فرعون و ہامان کے ساتھ حشر

حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور تاجدارِ عرب و عجمﷺ نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے نماز پنجگانہ کی ان کے متعین اوقات میں طہارت ِ کاملہ کے ساتھ پابندی کی اسکے لئے قیامت میںایک نور ہوگا اور ایک حجت ہوگی ’’وَمَنْ ضَیَّعَھَا حُشِرَ مَعَ فِرْعَوْنَ وَ ھَامَان َ ‘‘ ا ور جس شخص نے نمازیں ضائع کیں اسکا حشر فرعون و ہامان کے ساتھ ہوگا۔ ( احمد، ابن حبان )

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! اس حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ نماز کی حفاظت کرنیوالے کے لئے نور ہوگا یعنی قبر کی تاریک وادی اور پل صراط جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگاجس سے ہر ایک کو گزرنا ہوگا ایسے موقع پر نماز نور یعنی روشنی کا کام دے گی اور یہ نماز اللہ کی بارگاہ میں نمازی کے عابد، ساجد، اور مومن ہونے کی دلیل ہوگی۔ اور اللہ د نہ کرے کہ کوئی مسلمان بے نمازی ہوتو اس کو مولیٰدان بد بختوں کے ساتھ رکھے گا جو اللہ  کے عذاب میں گرفتار ہوں گے ان بد نصیبوں کا جرم یہ تھا کہ تکبر کی وجہ سے اللہ دکی بارگاہ میں سر نہ جھکاتے تھے اور خدائی کا دعویٰ کرتے تھے۔ (معاذ اللہ) اب آپ ہمیں بتائیں کیا کوئی مسلمان یہ پسند کرے گا کہ اس کا حشر فرعون و ہامان جیسے دشمنانِ خدا کے ہو؟ اگر نہیں تو آئو آج ہی ہم اللہ کی بارگا ہ میں سچے دل سے توبہ کرلیں کہ آج سے ہماری کوئی نماز نہیں چھوٹے گی۔ اللہ ہم سب کو حفاظت ِ صلوۃ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوۃ و التسلیم۔