حدیث نمبر 58

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر میں”وَالَّیۡلِ اِذَا یَغْشٰی”پڑھتے تھے اور ایک روایت میں ہے کہ”سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی” ۱؎ اور عصر میں اسی طرح اورفجر میں اس سے کچھ دراز ۲؎(مسلم)

شرح

۱؎ یعنی ظہر کی رکعت اول میں”وَالَّیۡلِ اِذَا یَغْشٰی”یا”سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی” پڑھتے تھے یا دونوں رکعتوں میں یہ سورت اس طرح پڑھتے کہ ہر رکعت میں آدھی سورت مگر پہلےمعنی زیادہ موزوں ہیں کیونکہ ہر رکعت میں پوری سورت پڑھنا نصف سورت پڑھنے سے زیادہ بہتر ہے۔خیال رہے کہ ظہر و عصر میں تلاوت آہستہ ہوتی ہے لہذا صحابہ کرام کو اس تلاوت کا علم یا تو حضور کے بتانے سے ہوا یا سرکار ایک آدھ آیت آواز سے پڑھ دیتے تھے تاکہ صحابہ کو پتہ لگے کہ کون سی سورت پڑھ رہے ہیں۔

۲ ؎ خیال رہے کہ نماز کی قرأت میں احادیث مختلف آئیں مگر متعارض نہیں کیونکہ سرکار کی تلاوت موقع اور حالت کے لحاظ سے مختلف تھی کبھی لمبی قرأ ت فرماتے،کبھی چھوٹی جیسا موقع،نیز بعض حالات میں مستحب پر عمل فرماتے،بعض حالات میں صرف جواز پر،لہذا احادیث مخالف نہیں۔