الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر48

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے پھر کہتے کہ میری نماز میری قربانی میری زندگی و موت اﷲ رب العلمین کے لیے ہے اس کا کوئی شریک نہیں میں اسی کا حکم دیا گیا پہلا مسلمان ہوں ۱؎ اے اللہ مجھے اچھے اعمال اور اچھے اخلاق کی ہدایت دے ان اچھی چیزوں کی ہدایت تیرے سوا کوئی نہیں دے سکتا مجھے برے اعمال اور بری عادتوں سے بچالے ان برائیوں سے تیرے سوا کوئی نہیں بچاسکتا۲؎(نسائی)

شرح

۱؎ ظاہر یہ ہے کہ حضور کی اس دعا میں المسلمین میں الف لام استغراقی ہے یعنی ساری مخلوق میں پہلا مسلم ہوں جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے۔اور جب ہم یہ دعا پڑھیں گے تو الف لام عہدی ہوگا یعنی اپنی اولاد میں اور اپنے متبعین میں پہلا مسلم ہوں،بلکہ مرقات نے فرمایا کہ اول مسلمین کہنا حضور کے لیئے خاص ہے،ہم لوگ یوں کہیں وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْن اور اگر ہم اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ کہیں بھی تو یا آیت قرآنی یا حضور کی دعا کی تلاوت کرتے ہوئے۔

۲؎ اعمال سے مراد ظاہری اعمال ہیں اور اخلاق سے مراد باطنی اعمال،اس کی پوری شرح پہلے گزرچکی ہے۔خیال رہے کہ انبیائے کرام اور اولیاء و علماء کے ذریعے ہدایتیں ملتی ہیں،اخلاق نصیب ہوتے ہیں لیکن وہ ہدایتیں رب تعالیٰ ہی کی طرف سے ہیں لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔