حدیث نمبر45

روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا آپ نے کہا اﷲ بہت بڑا ہے،اﷲ بہت بڑا ہے،اﷲ کی بہت تعریفیں ہیں،اﷲ کی بہت تعریفیں ہیں،اﷲ کی بہت تعریفیں ہیں،صبح و شام اﷲ کی پاکی بولتا ہوں تین بار ۱؎ میں اﷲ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان سے اس کے تکبر سے اس کے شعروں سے اس کے وسوسوں سے ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)مگر ابن ماجہ نے الحمدﷲ کا ذکر نہ کیا اور آخر میں فرمایا من الشیطان الرجیم۔حضرت عمر فرماتے ہیں کہ شیطان کا نفخ تکبر ہے۳؎ نفث شعر اور ہمزہ وسوسہ ۴؎

شرح

۱؎ یعنی یہ تینوں کلمے تین تین بار فرمائے یا یہ اخیری کلمہ بھی پچھلے دو کلموں کی طرح تین بار فرمائے۔دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔

۲؎ اگرچہ شیطان کے ہر شر سے پناہ مانگنی چاہیے لیکن چونکہ یہ تین شرارتیں بہت خطرناک ہیں اس لیے خصوصیت سے ان کا ذکر کیا۔نفث کے معنی ہیں پھونکنا،رب فرماتا ہے:”وَ مِنۡ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ”یہاں اس کی پھونک کا نتیجہ مراد ہے یعنی جادو یا شعر کیونکہ یہ دونوں شیطان کی اس پھونک سے پیدا ہوتے ہیں جو انسان کے دل میں مارتا ہے۔خیال رہے کہ شعر سے برے شعر مراد ہیں یعنی شیطانی اشعار۔حمد ِالہٰی،نعمتِ مصطفوی،دینی و رحمانی اشعار نہیں۔

۳؎یعنی انسان کے دل میں جو فخر و غرور پیدا ہوتا ہے وہ شیطان کی پھونک کا نتیجہ ہے،وہ دل میں ڈالتا ہے کہ تو سب سے بڑا ہے سب تجھ سے چھوٹے ہیں۔خیال رہے کہ اﷲ اور رسول کے مقابلے میں تکبرکفر ہے،مسلمان کے مقابلے میں تکبر حرام،کفار کے مقابلہ میں تکبر عبادت،یہاں پہلے دو تکبر مراد ہیں۔

۴؎ مُوْتَہ:وہ وسوسہ ہے جو کہ وہم بلکہ جنون تک پہنچ جائے اسی لیے لغت والے لکھتے ہیں کہ موتہ جنون کی ایک قسم ہے۔