یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤىۙ-اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۷۰)

اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی)جو قیدی تمہارے ہاتھ میں ہیں ان سے فرماؤ (ف۱۲۹) اگر اللہ نے تمہارے دلوں میں بھلائی جانی (ف۱۳۰) تو جو تم سے لیا گیا (ف۱۳۱) اس سے بہتر تمہیں عطا فرمائے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۱۳۲)

(ف129)

شانِ نُزُول : یہ آیت حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازِل ہوئی ہے جو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ہیں ، یہ کُفّارِ قریش کے ان دس سرداروں میں سے تھے جنہوں نے جنگِ بدر میں لشکرِ کُفّار کے کھانے کی ذمہ داری لی تھی اور یہ اس خرچ کے لئے بیس اوقیہ سونا ساتھ لے کر چلے تھے (ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے) لیکن ان کے ذمے جس دن کھلانا تجویز ہوا تھا خاص اسی روز جنگ کا واقعہ پیش آیا اور قتال میں کھانے کھلانے کی فرصت و مہلت نہ ملی تو یہ بیس اوقیہ سونا ان کے پاس بچ رہا جب وہ گرفتار ہوئے اور یہ سونا ان سے لے لیا گیا تو انہوں نے درخواست کی کہ یہ سونا ان کے فدیہ میں محسوب کر لیا جائے مگر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار فرمایا ۔ ارشاد کیا جو چیز ہماری مخالفت میں صرف کرنے کے لئے لائے تھے وہ نہ چھوڑی جائے گی اور حضرت عباس پر ان کے دونوں بھتیجوں عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث کے فدیئے کا بار بھی ڈالا گیا تو حضرت عباس نے عرض کیا یا محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم مجھے اس حال میں چھوڑو گے کہ میں باقی عمر قریش سے مانگ مانگ کر بسر کیا کروں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر وہ سونا کہاں ہے جس کو تمہارے مکّۂ مکرّمہ سے چلتے وقت تمہاری بی بی ام الفضل نے دفن کیا ہے اور تم ان سے کہہ کر آئے ہو کہ خبر نہیں ہے مجھے کیا حادثہ پیش آئے اگر میں جنگ میں کام آجاؤں تو یہ تیرا ہے اور عبداللہ اور عبید اللہ کا اور فضل اور قثم کا ( سب انکے بیٹے تھے ) حضرت عباس نے عرض کیا کہ آپ کو کیسے معلوم ہوا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے میرے ربّ نے خبردار کیا ہے اس پر حضرت عباس نے عرض کیا میں گواہی دیتا ہوں بے شک آپ سچے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اس کے بندے اور رسول ہیں میرے اس راز پر اللہ کے سوا کوئی مطّلِع نہ تھا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے بھتیجوں عقیل و نوفل کو حکم دیا وہ بھی اسلام لائے ۔

(ف130)

خلوصِ ایمان اور صحتِ نیّت سے ۔

(ف131)

یعنی فدیہ ۔

(ف132)

جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بحرین کا مال آیا جس کی مقدار اسّی ہزار تھی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ ظہر کے لئے وضو کیا اور نماز سے پہلے پہلے کُل کا کُل تقسیم کر دیا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس میں سے لے لو تو جتنا ان سے اٹھ سکا اتنا انہوں نے لے لیا وہ فرماتے تھے کہ یہ اس سے بہتر ہے کہ جو اللہ نے مجھ سے لیا اور میں اس کی مغفرت کی امید رکھتا ہوں اور ان کے تموّل کا یہ حال ہوا کہ ان کے بیس غلام تھے سب کے سب تاجر اور ان میں سب سے کم سرمایہ جس کا تھا اس کا بیس ہزار کا تھا ۔

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱)

اور اے محبوب اگر وہ (ف۱۳۳) تم سے دغا چاہیں گے (ف۱۳۴) تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے (ف۱۳۵) اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے

(ف133)

وہ قیدی ۔

(ف134)

تمہاری بیعت سے پھر کر اور کُفر اختیار کرکے ۔

(ف135)

جیسا کہ وہ بدر میں دیکھ چکے ہیں کہ قتل ہوئے ، گرفتار ہوئے ، آئندہ بھی اگر ان کے اطوار وہی رہے تو انہیں اسی کا امید وار رہنا چاہئے ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓىٕكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍؕ-وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْاۚ-وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۷۲)

بےشک جو ایمان لائے اور اللہ کے لیے (ف۱۳۶) گھر بار چھوڑے اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے لڑے (ف۱۳۷) اور وہ جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی (ف۱۳۸)وہ ایک دوسرے کے وارث ہیں (ف۱۳۹) اور وہ جو ایمان لائے (ف۱۴۰) اور ہجرت نہ کی تمہیں ان کا ترکہ کچھ نہیں پہنچتا جب تک ہجرت نہ کریں اور اگر وہ دین میں تم سے مدد چاہیں تو تم پر مدد دینا واجب ہے مگر ایسی قوم پر کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے

(ف136)

اور اسی کے رسول کی مَحبت میں انہوں نے اپنے ۔

(ف137)

یہ مہاجرینِ اوّلین ہیں ۔

(ف138)

مسلمانوں کی اور انہیں اپنے مکانوں میں ٹھرایا یہ انصار ہیں ۔ ان مہاجرین اور انصار دونوں کے لئے ارشاد ہوتا ہے ۔

(ف139)

مہاجر انصار کے اور انصار مہاجر کے ۔ یہ وراثت آیت ” وَاُولُوالْاَ رْحَامِ بَعْضُھُمْ اَولیٰ بِبَعْضِ” سے منسوخ ہوگئی ۔

(ف140)

اور مکّۂ مکرّمہ ہی میں مقیم رہے ۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍؕ-اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ(۷۳)

اور کافر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں (ف۱۴۱) ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا (ف۱۴۲)

(ف141)

ان کے اور مؤمنین کے درمیان وراثت نہیں ۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ مسلمانوں کو کُفّار کی موالات و موارثت سے منع کیا گیا اور ان سے جدا رہنے کا حکم دیا گیا اور مسلمانوں پر باہم میل جول رکھنا لازم کیا گیا ۔

(ف142)

یعنی اگر مسلمانوں میں باہم تعاون و تناصُر نہ ہو اور وہ ایک دوسرے کے مددگار ہو کر ایک قوت نہ بن جائیں تو کُفّار قوی ہوں گے اور مسلمان ضعیف اور یہ بڑا فتنہ و فساد ہے ۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ(۷۴)

اور وہ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں لڑے اور جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی وہی سچے ایمان والے ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی(ف۱۴۳)

(ف143)

پہلی آیت میں مہاجرین و انصار کے باہمی تعلقات اور ان میں سے ہر ایک کے دوسرے کے معین و ناصر ہونے کا بیان تھا ۔ اس آیت میں ان دونوں کے ایمان کی تصدیق اور ان کے مَوردِ رحمتِ الٰہی ہونے کا ذکر ہے ۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓىٕكَ مِنْكُمْؕ-وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠(۷۵)

اورجو بعد کو ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ جہادکیا وہ بھی تمہیں میں سے ہیں(ف۱۴۴) اور رشتہ والے ایک سے دوسرے زیادہ نزدیک ہیں اللہ کی کتاب میں (ف۱۴۵) بےشک اللہ سب کچھ جانتا ہے

(ف144)

اور تمہارے ہی حکم میں ہیں اے مہاجرین و انصار ۔ مہاجرین کے کئی طبقے ہیں ایک وہ ہیں جنہوں نے پہلی مرتبہ مدینۂ طیّبہ کو ہجرت کی انہیں مہاجرینِ اوّلین کہتے ہیں ۔ کچھ وہ حضرات ہیں جنہوں نے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر مدینۂ طیّبہ کی طرف انہیں اصحابُ الہجرتَین کہتے ہیں ۔ بعض حضرات وہ ہیں جنہوں نے صلح حُدیبیہ کے بعد فتحِ مکّہ سے قبل ہجرت کی یہ اصحابِ ہجرتِ ثانیہ کہلاتے ہیں ۔ پہلی آیت میں مہاجرینِ اوّلین کا ذکر ہے اور اس آیت میں اصحابِ ہجرتِ ثانیہ کا ۔

(ف145)

اس آیت سے توارُث بالہجرت منسوخ کیا گیا اور ذوِی الارحام کی وراثت ثابت ہوئی ۔