ بننے کو ہم اولیاء کرام سے مانگتے ہیں ۔ کہ وہ بارگا الہی میں ہمارا وسیلہ و ذریعہ وواسطہ قضائے حاجات ہو جائیں ۔ اس بے وقوفی کا جواب اللہ عزوجل نے اس آیت کریمہ میں دیا

و لو انہم اذ ظلموا انفسہم جاؤک فاستغفروا اللہ و استغفر لہم الرسول لو جدوا اللہ توابا رحیما ۔ اور جب وہ اپنی جانوں پر ظلم یعنی گناہ کر کے تیرے پاس حاضر ہوں اور اللہ سے معافی چاہیں ۔ اور معافی مانگے انکے لئے رسول توبے شک اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں گے۔

کیا اللہ اپنے آپ نہیں بخش سکتا تھا ؟ پھر کیوں فرمایاکہ اے نبی! تیرے پاس حاضر ہوں ، اور تو اللہ سے انکی بخشش چاہے تو یہ دولت و نعمت پائیں گے۔یہ ہی ہمارا مطلب ہے جو

قرآن کی آیت صاف فرمارہی ہے۔ مگر وہابیہ تو عقل نہیں رکھتے ۔

خدا را انصاف! اگر آیت کریمہ ’ ایاک نستعین ‘‘میں مطلق استعانت کا ذات الہی جل و علا میں حصر مقصود ہو تو کیا صرف انبیا و اولیاء علیہم الصلوۃ والسلام ہی سے استعانت شرک ہوگی ۔ کیایہ ہی غیر خدا ہیں اور سب اشخاص و اشیاء و ہابیہ کے نزدیک خدا ہیں ،یا آیت میں خاص انہیں کا نام لے دیا گیاہے۔ کہ ان سے شرک، اوروں سے روا ہے ۔ نہیں نہیں ۔جب مطلقا ذات احدیت سے تخصیص اور غیر سے شرک ماننے کی ٹھہری تو کیسی ہی استعانت کسی غیر خدا سے کی جائے ہمیشہ ہر طرح شرک ہی ہوگی ۔ کہ انسان ہوں یا جمادات ،احیاء ہوں یا اموات، ذوات ہوں یا صفات ، افعال ہوں یا حالات ،غیر خدا ہونے میں سب داخل ہیں ۔ برکات الامداد ص ۴ تا ۵

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۹۔ السنن لابی داؤد السنۃ، ۲/۶۵۰ ٭ کنز العمال للمتقی، ۱۱۳۲، ۱/۲۲۴

دلائل النبوۃللبیہقی، ۶/۱۴۳ ٭ التمہید لابن عبد البر، ۷/۱۴۱

خَلْقِہٖ ، شَانُ اللہ أعظمُ مِنْہُ۔ برکات الامداد ص ۴