أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَجِيۡبُوۡا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاكُمۡ لِمَا يُحۡيِيۡكُمۡ‌ۚ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوۡلُ بَيۡنَ الۡمَرۡءِ وَقَلۡبِهٖ وَاَنَّهٗۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو۔ اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر (فوراً ) حاضر ہو، جب رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہارے لیے حیات آفرین ہو۔ اور یقین رکھو کہ انسان اور اس کے دل کے درمیان اللہ حائل ہے اور بیشک تم اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اے ایمان والو۔ اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر (فوراً ) حاضر ہو، جب رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہارے لیے حیات آفرین ہو۔ اور یقین رکھو کہ انسان اور اس کے دل کے درمیان اللہ حائل ہے اور بیشک تم اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے “

فرض نماز میں بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بلانے پر حاضر ہونا واجب ہے، اور نفل نماز میں ماں کے بلانے پر 

جب کوئی شخص نفل نماز پڑھ رہا ہو اور اس کی ماں اس کو نماز میں بلائے تو اس پر واجب ہے کہ نماز توڑ پر ماں کے بلانے پر حاضر ہوجائے البتہ باپ کے بلانے پر نفل نماز نہ توڑے۔ 

امام بیہقی نے مکحول سے روایت کیا ہے کہ جب تمہاری ماں تمہیں اس حال میں بلائے کہ تم نماز پڑھ رہے ہو تو اس کے پاس حاضر ہو، اور جب تمہیں تمہارا باپ بلائے تو حاضر نہ ہو حتی کہ تم نماز سے فارغ ہوجاؤ (شعب الایمان، رقم الحدیث : 7883 ۔ الدر المنثور، ج 4، ص 174، طبع قدیم، مطبعہ المیمنہ، مصر، 1314 ھ)

امام ابن ابی شیبہ نے محمد بن المنکدر سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تمہاری ماں تم کو نماز میں بلائے تو اس کی خدمت میں حاضر ہو اور جب تمہارا باپ بلائے تو حاضر نہ ہو۔ (الکتاب المصنف ج 2، ص 193، رقم الحدیث : 8013، امام ابن ابی شیبہ نے اس حدیث کو مکحول سے بھی روایت کیا ہے، رقم الحدیث : 8014، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1416 ھ)

اور فرض نماز میں سوائے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور کسی کے بلانے پر جانا جائز نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بلانے پر حاضر ہونے کی دلیل مذکور الصدر قرآن مجید کی آیت ہے اور درج ذیل احادیث ہیں :

امام محمد بن اسماعیل بخاری موفی 256 ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوسعید بن معلی (رض) بیان کرتے ہیں میں نماز پڑھ رہا تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلایا پس میں حاضر نہیں ہوا۔ (جب میں نے نماز پڑھ لی) تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ میں نماز پڑھ رہا تھا، آپ نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا اللہ اور رسول کے بلانے پر (فوراً ) حاضر ہو (الانفال :24) ۔ امام ابو داود اور امام نسائی نے اس طرح روایت کیا ہے : میں نماز پڑھ کر حاضر ہوا تو آپ نے پوچھا : میرے بلانے پر تم کیوں نہیں آئے تھے ؟ میں نے عرض کیا میں نماز پڑھ رہا تھا، آپ نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا اللہ اور رسول کے بلانے پر (فوراً ) حاضر ہو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 5006 ۔ 4674 ۔ 4474 ۔ سنن ابو داود رقم الحدیث : 1445 ۔ سنن النسائی رقم الحدیث : 9112 ۔ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :۔۔۔۔ سنن درامی رقم الحدیث : 33474 ۔ سنن کبری للبیہقی، ج 2، ص 368 ۔ مسند احمد ج 4، ص 211 ۔ المعجم الکبیر ج 22، ص 203)

اور امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی 279 ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابی بن کعب کے پاس تشریف لے گئے وہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا یا ابی ! حضرت ابی نے مڑ کر دیکھا اور حاضر نہیں ہوئے اور حضرت ابی نے جلدی جلدی نماز پڑھی پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور عرض کیا السلام علیک یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا وعلیک السلام ! اے ابی جب میں نے تمہیں بلایا تو کس چیز نے تمہیں حاضر ہونے سے روکا تھا ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نماز پڑھ رہا تھا ! آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ پر جو وحی نازل کی ہے کیا تم نے اس میں یہ آیت نہیں پڑھی : اللہ اور رسول کے بلانے پر (فوراً ) حاضر ہو میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ! اور میں انشاء اللہ دوبارہ اس طرح نہیں کروں گا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 2884، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : 8010)

علامہ سید محمود آلوسی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں : 

اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی شخص کو نماز میں بھی بلائیں تو اس پر حاضر ہونا واجب ہے۔ امام شافعی نے کہا اس سے نماز باطل نہیں ہوگی کیونکہ یہ بھی اللہ کے حکم پر عمل کرنا ہے۔ امام رویانی نے یہ کہا ہے کہ نماز میں آپ کے بلانے پر جانا واجب نہیں ہے اور اس سے نماز باطل ہوجائے گی۔ ایک قول یہ ہے کہ جب نمازی یہ دیکھے کہ تاخیر سے کوئی حادثہ ہوجائے گا تو وہ نماز توڑ دے، مثلاً وہ دیکھے کہ ایک نابینا شخص کنوئیں کی سیدھ میں جا رہا ہے اور اگر اس نے اس کو متنبہ نہ کیا تو وہ کنوئیں میں گرجائے گا تو وہ نماز توڑ دے۔ (روح المعانی، جز 9، ص 191، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

مسلمانوں کے حق میں کیا چیز حیات آفریں ہے 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : جب رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہارے لیے حیات آفریں ہو، مفسرین کا اس میں اختلاف ہے کہ وہ کیا چیز ہے جو مسلمانوں کے لیے حیات آفریں ہے۔

مجاہد نے کہا اس سے مراد حق ہے۔ قتدہ نے کا ہ اس سے مراد قرآن ہے اس میں حیات اور عفت ہے اور اس میں دنیا اور آخرت کے فتنوں سے حفاظت ہے۔ ابن اسحاق نے کہا اس سے مراد جہاد ہے۔ کیونکہ جہاد کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ذلت کے بعد عزت اور ضعف کے بعد قوت عطا کی، اور جہاد کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو مسلمانوں کے خلاف جارحیت سے روکا۔ امام ابن جریر کی رائے یہ ہے کہ ان اقوال میں حق کو مراد لینا اولیٰ ہے، کیونکہ دشمن کے خلاف جہاد کرنے کے حکم کو ماننا بھی حق میں داخل ہے، اور قرآن کے حکم پر عمل کرنا بھی حق میں داخل ہے اور حق کو قبول کرنے میں ہی قبول کرنے والے کی حیات ہے، کیونکہ دنیا میں اس کا ذکر جمیل باقی رہے گا اور اس میں بی اس کی حیات ہے اور آخرت میں اس کو جنتوں میں دائمی حیات حاصل ہوگی۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کو ان کے اسلام لانے کے بعد قبول حق پر برقرار رہنے کی تلقین فرماتے تھے کیونکہ آپ کے تمام احکام حق تھے اور حضرت ابوسعید بن معلی اور حضرت ابی بن کعب جن کو آپ نے بلا کر یہ آیت سنائی تھی وہ مسلمان ہوچکے تھے۔ (جامع البیان، جز 9، ص 283 ۔ 282، ملخصاً مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1415 ھ)

انسان اور اس کے دل کے درمیان اللہ کے حائل ہونے کے محامل 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : انسان اور اس کے دل کے درمیان اللہ حائل ہے۔ اس کی تفسیر میں بھی متعدد اقوال ہیں : 

سعید بن جبیر نے کہا اللہ، کافر اور اس کے ایمان لانے کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور مومن اور اس کے کفر کرنے کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا کافر اور اس کے ایمان اور اللہ کی اطاعت کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ ضحاک نے کہا کافر اور اس کی اطاعت اور مومن اور اس کی معصیت کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ مجاہد نے کہا انسان اور اس کی عقل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ امام ابن جریر کی رائے یہ ہے کہ اولیٰ یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ اس آیت میں اللہ عزوجل نے یہ خبر دی ہے کہ اللہ بندوں سے زیادہ ان کے دلوں کا مالک ہے اور جب بندے کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو وہ ان کے ارادوں کے درمیان حائل ہوجاتا ہے حتی کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی شخص ایمان لاسکتا ہے نہ کفر کرسکتا ہے، نیک کام کرسکتا ہے نہ گناہ کرسکتا ہے۔ (جامع البیان جز 9، ص 284 ۔ 287، ملخصاً مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :

انسان اور اس کی موت کے درمیان اللہ حائل ہوجاتا ہے اور انسان سے جو کام رہ گئے ہوں وہ ان کی تلافی نہیں کرپاتا۔ کہا گیا ہے کہ جنگ بدر کے دن مسلمان، کفار کی کثرت سے خوف زدہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خبر دی کہ اللہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے وہ ان کے دل کو خوف کے بعد بےخوفی سے بدل دے گا۔ امام ابن جریر کا یہی مختار ہے کہ انسان کے دلوں کا اللہ زیادہ مالک ہے اور وہ اس کی مشیت کے بغیر کوئی کام نہیں کرسکتے، ایمان نہ کفر، نیکی نہ گناہ۔ (الجامع لاحکام القرآن، جز 7، ص 249، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)

علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :

انسان اور اس کی موت کے درمیان اللہ حائل ہوجاتا ہے اور انسان سے جو کام رہ گئے ہوں وہ ان کی تلافی نہیں کرپاتا۔ کہا گیا ہے کہ جنگ بدر کے دن مسلمان، کفار کی کثرت سے خوف زدہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خبر دی کہ اللہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے وہ ان کے دل کو خوف کے بعد بےخوفی سے بدل دے گا۔ امام ابن جریر کا یہی مختار ہے کہ انسان کے دلوں کا اللہ زیادہ مالک ہے اور وہ اس کی مشیت کے بغیر کوئی کام نہیں کرسکتے، ایمان نہ کفر، نیکی نہ گناہ۔ (الجامع لاحکام القرآن، جز 7، ص 249، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)

اس پر یہ اعتراض ہوگا کہ جب سب کچھ اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے تو نیک کاموں پر انسان مدح اور ثواب کا اور برے کاموں پر مزمت اور سزا کا کیوں مستحق ہوتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مشیت کا یہ معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ازل میں علم تھا کہ بندے اپنے اختیار اور ارادہ سے کیا کریں گے اور کیا نہیں کریں گے اور اللہ کے اسی علم کا نام تقدیر ہے۔ اللہ اپنے اس علم کے مطابق جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

بنو آدم کے دلوں کو الٹ پلٹ کرنے کا معنی 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر یوں قس اٹھاتے تھے لا و مقلب القلوب دلوں کو الٹنے پلٹنے والے کی قسم۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 7391 ۔ سنن الترمذی رقم الحدیث : 1540 ۔ سنن النسائی رقم الحدیث : 3771، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 2092 ۔ مسند احمد ج 2، ص 25، طبع قدیم، رقم الحدیث : 4788، طبع جدید، سنن دارمی، رقم الحدیث : 2355)

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی 279 ھ روایت کرتے ہیں :

شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ام سلمہ (رض) سے پوچھا یا ام المومنین ! جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے پاس ہوتے ہیں تو وہ زیادہ تر کس چیز کی دعا کرتے ہیں۔ حضرت ام المومنین نے فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیادہ تر یہ دعا فرماتے ہیں یا مقلب القلوب ! میرے قلب کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ آپ کس قدر زیادہ یہ دعا کرتے ہیں یا مقلب القلب ثبت قلبی علی دینک ! آپ نے فرمایا اے ام سلمہ ! ہر آدمی کا دل اللہ کی انگلیں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے وہ جس دل کو چاہتا ہے سیدھا رکھتا ہے اور جس دل کو چاہتا ہے ٹیڑھا کردیتا ہے۔ پھر حدیث کے راوی نے یہ آیت تلاوت کی ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا (آل عمران :8) اے ہمارے رب ہمیں ہدایت یافتہ کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹڑھا نہ کرنا۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 3522، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 2834، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : 943، مسند احمد ج 4، ص 182، مصنف ابن ابی شیبہ، رقم الحدیث : 29188، مطبوعہ بیروت، الشریعہ للاجری، ص 387 ۔ 386 ۔ المعجم الکبیر للطبرانی، ج 1، رقم الحدیث : 759، ج 7، رقم الحدیث : 7232، ج 23، رقم الحدیث : 772، ج 23، رقم الحدیث : 785، ج 23 رقم الحدیث : 865، مجمع الزوائد ج 7، ص 210، ج 10 ص 176 ۔ المطالب العالیہ، رقم الحدیث : 462، 4940 ۔ کنز العمال، رقم الحدیث : 1682، 1684، 1687، 1694، موارد الظمآن، رقم الحدیث : 2419، المستدرک، ج 2، ص 289، 288)

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی 852 ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : 

دلوں کو الٹ پلٹ کرنے سے مراد ہے دل کے اعراض اور احوال کو الٹ پلٹ کرنا، دلوں کی ذوات کو الٹ پلٹ کرنا مراد نہیں ہے، اور اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ کسی فعل کا داعی، محرک اور باعث اور کسی فعل کا ارادہ اس کو بھی اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے۔ (فتح الباری ج 11، ص 527، مطبوعہ لاہور، 1401 ھ)

نیز حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں : قرآن مجید میں ہے : ” ونقلب افئدتہم و ابصارہم : ہم ان کے دلوں اور ان کی آنکھوں کو پھیر دیتے ہیں ” (110) ۔ یعنی ہم جس طرح چاہتے ہیں ان کے دلوں میں تصرف کرتے ہیں۔ معتزلہ نے کہا اس کا معنی یہ ہے کہ ہم کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں پس وہ ایمان نہیں لائیں گے اور مہر لگانے کا ان کے نزدیک یہ معنی ہے کہ ہم ان کے دلوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں تاکہ وہ جو چاہیں اپنے لیے اختیار کریں۔ اور لغت عرب کے اعتبار سے تقلیب کا یہ معنی صحیح نہیں ہے اور طبع (مہر لگائے) کا معنی ترک کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔ اہل سنت کے نزدیک طبع (مہر لگانے) کا معنی ہے کافر کے دل میں کفر پیدا کرنا اور موت تک اس کو اسی حال پر برقرار رکھنا۔ اور حدیث میں ہے اللہ جس طرح چاہتا ہے اپنے بندوں کے دلوں پر تصرف فرماتا ہے۔ حافظ عسقلانی نے یہ روایت بالمعنی کی ہے۔ اصل حدیث اس طرح ہے : حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمام بنو آدم کے قلوب رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ایک قلب کی طرح ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے اس میں تصرف فرماتا ہے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے مصرف القلوب ! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے۔ (صحیح مسلم القدر، 17، (2654) 6626 ۔ السنن الکبری للنسائی ج 4، رقم الحدیث : 7861)

قاضی بیضاوی نے کہا دلوں کو الٹ پلٹ کرنے کی اللہ کی طرف نسبت کرنے میں یہ بتلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے دلوں پر تصرف فرماتا ہے اور اس نے یہ تصرف اپنی مخلوق میں سے کسی کے سپرد نہیں کیا، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو یہ دعا فرماتے تھے یا مقلب القلوب ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ اس دعا میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں کے دلوں پر تصرف فرماتا ہے یہ تصرف اس کے تمام بندوں کو شامل ہے حتی کہ انبیاء (علیہم السلام) کو بھی شامل ہے اور کسی وہم کرنے والے کے اس وہم کو دفع کیا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اس تصرف سے مستثنی ہیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خصوصا اپنے دل کو دین پر ثابت رکھنے کی دعا فرمائی اس میں یہ اشارہ ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پاکیزہ ترین دل بھی اللہ سبحانہ کی پناہ لینے کا محتاج ہے تو دوسرے لوگ جو آپ سے کہیں کم رتبہ کے ہیں وہ اس دعا کرنے کے کس قدر زیادہ محتاج ہوں گے (فتح الباری، ج 13، ص 377، مطبوعہ لاہور، 1401 ھ)

رحمان کی دو انگلیوں سے کیا مراد ہے 

علامہ ابو العباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی المالکی المتوفی 656 ھ لکھتے ہیں :

انگلی کے ظاہر معنی کا اللہ تعالیٰ پر اطلاق کرنا محال ہے۔ کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ کے اعضاء ہوں تو اس کا ہر جز دوسرے جز کی طرف محتاج ہوگا اور وہ مجموعہ مفتقر اور حادث ہوگا اور یہ الوہیت کے منافی ہے، اور بعض ائمہ نے اس حدیث کی تاویل کی ہے اور کہا ہے کہ یہ مجاز بالاستعارہ ہے جیسے کہتے ہیں کہ فلاں شخص تو میری ہتھیلی میں ہے اور فلاں شخص تو میری مٹھی میں ہے اور اس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ فلاں شخص پر میں قادر ہوں اور متصرف ہوں اور میں جس طرح چاہوں اس پر تصرف کرسکتا ہوں اور جب اس سے بھی زیادہ مبالغہ کرنا ہو تو کہتے ہیں کہ فلاں شخص تو میری دو انگلیوں میں ہے یعنی میں بہت آسانی سے اس پر تصرف کرسکتا ہوں، اور بعض علماء نے کہا اس انگلی سے مراد نعمت کو بھی لیا جاسکتا ہے جیسے کہتے ہیں کہ فلاں شخص کی میرے نزدیک اچھی انگلی ہے، یعنی اس کی مجھ پر ایک نعمت ہے جیسا کہ ہاتھ سے نعمت مراد لیتے ہیں۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں تو بیشمار ہیں تو یہاں صرف دو انگلیوں کا ذکر کیوں فرمایا ہے جس سے دو نعمتیں متبادر ہوتی ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہرچند کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بیشمار ہیں لیکن وہ سب نعمتیں دو قسم کی ہیں ایک قسم ہے نفع پہنچانا اور دوسری قسم ہے ضرر دور کرنا۔ گویا کہ یوں کہا گیا کہ تمام بنو آدم کے قلوب اللہ تعالیٰ کے تحت تصرف ہیں وہ جس سے چاہے ضرر دور فرمائے اور جس کو چاہے نفع پہنچائے، میں کہتا ہوں اس طور پر یہ جواب اس وقت درست ہوگا جب بنو آدم سے مراد صالحین ہوں، جن کے دلوں کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ متکفل ہے۔ باقی رہے کفار اور فساق تو اللہ تعالیٰ جس طرح چاہتا ہے، ان میں تصرف فرماتا ہے۔ ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے یا زنگ لگا دیتا ہے۔ اور اس صورت میں یہ حدیث مقصود سے خارج ہوگی۔ اس لیے پہلی تاویل زیادہ مناسب ہے۔ اور ہم بیان کرچکے ہیں کہ حدیث کو تسلیم کرنے میں سلامتی ہے۔ (یعنی انگلی کی کوئی تاویل نہ کی جائے)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ ! مصرف القلوب ! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے۔ اس سے پہلی تاویل کی تائید ہوتی ہے یعنی تمام بنو آدم کے دلوں کا رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہونا اس معنی ہے کہ وہ تمام بنو آدم کے دلوں پر بہت آسانی سے تصرف کرتا ہے۔ (المفہم ج 6، ص 672 ۔ 673، مطبوعہ دار ابن کثیر، بیروت، اکمال اکمال المعلم ج 9، ص 27 ۔ 28، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

علامہ نووی شاعفی متوفی 676 ھ نے اس حدیث کے دو جواب دیے ہیں ایک تو یہی جواب دیا کہ دو انگلیوں سے مراد قدرت اور تصرف ہے اور دوسرا جواب یہ دیا ہے کہ اس حدیث پر بغیر کسی تاویل اور توجیہ کے ایمان لانا چاہیے اور یہ ایمان رکھنا چاہیے کہ یہ حق ہے اور اس کا ظاہر معنی مراد نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” لیس کمثلہ شیء : اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں ہے ” (الشوری :11) ۔ (صحیح مسلم مع شرحہ للنواوی، ج 10، ص 6710، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ)

میں کہتا ہوں کہ یہی جواب صحیح ہے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ رحمان کی انگلیاں ہیں اور وہ انگلیاں مخلوق کی انگلیوں کی مثل نہیں ہیں۔ ان سے کیا مراد ہے یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ ہم اس میں اپنی طرف سے کوئی تاویل اور توجیہ نہیں کرتے، نہ ان کا معنی بیان کرتے ہیں نہ ان کی کیفیت کو ہم جانتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) متوفی 150 ھ فرماتے ہیں : 

اللہ کا ہاتھ ہے اور اس کا چہرہ ہے اور اس کا نفس ہے اور قرآن مجید میں اللہ کے چہرے، اس کے ہاتھ اور اس کے نفس کا جو ذکر ہے، وہ اس کی بلا کیف صفات ہیں اور یہ تاویل نہ کی جائے کہ ہاتھ سے اس کی قدرت ہے یا اس کی نعمت ہے، کیونکہ اس طریقہ سے اللہ تعالیٰ کی صفت کو باطل کرنا ہے اور یہ قدریہ اور معتزلہ کا قول ہے، لیکن اس کا ہاتھ اس کی بلا کیف صفت ہے اور اس کا غضب اور اس کی رضا بھی اس کی بلا کیف صفات ہیں۔ (الفقہ الاکبر مع شرح الفقہ الاکبر ص 36 ۔ 37، مطبوعہ مصطفیٰ البابی الحلبی واولادہ، مصر)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 24