کالی چائے کا شور اور قومی شعور

غلام مصطفےٰ نعیمی

ایڈیٹر سواد اعظم دہلی

رات چار بجے اچانک ہی ہمارے والد کو ان کے چچا کا فون آیا کہ بریلی میں کسی بزرگ کا انتقال ہوگیا ہے ،وہ وصیت کر گئے ہیں کہ مسلمان کالی چائے بنا کر پی لیں کرونا وائرس سمیت ساری پریشانیوں حل ہوجائیں گی.

بعد میں یہ بزرگ اجمیر ، کلیر وغیرہ کے ہوتے رہے. دیکھتے ہی دیکھتے پوری بستی میں شور برپا ہوگیا…چائے کے برتن کھڑکنے لگے اور سارے لوگوں میں کراماتی چائے کا شور برپا ہوگیا.ایک امام صاحب نے تو مسجد سے اعلان تک کرا دیا… ادھر جو ہمارا فون بجنا شروع ہوا تو بجتا ہی رہا، سمجھاتے سمجھاتے وقت فجر آگیا. نماز ادا کی لیکن افواہوں کا زور بدستور جاری تھا. نماز کے بعد بھی فون آنے کا سلسلہ جاری تھا. کئی لوگوں کو سختی سے جھاڑ لگائی، ائمہ کو سختی سے تردید کرنے کو کہا تب جاکر کچھ کنٹرول ہوا.

اصل میں جب کوئی قوم ذہنی طور پر پست ہوجاتی ہے تو افواہوں اور بشارتوں کے سہارے جینے لگتی ہے. آج کل قوم مسلم کے ساتھ ایسا ہی ہورہا ہے. پچھلے دنوں کرونا وائرس کو انسانی شکل میں دیکھنے کی پوسٹ بھی کافی وائرل ہورہی ہے. حالانکہ قرآن کریم میں صاف ہدایت موجود ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا(سورہ حجرات آیت 6)

“اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو”

اس لیے اہل ایمان کو چاہیے کہ جب بھی ایسی کوئی افواہ پھیلے تو سب سے پہلے اس کی تصدیق کریں پھر اس بات کو آگے بڑھائیں. اس وقت قوم آزمائشی دور سے گزر رہی ہے اس لئے محض افواہوں اور بشارتوں میں اپنے مسائل کا حل تلاش نہ کرے بلکہ جہد مسلسل کی ذریعے مشکلات سے نجات کا راستہ تلاش کرے.

25 رجب المرجب 1441ھ

21 مارچ 2020 بروز ہفتہ