یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِؕ-اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِۚ-وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ(۶۵)

اے غیب کی خبریں بتانے والے(نبی) مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو اگر تم میں کے بیس صبر والے ہوں گے دو سو پر غالب ہوں گے اور اگر تم میں کے سو ہوں تو کافروں کے ہزار پر غالب آئیں گے اس لیے کہ وہ سمجھ نہیں رکھتے (ف۱۲۳)

(ف123)

یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے وعدہ اور بِشارت ہے کہ مسلمانوں کی جماعت صابر رہے تو بمددِ الٰہی دس گنے کافِروں پر غالب رہے گی کیونکہ کُفّار جاہل ہیں اور ان کی غرض جنگ سے نہ حصولِ ثواب ہے ، نہ خوفِ عذاب ، جانوروں کی طرح لڑتے بھڑتے ہیں تو وہ لِلّٰہِیّت کے ساتھ لڑنے والوں کے مقابل کیا ٹھہر سکیں گے ۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت نازِل ہوئی تو مسلمانوں پر فرض کردیا گیا کہ مسلمانوں کا ایک ، دس کے مقابلہ سے نہ بھاگے پھر آیت ” اَلْاٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ” نازِل ہوئی تو یہ لازم کیا گیا کہ ایک سو ، دو سو ۲۰۰ کے مقابل قائم رہیں یعنی دس گنے سے مقابلہ کی فرضیت منسوخ ہوئی اور دو گنے کے مقابلہ سے بھاگنا ممنوع رکھا گیا ۔

اَلْـٰٔنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًاؕ-فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِۚ-وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۶۶)

اب اللہ نے تم پر سے تخفیف فرمادی اور اسے معلوم ہے کہ تم کمزور ہو تو اگر تم میں سو صبر والے ہوں دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں کے ہزار ہوں تو دو ہزار پر غالب ہوں گے اللہ کے حکم سے اور اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِؕ-تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا ﳓ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۶۷)

کسی نبی کو لائق نہیں کہ کافروں کو زندہ قید کرے جب تک زمین میں ان کا خون خوب نہ بہائے (ف۱۲۴) تم لوگ دنیا کا مال چاہتے ہو (ف۱۲۵) اور اللہ آخرت چاہتا ہے (ف۱۲۶) اور اللہ غالب حکمت والا ہے

(ف124)

اور قتلِ کُفّار میں مبالغہ کرکے کُفر کی ذلّت اور اسلام کی شوکت کا اظہار نہ کرے ۔

شانِ نُزول : مسلم شریف وغیرہ کی احادیث میں ہے کہ جنگِ بدر میں ستّر کافِر قید کرکے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں لائے گئے حضور نے ان کے متعلق صحابہ سے مشورہ طلب فرمایا حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کیا کہ یہ آپ کی قوم و قبیلے کے لوگ ہیں میری رائے میں انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اس سے مسلمانوں کو قوت بھی پہنچے گی اور کیا عجب ہے کہ اللہ تعالٰی ان لوگوں کو اسلام نصیب کرے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ان لوگوں نے آپ کی تکذیب کی آپ کو مکۂ مکرّمہ میں نہ رہنے دیا یہ کُفر کے سردار اور سرپرست ہیں ان کی گردنیں اُڑائیں ۔ اللہ تعالٰی نے آپ کو فدیہ سے غنی کیا ہے علی مرتضٰی کو عقیل پر اور حضرت حمزہ کو عباس پر اور مجھے میرے قرابتی پر مقرر کیجئے کہ ان کی گردنیں مار دیں آخرکار فدیہ ہی لینے کی رائے قرار پائی اور جب فدیہ لیا گیا تو یہ آیت نازِل ہوئی ۔

(ف125)

یہ خطاب مؤمنین کو ہے اور مال سے فدیہ مراد ہے ۔

(ف126)

یعنی تمہارے لئے آخرت کا ثواب جو قتلِ کفّار و اعزازِ اسلام پر مرتب ہے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ حکم بدر میں تھا جبکہ مسلمان تھوڑے تھے پھر جب مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہوئی اور وہ فضلِ الٰہی سے قوی ہوئے تو قیدیوں کے حق میں نازِل ہوئی” فَاِمَّا مَنًّامْ بَعْدُ وَاِمَّا فِدَآئً” اور اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مؤمنین کو اختیار دیا کہ چاہے کافِروں کو قتل کریں چاہے انہیں غلام بنائیں چاہے فدیہ لیں چاہے آزاد کریں ۔ بدر کے قیدیوں کا فدیہ چالیس اوقیہ سونا فی کس تھا جس کے سولہ سو درہم ہوئے ۔

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۶۸)

اگر اللہ پہلے ایک بات لکھ نہ چکا ہوتا (ف۱۲۷) تو اے مسلمانو تم نے جو کافروں سے بدلے کا مال لے لیا اس میں تم پر بڑا عذاب آتا

(ف127)

یہ کہ اجتہاد پر عمل کرنے والے سے مواخذہ نہ فرمائے گا اور یہاں صحابہ نے اجتہاد ہی کیا تھا اور انکی فکر میں یہی بات آئی تھی کہ کافِروں کو زندہ چھوڑ دینے میں ان کے اسلام لانے کی امید ہے اور فدیہ لینے میں دین کو تقویت ہوتی ہے اور اس پر نظر نہیں کی گئی کہ قتل میں عزت اسلام اور تہدیدِ کُفّار ہے ۔

مسئلہ : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس دینی معاملہ میں صحابہ کی رائے دریافت فرمانا مشروعیتِ اجتہاد کی دلیل ہے یا ” کِتَابٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ” سے وہ مراد ہے جو اس نے لوحِ محفوظ میں لکھا کہ اہلِ بدر پر عذاب نہ کیا جائے گا ۔

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا ﳲ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠(۶۹)

تو کھاؤ جو غنیمت تمہیں ملی حلال پاکیزہ (ف۱۲۸) اور اللہ سے ڈرتے رہو بےشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

(ف128)

جب اوپر کی آیت نازِل ہوئی تو اصحابِ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو فدیئے لئے تھے ان سے ہاتھ روک لئے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور بیا ن فرمایا گیا کہ تمھاری غنیمتیں حلال کی گئیں انھیں کھاؤ ۔ صحیحین کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالٰی نے ہمارے لئے غنیمتیں حلال کیں ہم سے پہلے کسی کے لئے حلال نہ کی گئی تھیں ۔