كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةًؕ-یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْۚ-وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ(۸)

بھلا کیوں کر (ف۱۹) ان کا حال تو یہ ہے کہ تم پر قابو پائیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا اپنے منہ سے تمہیں راضی کرتے ہیں (ف۲۰) اور ان کے دلوں میں انکار ہے اور ان میں اکثر بے حکم ہیں(ف۲۱)

(ف19)

عہد پورا کریں گے اور کیسے قول پر قائم رہیں گے ۔

(ف20)

ایمان اور وفائے عہد کے وعدے کر کے ۔

(ف21)

عہد شکن ، کُفر میں سرکش ، بے مُرُوّت ، جھوٹ سے نہ شرمانے والے انہوں نے ۔

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖؕ -اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۹)

اللہ کی آیتوں کے بدلے تھوڑے دام مول لیے (ف۲۲) تو اس کی راہ سے روکا (ف۲۳) بےشک وہ بہت ہی برے کام کرتے ہیں

(ف22)

اور دنیا کے تھوڑے سے نفع کے پیچھے ایمان و قرآن چھوڑ بیٹھے اور جو عہد رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا تھا وہ ابوسفیان کے تھوڑے سے لالچ دینے سے تو ڑ دیا ۔

(ف23)

اور لوگوں کو دینِ الٰہی میں داخل ہونے سے مانع ہوئے ۔

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةًؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ(۱۰)

کسی مسلمان میں نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا (ف۲۴) اور وہی سرکش ہیں

(ف24)

جب موقع پائیں قتل کر ڈالیں تو مسلمانوں کو بھی چاۂے کہ جب مشرکین پر دسترس ہو پائیں تو ان سے درگزر نہ کریں ۔

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِؕ-وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ(۱۱)

پھر اگر وہ (ف۲۵) توبہ کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں (ف۲۶) اور ہم آیتیں مفصل(کھول کھول کر) بیان کرتے ہیں جاننے والوں کے لیے (ف۲۷)

(ف25)

کُفر و عہد شکنی سے باز آئیں اور ایمان قبول کر کے ۔

(ف26)

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اہلِ قبلہ کے خون حرام ہیں ۔

(ف27)

اس سے ثابت ہوا کہ تفصیلِ آیات پر جس کو نظر ہو وہ عالِم ہے ۔

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَىٕمَّةَ الْكُفْرِۙ-اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ(۱۲)

اور اگر عہد کرکے اپنی قسمیں توڑیں اور تمہارے دین پر منہ آئیں(اعتراض وطعن کریں) تو کفر کے سرغنوں سے لڑو (ف۲۸) بےشک ان کی قسمیں کچھ نہیں اس امید پر کہ شاید وہ باز آئیں(ف۲۹)

(ف28)

مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ جو کافِر ذِمّی دینِ اسلام پر ظاہر طعن کرے اس کا عہد باقی نہیں رہتا اور وہ ذمہ سے خارج ہو جاتا ہے اس کو قتل کرنا جائز ہے ۔

(ف29)

اس آیت سے ثابت ہوا کہ کُفّار کے ساتھ جنگ کرنے سے مسلمانوں کی غرض انہیں کُفر و بد اعمالی سے روک دینا ہے ۔

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍؕ-اَتَخْشَوْنَهُمْۚ-فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۳)

کیا اس قوم سے نہ لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں (ف۳۰) اور رسول کے نکالنے کا ارادہ کیا (ف۳۱) حالانکہ انہیں کی طرف سے پہل ہوئی ہے کیا ان سے ڈرتے ہو تو اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو

(ف30)

اور صلح حدیبیہ کا عہد توڑا اور مسلمانوں کے حلیف خزاعہ کے مقابل بنی بکر کی مدد کی ۔

(ف31)

مکّۂ مکرّمہ سے دارالندوہ میں مشورہ کر کے ۔

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ(۱۴)

تو ان سے لڑو اللہ انہیں عذاب دے گا تمہارے ہاتھوں اور انہیں رسوا کرے گا (ف۳۲) اور تمہیں ان پر مدد دے گا (ف۳۳) اور ایمان والوں کا جی ٹھنڈا کرے گا

(ف32)

قتل و قید سے ۔

(ف33)

اور ان پر غلبہ عطا فرمائے گا ۔

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْؕ-وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۱۵)

اور ان کے دلوں کی گھٹن (جلن وغصہ)دور فرمائے گا (ف۳۴) اور اللہ جس کی چاہے توبہ قبول فرمائے (ف۳۵) اور اللہ علم و حکمت والا ہے

(ف34)

یہ تمام مواعید پورے ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خبریں صادق ہوئیں اور نبوّت کا ثبوت واضح تر ہوگیا ۔

(ف35)

اس میں اِشعار ہے کہ بعض اہلِ مکّہ کُفر سے باز آ کر تائب ہوں گے ۔ یہ خبر بھی ایسی ہی واقع ہوگئی چنانچہ ابوسفیان اور عکرمہ بن ابوجہل اور سہیل بن عمرو ایمان سے مشرف ہوئے ۔

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةًؕ-وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠(۱۶)

کیا اس گمان میں ہو کہ یونہی چھوڑ دئیے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے پہچان نہ کرائی ان کی جو تم میں سے جہاد کریں گے (ف۳۶) اور اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے سوا کسی کو اپنا محرم راز نہ بنائیں گے (ف۳۷) اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے

(ف36)

اخلاص کے ساتھ اللہ کی راہ میں ۔

(ف37)

اس سے معلوم ہوا کہ مخلِص اور غیر مخلِص میں امتیاز کر دیا جائے گا اور مقصود اس سے مسلمانوں کو مشرکین کی موالات اور انکے پاس مسلمانوں کے راز پہنچانے سے ممانعت کرنا ہے ۔