أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِذۡ اَنۡتُمۡ بِالۡعُدۡوَةِ الدُّنۡيَا وَهُمۡ بِالۡعُدۡوَةِ الۡقُصۡوٰى وَ الرَّكۡبُ اَسۡفَلَ مِنۡكُمۡ‌ؕ وَلَوۡ تَوَاعَدْتُّمۡ لَاخۡتَلَفۡتُمۡ فِى الۡمِيۡعٰدِ‌ۙ وَلٰـكِنۡ لِّيَقۡضِىَ اللّٰهُ اَمۡرًا كَانَ مَفۡعُوۡلًا ۙ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۡۢ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَىَّ عَنۡۢ بَيِّنَةٍ‌ ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ لَسَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌۙ‏ ۞

ترجمہ:

جب تم (وادی بدر کے) قریبی کنارے پر تھے اور وہ دور والے کا نرے پر تھے اور (تجارتی) قافلہ تم سے نچلی جانب تھا، اور اگر تم مقابلہ کا وقت مقرر کرتے تو پہنچنے کے وقت میں ضرور مختلف ہوجاتے، لیکن یہ اس لیے ہوا کہ اللہ اس کام کو پورا کردے جو (اللہ کے نزدیک) کیا ہوا تھا، تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل سے ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل سے زندہ رہے، اور بیشک اللہ بہت سننے والا بےحد جاننے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب تم (وادی بدر کے) قریبی کنارے پر تھے اور وہ دور والے کا نرے پر تھے اور (تجارتی) قافلہ تم سے نچلی جانب تھا، اور اگر تم مقابلہ کا وقت مقرر کرتے تو پہنچنے کے وقت میں ضرور مختلف ہوجاتے، لیکن یہ اس لیے ہوا کہ اللہ اس کام کو پورا کردے جو (اللہ کے نزدیک) کیا ہوا تھا، تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل سے ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل سے زندہ رہے، اور بیشک اللہ بہت سننے والا بےحد جاننے والا ہے 

علامہ ابوالولید باجی مالکی نے صحیح بخاری کی اس حدیث سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لکھنے پر استدلال کیا ہے ‘ جس میں ہے ” پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکھا “ یہ محمد بن عبداللہ کا فیصلہ ہے ‘ حالانکہ آپ مہارت سے نہیں لکھتے تھے۔ ان کے زمانہ کے علماء اندلس نے ان پر اعتراض کیا اور کہا کہ یہ قول قرآن مجید کے خلاف ہے ‘ کیونکہ قرآن مجید میں ہے : ” وما کنت تتلوا من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک “ آپ نزول قرآن سے پہلے نہ تو کتاب سے پڑھتے تھے نہ لکھتے تھے۔ علامہ باجی نے اس کے جواب میں کہا کہ قرآن مجید میں نزول قرآن میں نزول قرآن سے پہلے آپ کے پڑھنے اور لکھنے کی نفی ہے ‘ اور جب معجزات سے آپ کی نبوت ثابت ہوگئی اور آپ کی نبوت میں شک کا خطرہ نہ رہا تو پھر آپ کے پڑھنے اور لکھنے سے کوئی چیز مانع نہیں تھی ‘ اور یہ آپ کا دوسرا معجزہ ہے۔ علامہ ابن وحیہ نے کہا ہے کہ علماء کی ایک جماعت نے علامہ باجی کے موقف کی حمایت کی ‘ ان میں شیخ ابوذر ہر وی ‘ ابو الفتح نیشا پوری اور افریقہ اور دوسرے شہروں کے علماء شامل ہیں۔ بعض علماء نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لکھنے پر امام ابن ابی شیبہ کی اس روایت سے استدلال کیا ہے : مجاہد ‘ عون بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت تک فوت نہیں ہوئے ‘ جب تک آپنے لکھ اور پڑھ نہیں لیا ‘ مجاہد کہتے ہیں کہ نے شعبی سے اس روایت کا ذکر کیا انہوں نے کہا عون بن عبداللہ نے سچ کہا ہے ‘ میں اس روایت کا سنا ہے ‘ (حافظ ابن ھجر لکھتے ہیں) سہل بن حنظلیہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاویہ سے کہا کہ وہ اقراع اور عینہ کے لیے لکھیں۔ عینہ نے اس پر کہا تمارا کیا خیال ہے کیا میں متلمس کا صحیفہ لے کر جائوں گا ؟ (یعنی تم نے کچھ کا کچھ تو نہیں لکھ دیا ؟ ) اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس صحیفہ پر نظر ڈالی اور فرمایا معاویہ نے وہی لکھا ہے جو میں نے کہا تھا یونس کہتے ہیں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نزول قرآن کے بعد لکھا ہے (سہل بن حنظلیہ کی روایت مذکورہ میں آپکے پڑھنے کا ثبوت ہے۔ سعیدی غفرلہ) قاضی عیاض نے کہا ہے کہ بعض آثار سے پتا چلتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لکھنے اور خوش خطی کی معرفت تھی ‘ کیونکہ آپ نے کاتب سے فرمایا قلم اپنے کان پر رکھو یہ تم کو یاد دلائے گا اور آپ نے حضرت معاویہ سے فرمایا دوات رکھ اور قلم ایک کنار سے رکھو ‘ باء کو لمبا کر کے لکھو ‘ سین دندانے دار لکھو اور میم کو کا نا مت کرو۔ قاضی عیاض نے کہا ہرچند کہ اس روایت سے آپ کا لکھنا ثابت نہیں ہوتا لیکن آپ کو لکھنے کا علم دیا جانا مستبعد نہیں ہے ‘ کیونکہ آپ کو ہر چیز کو علم دیا گیا ہے ‘ اور جمہور نے ان احادیث کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ احادیث ضعیف ہیں اور حدیبہ کی حدیث کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ ایک واقعہ ہے اور اس میں لکھنے والے حضرت علی تھے ‘ اور مسور کی حدیث میں یہ تصریح ہے کہ حجرت علی نے لکھا تھا اور صحیح بخاری کی حدیث میں تقدیر عبارت اس طرح ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلح نامہ کو لیا اور اس میں محمد رسول اللہ کو مٹا دیا پھر حضرت علی کو وہ صلحنامہ دوبارہ دے دیا ‘ پھر حضرت علی نے اس میں لکھا۔ علامہ ابن التین نے اسی پر اعتماد کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ حدیث میں جو ہے ” آپ نے لکھا “ اس معنی ہے آپ نے لکھنے کا حکم دیا ‘ اور اس کی حدیث میں بہت مثالیں ہیں ‘ جیسے ہے آپ نے قیصر کی طرف لکھا اور آپ نے کسریٰ کی طرف لکھا ‘ اور اگر اس حدیث کو اپنے ظاہر پر بھی محمول کیا جائے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا اسم مبارک لکھا تھا ‘ حالانکہ آپ مہارت سے نہیں لکھتے تھے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ لکھنے کے عالم ہوں اور آپ امی نہ ہوں ‘ کیونہ بہت سے لوگ مہارت سے نہیں لکھتے ‘ اس کے باوجود وہ بعض الفاظ کو پہنچانتے ہیں اور ان کو اپنی جگہ پر رکھ سکتے ہیں خصوصا اسماء کو ‘ اور اس وصف کی وجہ سے وہ امی (ان پڑھ) ہونے سے خارج نہیں ہوتے۔ جیسا اکثر بادشاہ اسی طرح ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس وقت آپ کے ہاتھ پر لکھنے کا عمل جاری ہوگیا ہو اور آپ مہارت سے نہ لکھتے ہوں اور اس صلحنامہ کو آپ نے حسب منشا لکھ دیا ہو ‘ اور یہ اس خاص وقت میں الگ ایک معجزہ ہو ‘ اور اس سے آپ امی ہونے سے خارج نہ ہوں۔ اشاعرہ کے ائمہ اصول میں سے علامہ السمنانی نے یہی جواب دیا ہے ‘ اور علامہ ابن جوزی نے بھی ان کی اتباع کی ہے ‘ علامہ سہیلی نے اس جواب کا رد کیا ہے اور کہا ہے کہ ہرچند کہ یہ ممکن ہے اور آپ کے لکھنے سے ایک اور معجزہ ثابت ہوتا ہے ‘ لیکن یہ اس کے مخالف ہے کہ آپ امی تھے جو لکھتا نہیں ‘ اور جس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ ” اگر آپ نزول قرآن سے پہلے لکھتے ہوتے تو منکرین آپ کی نبوت کے متعلق شک میں پڑجاتے “ اس آیت نے تمام شکوک و شبہات کی جڑ کاٹ دی ہے ‘ اگر نزول وحی کے بعد کے بعد آپ کا لکھنا جائز ہوتا تو منکرین پھر شبہ میں پڑجاتے اور قرآن کے معاندین یہ کہتے کہ آپ مہارت سے لکھتے تھے لیکن اس کو چھپاتے تھے ‘ علامہ سہیلی نے اس کے جواب میں کہا یہ محال ہے کہ بعض معجزات ‘ بعض دوسرے معجزات کے مخالف ہوں ‘ اور حق یہ ہے کہ آپ کے لکھنے کا معنی یہ ہے کہ آپ نے حضرت علی ص کو لکھنے کا حکم دیا ‘ علامہ سہیلی کی بات ختم ہوئی ‘ حاٖط عسقلانی فرماتے ہیں : یہ کہ ان کہ فقط اپنا نام لکھنا ‘ آپکے امی ہونے اور معجزہ کے مخالف ہے۔ سو یہ بہت قابل اعتراض ہے۔ (فتح الباری ج ٧‘ ص ٥٠٤‘ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ‘ ١٤٠١ ھ) ۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 42