حدیث نمبر 51

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو نماز پڑھے اس میں الحمد نہ پڑھے تو وہ نماز ناقص ہے(تین بار)کامل نہیں ۱؎حضرت ابوہریرہ سے کہا گیا کہ ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں فرمایا اپنے دل میں پڑھ لو ۲؎ کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھوں آدھ بانٹ دیا ہے۳؎ اور میرے بندے کے لیے وہی ہے جو مانگے ۴؎ بندہ کہتا ہے “الحمدﷲ رب العلمین”تو اﷲ تعالٰی فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری حمد کی ۵؎ جب بندہ کہتا ہے “الرحمن الرحیم” تو اﷲ تعالٰی فرماتا ہے میرے بندے نے میری ثنا کی ۶؎ اور جب کہتا ہے”مالك یوم الدین”تو رب فرماتا ہے میرے بندے نے میری بندگی بیان کی ۷؎ اور جب کہتا ہے “ایاك نعبدو ایاك نستعین”تو رب فرماتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے ۸؎ اور میرے بندے کے لیئے وہ ہے جو مانگے ۹؎ پھرجب کہتا ہے “اھدناالصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم۱۰؎ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین” تو فرماتا ہے یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو مانگے ۱۱؎(مسلم)

شرح

۱؎ یہ حدیثگزشتہ حدیث کی تفسیر ہے اس نے صراحتًابتادیا کہ بغیرسورۃ فاتحہ نماز فاسد نہیں ہوتی بلکہ ناقص ہوتی ہے یعنی سورۂ فاتحہ نماز میں فرض نہیں بلکہ واجب ہے،لہذا یہ حدیث حنفیوں کی قوی دلیل ہے۔

۲؎ یہ حضرت ابوہریرہ کی اپنی رائے ہے اسی لیے آپ اس پر کوئی حدیث مرفوع پیش نہیں فرماتے بلکہ ایک حدیث سے اس مسئلے کا استنباط کرتے ہیں ان کی رائے پر ہر جگہ عمل نہیں ہوسکتا،بعض جگہ بہت دشواریاں پیش آئیں گی مثلًا یہ کہ مقتدی امام کے پیچھے فاتحہ پڑھ رہا تھا یہ ابھی بیچ میں تھا کہ امام نے کہا “وَلَاالضَّآلِّیۡنَ”اب یہ بے چارہ اٰمِیْن کہے یا نہیں یا مقتدی بیچ فاتحہ میں تھا کہ اما م نے رکوع کردیا یہ مقتدی رکوع میں جائے یا نہیں وغیرہ۔خیال رہے کہ حضرت ابوہریرہ کا یہ ارشاد پہلے کا ہے بعد میں خود انہیں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ جب امام قرأت کرے تو خاموش رہوجیسا کہ مسلم،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ میں ہے اور مشکوٰۃ شریف میں اس باب میں آرہا ہے،لہذا یہ قول خود ان کے اپنے نزدیک متروک ہے یا اس کے معنی یہ ہیں کہ سورۂ فاتحہ کے معنی و مطالب دل میں سوچو ان پر غور کرو کیونکہ پڑھنا زبان سے ہوسکتا ہے،دل میں سوچنا ہوتا ہے نہ کہ پڑھنا۔(ازمرقات)اس صورت میں حدیث بالکل ظاہر ہے کسی توجیہ کی ضرورت نہیں۔

۳؎ یہاں نماز سے مراد سورۂ فاتحہ ہے یعنی جب سورۂ فاتحہ اتنی اہم ہے کہ اسے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے عین نماز فرمایا تو چاہیے اس کا پڑھنا یا اس میں غور کرنا بہت ضروری ہے۔خیال رہے کہ اَلْحَمْد کی سات آیتیں ہیں۔پہلی تین آیتیں”مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیۡنِ”تک اﷲ کی حمد ہیں اور آخری تین آیتیں اِہۡدِنَاسے “وَلَا الضَّآلِّیۡنَ” تک دعا،درمیان کی آیت “اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیۡنُ” آدھی ثنا ہے آدھی دعا،لہذا یہ فرمان بالکل درست ہے کہ الحمد آدھی آدھی بٹی ہوئی ہے۔

۴؎یعنی سورۂ فاتحہ آدھی دعا ہے تو جو بندہ اسے پڑھے میں اس کی دعا ضرور قبول کروں گا یا بعینہ اس کا سوال پورا کروں گا یا اس کی مثل اور نعمتیں دوں گا یا اس سے کوئی آفت ٹال دوں گا جیساکہ قبولیت دعاء کا قانون ہے۔

۵؎یعنی ادھر بندہ الحمد پڑھ کر رب کی حمدکرتا ہے ادھر رب تعالٰی فرشتوں سے یہ فرماتا ہے۔یہ بندے کی خوش نصیبی ہے کہ اس کی تھوڑی سی زبان کی حرکت سے اس کا نام رب کی بارگاہ میں اس عزت سے آجائے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بسم اﷲ سورۂ فاتحہ کا جز نہیں کیونکہ یہاں الحمد سے ذکر شروع ہوا بسم اﷲ کا ذکر نہ ہوا لہذا یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے۔

۶؎ یہ خطاب بھی حاضرین بارگاہ فرشتوں سے ہے جو رب تعالٰی بطور فخر و اظہار خوشی فرماتاہے،ثناء و حمد قریبًا ایک ہی ہیں۔ہوسکتا ہے کہ حمد سے ظاہری کمالات کا بیان ہو اور ثنا سے مراد پوشیدہ کمالات کا اظہار یا حمد سے مراد شکر ہو اورثناء سے مراد مطلقًا تعریف۔

۷؎ یعنی میری ایسی بڑائی بیان کی جو میرے سوا کسی کو حاصل نہیں کیونکہ قیامت کے دن کی بادشاہی صرف رب تعالٰی کی صفت ہے۔

۸؎ کیونکہ عبادت اﷲ کے لیے ہے اور استعانت یعنی مدد بندے کے لیے ہے لہذا یہ آیت رب و بندے کے درمیان ہے۔

۹؎ یعنی بندے اپنے ہر کام میں خصوصًا عبادات میں مجھ سے مدد مانگ رہا ہے میں اس کی ضرور مدد کروں گا،اس کے بعدبھی جو دعائیں مانگے گا قبول کروں گا۔

۱۰؎یعنی خدایا مجھے اس راستہ کی ہدایت دے جو تیرے انعام والے بندے کا راستہ ہے،اولیاء،صالحین،شہید اور صدیقین کا۔معلوم ہوا کہ وہ دین حق ہے جس میں اولیاءاﷲ ہوں،وہ صرف اہلِ سنت والجماعت کا دین ہے کہ ان کے سوا کسی فرقہ میں اولیاءاﷲ نہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ”انعمت علیہم”پر وقف ہے ورنہ فاتحہ کی آیات سات نہ ہوں گی کیونکہ یہاں بسم اﷲ کو الحمد میں شامل نہیں کیا گیا،لہذا یہ حدیث احناف کی دلیل ہے۔

۱۱؎یعنی جو کچھ اس سورت میں مانگے اور جو اس کے بعد مانگے وہ سب اسے دوں گا،بعض مشائخ کا طریقہ ہے کہ وہ دعا کرتے وقت الحمد شریف پڑھا کرتے ہیں ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔