حدیث نمبر46

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دو سکوت یاد رکھے ایک خاموشی جب تکبیر کہتے ۱؎ اور دوسری خاموشی جب “غیر المغضوب علیہم ولا الضالین”سے فارغ ہوتے ۲؎ حضرت ابی ابن کعب نے آپ کی تصدیق کی(ابوداؤد)اور ترمذی اور ابن ماجہ اور دارمی نے اس کی مثل روایت کی۔

شرح

۱؎ “سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ”پڑھنے کے لیے کیونکہ یہ تکبیر اور سورۂ فاتحہ کے درمیان ہوتی ہے لہذا یہ سکوت بمعنی عدم جہر ہے نہ کہ بالکل خاموشی،اس سکوت پر تمام آئمہ کا اتفاق ہے۔

۲؎ حق یہ ہے کہ اس خاموشی میں حضور آہستہ آمین کہتے تھے اور اگلی سورت کے لیئے آہستہ بسم اﷲ پڑھتے تھے لہذا یہ حنفیوں کے بالکل خلاف نہیں،شوافع کے ہاں یہ خاموشی آرام لینے کے لیئے تھی اور امام مالک کے ہاں یہ خاموشی اسی لیے تھی کہ مقتدی اس وقت سورۂ فاتحہ پڑھ لیں کیونکہ ان کے ہاں مقتدی امام کے ساتھ فاتحہ نہیں پڑھتا بلکہ بعد میں پڑھتا ہے مگر احناف کی توجیہ بہت قوی ہے اس سکوت کے بارے میں اور بہت سی روایتیں ہیں۔