حدیث نمبر 55

اور مسلم کی ابوہریرہ و قتادہ سے ایک روایت میں ہے کہ جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو ۱؎

شرح

۱؎ یہ حدیث امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی قوی دلیل ہے کہ مقتدی الحمد نہ کہے کیونکہ امام کی قرأت کے وقت اسے خاموشی ضروری ہے۔یہ حدیث چند وجہ سے نہایت قوی اور قابل عمل ہے:ایک یہ کہ اس کی تائید قرآن کریم سے ہورہی ہے،رب فرماتا ہے:”وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوۡا لَہٗ وَاَنۡصِتُوۡا”الخ۔دوسرے یہ کہ اس حدیث کی تائید بہت احادیث سے ہورہی ہے۔فقیر نے اس کے متعلق چوبیس احادیث جمع کیں،دیکھو”جاءالحق”حصہ دوم۔تیسرے یہ کہ عام صحابہ کرام کا یہی عمل تھا کہ وہ امام کے پیچھے قرأت سے منع کرتے تھے۔چنانچہ اسّی۸۰ صحابہ سے یہ ممانعت ثابت ہے۔چوتھے یہ کہ یہ حدیث عقل کے بھی مطابق ہے کیونکہ جب مقتدی سورت نہیں پڑھتا کہ امام کی قرأت مقتدی کے لیے کافی ہے تو چاہیے کہ فاتحہ بھی نہ پڑھے کہ اس میں بھی امام کی قرأت مقتدی کی قرأت ہے۔پانچویں یہ کہ رکوع میں شریک ہونے والے کو رکعت مل جاتی ہے اگر امام کی قرأت اس کے لیے کافی نہ ہوتی بلکہ مقتدی کو بھی فاتحہ پڑھنی فرض ہوتی تو اسے رکعت نہ ملتی۔چھٹے یہ کہ جلیل القدر صحابہ نے امام کے پیچھے تلاوت کرنے والوں کو بددعائیں دیں۔چنانچہ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ جو امام کے پیچھے پڑھے اس کے منہ میں خاک،حضرت عمر فرماتے ہیں کہ جو امام کے پیچھے تلاوت کرے اس کے منہ میں پتھر،حضرت سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ جو امام کے پیچھے تلاوت کرے اس کے منہ میں انگارے وغیرہ۔ساتویں یہ کہ عام مسلمین کا اس پرعمل ہے۔نوے فیصد مسلمان حنفی ہیں جو امام کے پیچھے تلاوت نہیں کرتے۔غرضکہ یہ حدیث بہت قوی ہے۔دیکھو ہماری کتاب”جاءالحق”حصہ دوم۔