حدیث نمبر49

روایت ہے حضرت محمد ابن مسلمہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نفل پڑھنے کھڑے ہوتے۲؎ تو کہتے اللہ بہت بڑا ہے میں نے اپنا رخ اس کی طرف کیا جس نے آسمان وزمین بنائے تمام برائیوں سے دور ہوں اور میں مشرکوں سے نہیں ۳؎ اور بقیہ حدیث حضرت جابر کی حدیث کی کمی ذکر کی مگر یہ کہا مسلمانوں میں سے ہوں پھر کہا الہٰی تو بادشاہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے میں تیری حمد کرتا ہوں پھر قرأت فرماتے۴؎ (نسائی)

شرح

۱؎ آپ انصاری ہیں،اوسی اشہی ہیں،سواء غزوہ تبوک باقی تمام غزوات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے،حضرت مصعب ابن عمیر کے ہاتھ شریف پر مدینہ پاک میں ایمان قبول کیا،مسلمانوں کے اختلاف پر آپ گوشہ نشیں رہیں، ۴۰ھ؁ میں وفات پائی،آ پ فضلاء صحابہ میں سے ہیں۔

۲؎ یہ حدیث گزشتہ ساری حدیثوں کی شرح ہے جس نے بتادیا کہ نماز کی یہ ساری دعائیں اور اذکار نوافل میں ہیں،احناف یہی کہتے ہیں کہ فرائض و واجبات میں صرف “سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ”پڑھے نفل میں جو چاہے،یہ حدیث حنفیوں کی قوی دلیل ہے۔

۳؎ اس کی شرح گزر چکی۔اس سے معلوم ہوا کہ مقبول مومن وہ ہے جس کا دل ہر بے دین ا ور ہر بے دینی سے متنفر ہو،کسی برائی کی طرف نہ جھکے یہی حنیف کے معنی ہیں،اﷲ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی تعریف میں حنیف فرمایا۔

۴؎ یعنی اَعُوْذُ بِاﷲِ اور بِسْمِ اﷲِ پڑھ کر جیسا کہ دوسری احادیث میں ہے۔