حدیث نمبر 57

روایت ہے ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہر و عصر کے قیام کا اندازہ لگاتے تھے ۱؎ تو ہم نے آپ کے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قیام کا اندازہ الٓم تنزیل السجدہ پڑھنے کے بقدر لایا ۲؎ ایک روایت میں ہے کہ ہر رکعت میں تیس آیتوں کی بقدر۳؎ اور ہم نے آخری رکعتوں میں قیام کا اندازہ اس سے آدھے کا لگایا ۴؎ اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ظہر کی آخری رکعتوں کے قیام کی بقدر اندازہ لگایا اور عصر کی آخری رکعتوں میں اس سے آدھا ۵؎(مسلم)

شرح

۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے حالات و صفات سوچنا،اس میں غور کرنا سنت صحابہ ہے اس سے نماز ناقص نہ ہوگی بلکہ کامل تر ہوگی۔دیکھو صحابہ کرام حضور کے پیچھے نمازبھی پڑھ رہے ہیں اور یہ خیال بھی رکھ رہے ہیں کہ آپ کا قیام کس قدرہوا یہ ان کے خشوع کے خلاف نہ تھا۔

۲؎ یعنی اتنا قیام فرماتے تھے کہ ہر رکعت میں الحمد کے علاوہ الٓم تنزیل السجدہ کی بقدر پڑھتے تھے یعنی انتیس آیتیں یا دونوں رکعتوں میں اس سورت کی بقدرمگر پہلے معنی زیادہ مناسب ہیں جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔

۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ گذشتہ کلام میں ہر رکعت میں الٓم تنزیل السجدہ کی بقدر قرأت فرماتے تھے نہ کہ دونوں میں۔

۴؎ یعنی ظہر کی آخری دو رکعتوں میں ہر رکعت میں علاوہ الحمد کے پندرہ آیات۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور ظہر کی آخری رکعتوں میں بھی سورۃ ملاتے تھے۔خیال رہے کہ فرائض کی آخری رکعتوں میں قرأت نفل ہے لہذا اگر خاموش رہے یا تسبیح پڑھے یا الحمد مع سورت پڑھے یا صرف الحمد پڑھے ہر طرح درست ہے۔یہاں تیسری صورت کا ذکر ہے یعنی الحمد مع سورت پڑھنا اور حضور کا یہ عمل شریف بیان جواز کے لیے ہے کیونکہ ان رکعتوں کا خالی پڑھنا مستحب ہے۔(اشعۃ)

۵؎ یعنی عصر کی اول رکعتوں میں ہر رکعت میں پندرہ آیتیں اور آخر کی دو رکعتوں میں پندرہ آیتیں۔اس سے معلوم ہوا کہ عصر میں تلاوت بمقابلہ ظہر کم ہونی چاہیے کہ احناف کے نزدیک فجر و ظہرمیں طوال مفصل پڑھنا اورعصر و عشاء میں وسط مفصل پڑھنا مستحب ہے،یہ حدیث اس کا ماخذ ہوسکتی ہے۔