الفصل الثانی

دوسری فصل

حدیث نمبر44

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کہتے اے اﷲ تو پاک ہے ہم تیری حمد کرتے ہیں ۱؎ برکت والا ہے تیرا نام،اونچی ہے تیری شان،تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)ابن ماجہ نے حضرت سعید سے روایت کی کہ اس حدیث کو ہم سوا حارثہ کے کسی اور سے نہیں جانتے،حارثہ کے حافظہ میں کلام ہے ۳؎

شرح

۱؎یعنی آپ ہر فرض و نفل نماز اس سے شروع فرماتے تھے۔خیال رہے کہ یہ دونوں کلمات بہت جامع ہیں۔”سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ” میں رب کی سارے عیبوں سے پاکی بیان کی گئی،وَبِحَمْدِكَ میں اس کے تمام صفات کمالیہ سے موصو ف ہونے کا ذکر ہے اسی لیے ساری مخلوق رب کی تسبیح و تحمید کرتی ہے یعنی اِلٰہُ الْعٰلمین تو سارے عیبوں سے پاک ہے اور تیرا ہر وصف لائق حمد و ثنا ہے۔

۲؎یعنی جس کام میں تیرا نام لیا جائے اس میں برکت ہو اور تیری شان مخلوق کی عقل و سمجھ سے وراء ہے۔اس ذکر میں رب کے اس فرمان پرعمل ہے” سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلیٰ”۔۳؎ خیال رہے کہ “سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ”سے نماز شروع کرنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔فقہاء،صحابہ خصوصًا خلفائے راشدین،عبداﷲ ابن مسعود کا اس پر عمل۔بڑے علمائے امت سفیان ثوری،احمد بن حنبل،اسحاق ابن راہویہ،امام ابوحنیفہ اس پر عامل،تابعین عظام کا یہ معمول ہے۔یہ حدیث حضرت عائشہ صدیقہ،عبداﷲ ابن مسعود،حضرت جابر ابن مطعم اور ابن عمر وغیرہم صحابہ سے مروی ہے۔اگر امام ترمذی کی ایک اسناد میں حارثہ ابن ابی الرجال راوی آگئے تو اس سے صرف ایک اسناد قابل طعن ہوگی نفس حدیث صحیح رہے گی کیونکہ بہت سی اسنادوں سے مروی ہے اور صحابہ و علماء کے عمل سے قوی ہے اسے مسلم شریف نے عمر سے روایت کیا۔(از اشعہ و مرقات)نیز ابوداؤد کی اسناد کے سارے راوی صحیح ہے۔خیال رہے کہ فرائض “سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ”سے ہی شروع کرے،نوافل میں اختیار ہے۔