حدیث نمبر 63

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں”قٓ وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیۡدِ”وغیرہ پڑھا کرتے تھے پھر بعد میں آپ کی نماز کچھ ہلکی ہوگئی۲؎ (مسلم)

شرح

۱؎ آپ کی کنیت ابو سعید ہے،قرشی ہیں،مخذومی ہیں،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپ کی عمر بارہ سال تھی،حضور نے آپ کے سر پر ہاتھ پھیراہے اور دعا برکت کی ہے۔

۲؎ یعنی اولًا جب صحابہ تھوڑے تھے تو آپ نماز فجر بہت دراز پڑھاتے تھے جب صحابہ کی تعداد بڑھ گئی ان میں اکثر کام کاج والے تھے تو فجر ہلکی پڑھانی شروع کردی تاکہ ان کو مشقت نہ ہو یا یہ مطلب ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں دراز تلاوت کرتے اور بعد کی نمازوں میں مختصر تلاوت۔اب بھی سنت یہ ہے کہ فجر کی نماز دراز پڑھی جائے اس میں بہت حکمتیں ہیں مگرپہلے معنی زیادہ واضح ہیں۔