أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ‌ ۞

ترجمہ:

اور ان لوگوں کی مثل نہ ہوجانا جنہوں نے کہا ہم نے سن لیا حالانکہ وہ نہیں سنتے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور ان لوگوں کی مثل نہ ہوجانا جنہوں نے کہا ہم نے سن لیا حالانکہ وہ نہیں سنتے تھے “

یہ آیت اس سے پہلی آیت کی تاکید ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ انسان کے لیے کسی حکم کو قبول کرنا اس حکم کو سننے کے بعد ہی ممکن ہے، اس لیے کسی حکم کو سننا اس کو قبول کرنے سے کنایہ۔ سمع اللہ لمن حمدہ کا معنی ہے جس نے اللہ کی حمد کی اللہ نے اس کو قبول کرلیا۔ اس آیت میں یہ فرمایا ہے تم ان لوگوں کی مثل نہ ہوجانا جو زبان سے کہتے ہیں ہم نے اللہ کے احکام کو قبول کرلیا اور وہ اپنے دلوں سے قبول نہیں کرتے کیونکہ یہ منافقین کی صفت ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 21