مسلمان سے مطالبات زیادہ 

ایک شخص جب تک مسلمان نہیں ہوتا وہاں تک اللہ کا اس سے ایک ہی مطالیہ ہوتا ہے کہ بندہ مسلمان ہو جا،اسلام کے علاوہ اس سے اور کوئے مطالبہ نہیں ہوتا،اور وہ جب رب کے فرمان کے بموجب مسلمان ہو جاتا ہے تو اب بے شمار مطالبات اسکی طرف متوجہ ہوتے ہیں،نماز متوجہ ہوگی اور کہے گی اے ایمان والے مجھے ادا کر ایمان کا دعویٰ کرکے تونے اسکا وعدہ کر لیا ہے،روزہ متوجہ ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ اے ایمان والے رمضان کا مہینہ ہے روزہ سے رہ ایمان کا دعویٰ کر کے تونے اسکا وعدہ کرلیا ہے،زکوٰۃ متوجہ ہوتی ہے اور کہتی ہے اے ایمان والے تو صاحب ایمان ہے صاحب نصاب ہے تو زکوٰۃ ادا کر ایمان لاکر تونے اسکا وعدہ کرلیا ہے،حج متوجہ ہوتا ہے اور کہتا ہے اے ایمان والے مکہ تک جانے آنے کی مالی استطاعت رکھتا ہے تو حج کر ایمان لاکر تونے اسکا وعدہ کرلیا ہے،اس طرح بے شمار ضروری اور غیر ضروری مطالبات اپنی اپنی حیثیت کے مطابق ایمان والے سے مانگ کرتے ہیں،الغرض مومن نہ تھے تو صرف ایمان کا مطالبہ تھا اور ایمان والے ہو گئے تو ہم پابند ہو گئے ،اسلام کے دائرہ میں بند ہو گئے،اس لئے یقینا بے شمار مطالبات ہم سے ہونگے اور قدم قدم پر ہماری گرفت ہوگی

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا