حدیث نمبر 52

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اﷲعنہما نماز الحمدﷲ رب العلمین سے شروع کرتے تھے ۱؎ (مسلم)

شرح

۱؎ یعنی یہ حضرات جیسے اعوذ باﷲ آہستہ کہتے تھے ایسے ہی بسم اﷲ بھی،جہرالحمدﷲ سے شروع کرتے تھے لہذا یہ حدیث احناف کی قوی دلیل ہے کہ بسم اﷲ ہر سورت کا جز نہیں یہ آہستہ پڑھی جائے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی”اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّکَ”آئی وہاں بسم اﷲ نہ آئی۔