🕋 مساجد کے چند فوائد ۔ ۔

بچنا ہے تو مساجد ہی جائے پناہ ہیں

حضرت أَبِو الدَّرْدَاءِ رضى الله عنه سے روایت ہے کہ میں نے رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کو فرماتے سنا ۔

🌷 الْمَسْجِدُ بَيْتُ كُلِّ تَقِيٍّ وَقَدْ ضَمِنَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ كَانَت الْمَسْاجِدُ بُيُوْتَهُ بالرَّوْحِ وَالرَّاحَةِ وَالْجَوَازِ عَلَى الصِّرَاطِ إِلَى رِضْوَانِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ

📙 المعجم الکبير از الطَّبَرَانِي ، المصنف از عبد الرزاق ،

شعب الإيمان از البيهقي

⚘حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :

مسجد ہر متقی کا گھر ہے ۔ بیت رات گذارنے کی جگہ کو کہتے ہیں ۔

مساجد کو جو شخص اپنا گھر بنا لے ، اس کے لیئے اللہ ضامن بن گیا ہے ، کفیل ہو گیا ہے ( 3 انعامات کا )

راحت،

رحمت

اور پل صراط سے (سلامتی کے ساتھ) گزر کر اللہ کی رضوان جنت تک پہنچ ۔

( فقیر نے الفاظ کے معمولی اختلاف کو مد نظر رکھتے ہوئے ترجمہ کیا ہے )

🔍اس حدیث کے چند قیمتی فوائد عرض خدمت ہیں ۔

✅اللہ تبارک و تعالی کے رسول صلی اللہ تبارک و تعالی عليه وعلى آله وصحبه و بارك و سلم نے فرمایا

بَيْتُ كُلِّ تَقِيٍّ تو پتا چلا کہ مساجد متقی کا گھر ہیں غیر متقی کو ان سے کیا ۔ جو بھی متقی ہے اسے مسجد کی آبادی ، رونق، حفاظت ، نظافت و طہارت کا اپنے گھر جیسا خیال ہو گا ۔ جیسے اس کا گھر اس کا مسکن ( سکون کی جگہ ) ہے اسی طرح مسجد میں بھی اسے سکون ملے گا اور پہلے نمبر پر راحت بتا کر اس کی صراحت کر دی ۔ اور دوسرے نمبر پر اپنی رحمت عطاء کرنے کی ضمانت بھی دے دی ۔ موجودہ حالات میں فقیر یوں عرض کرنا چاہتا ہے کہ جیسے اپنے گھر میں کوئی بیمار پڑ جائے تو اسے اس گھر سے دوسرے گھر ہسپتال لے جاتے ہیں اور وہاں اسے علاج کی وجہ سے سکون ، راحت اور رحمت ملتی ہے ۔

✅مسجد میں وقت گذارنے میں اللہ کی گارنٹی کے ساتھ ایک اور فائدہ ملتا ہے اللہ کی رضوان اور جنت ۔

✅ہر متقی مطلق فرمایا یہ نہیں فرمایا کہ وہ صحتمند ہو بلکہ مریض یا قریب المرض کو اللہ تبارک و تعالی کے ان تینوں انعامات کی زیادہ ضرورت ہے ۔

🌷کچھ اور احادیث میں مساجد میں آنے والوں کو مہمان اور اللہ کو میزبان بتا کر یہ بھی فرمایا کہ میزبان پر مہمان کی عزت و ضیافت لازم ہوتی ہے ۔

🌷آپﷺ نے فرمایا کہ بیشک بعض لوگ مسجد نشیں ہوتے ہیں تع فرشتے بھی ان کے ہم نشیں ہوتے ہیں،اگر وہ غائب ہوجائیں تو وہ فرشتے انہیں تلاش کرتے ہیں، اگر وہ بیمارپڑجائیں تو وہ ان کی عیادت کرتے ہیں، اوراگرانہیں ضرورت ہوتو وہ ان کی اعانت کرتے ہیں۔مسجد میں بیٹھنے والے کو کوئی ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے ، یا تو کوئی اس سے استفادہ کرتا ہے یا وہ حکمت والی بات کرتا ہے یا اسےرحمت کا انتظارہوتا ہے ۔

🌲اب فقیر خالد محمود آپ پر چھوڑتا ہے کہ مساجد کے حوالے سے آپ کیا طرز عمل اختیار کریں؟

✒ از قلم شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب مہتمم ادارہ معارف القران کشمیر کالونی کراچی خادم جامع مسجد حضرت سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا مصطفی آباد پھالیہ منڈی روڈ منڈی بہاؤالدین