أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِذۡ يُرِيۡكَهُمُ اللّٰهُ فِىۡ مَنَامِكَ قَلِيۡلًا ؕ وَّلَوۡ اَرٰٮكَهُمۡ كَثِيۡرًا لَّـفَشِلۡـتُمۡ وَلَـتَـنَازَعۡتُمۡ فِى الۡاَمۡرِ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ‌ؕ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ۞

ترجمہ:

(اور یاد کیجیے) جب اللہ آپ کو خواب میں کافروں کو کم تعداد میں دکھا رہا تھا اور اگر اللہ آپ کو ان کی زیادہ تعداد دکھاتا تو (اے مسلمانو ! ) تم ضرور ہمت ہار جاتے اور آپس میں اختلاف کرتے لیکن اللہ نے (تم کو اس سے) سلام رکھا، بیشک وہ درون سینہ امور کو بہ خوبی جاننے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اور یاد کیجیے) جب اللہ آپ کو خواب میں کافروں کو کم تعداد میں دکھا رہا تھا اور اگر اللہ آپ کو ان کی زیادہ تعداد دکھاتا تو (اے مسلمانو ! ) تم ضرور ہمت ہار جاتے اور آپس میں اختلاف کرتے لیکن اللہ نے (تم کو اس سے) سلام رکھا، بیشک وہ درون سینہ امور کو بہ خوبی جاننے والا ہے 

قاضی عیاض نے کہا لکھنے کے قائلین نے اس آیت کا یہ جواب دیا ہے کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر نزول وحی سے پہلے آپ کتبا سے پڑھتے یا لکھتے تو کفار اس قرآن کے متعلق شک میں پڑجاتے ‘ اور جس طرح آپ کا تلاوت کرنا جائز ہے۔ اسی طرح آپ کا لکھنا بھی جائز ہے اور یہ آپ کے امی ہونے کے منافی نہیں ہے۔ آپ کا صرف امی ہونا معجزہ نہیں ہے کیونکہ نزول وحی سے پہلے آپکا نہ پڑھنا اور نہ لکھنا ‘ اور نہ لکھنا ‘ اور پھر قرآن پیش کرنا اور ان علوم کو پیش کرنا جن کو امی نہیں جانتے یہ ایک معجزہ ہے۔ 

اور جن لوگوں نے اس حدیث میں یہ تاویل کہ ہے کہ لکھنے کا معنی ہے آپ نے لکھنے کا حکم دیا۔ یہ تاویل ظاہر حدیث سے بلا ضرورت عدول کرنا ہے ‘ جب کہ حدیث کی عبارت یہ ہے کہ آپ مہارت سے نہیں لکھتے تھے ‘ پھر آپ نے لکھا ‘ اس میں یہ تصریح ہے کہ ٓپ نے خود لکھا اور جس طرح قرآن مجید میں ہے : ہم نے آپ کو شعر کہنا نہیں سکھایا اور نہ یہ آپ کے لائق ہے۔ (یسین : ٦٩) اس کے باوجود آپ نے منظوم کلام کہا مثلاً 

ھل انت الا اصبع دمیت 

وفی سبیل اللہ ما لقیت 

تو صرف ایک انگلی ہے جو زخمی ہوئی ہے ‘ حالانکہ تیرے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ اللہ کی راہ میں ہوا ہے۔

کیونکہ آپ نے شعر گوئی کے قصد اور ارادہ کے بغیر یہ منظوم کلام فرمایا اسی طرح ہوسکتا ہے کہ لکھنا بھی آپ سے اسی طرح صادر ہوا ہو۔ (شرھ الطیبی ج ٨‘ ص ٧٧ : ٧٦‘ مطبوعہ ادارہ القرآن ‘ کراچی ‘ ١٤١٣ ھ)

علامہ طیبی کی اس آخری توجہیہ سے ہم متفق نہیں ہیں۔ ہمارے نزدیک آپ کو لکھنے کا علم تھا اور آپ نے قصداً لکھا تھا ‘ غیر ارادی طور پر آپ سے لکھنا صادر نہیں ہوا۔ جو شخص آپ کے امی ہونے کی وجہ سے آپ کے لکھنے اور پڑھنے کا انکار کرتا ہے ہم اس سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے نزدیک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عالم ہیں یا نہیں۔ اگر وہ آپ کو عالم نہیں مانتا تو وہ مسلمان نہیں ہے اور اگر وہ آپ کو عالم مانتا ہے تو جس طرح لکھنا پڑھنا امی کے منافی ہے ‘ اسی طرح عالم ہونا بھی امی کے منافی ہیں۔ خصوصا وہ جو تمام مخلوقات سے بڑے عالم ہوں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احکام شرعیہ کے الم ہیں اور اسرار الہیہ کے عارف ہیں ایک امی کی یہ صفت کیسے ہوسکتی ہے اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے امی ہونے کے باوجود آپ کو ان علوم سے نوازا ‘ اسی طرح آپ کو لکھنے اور پڑھنے کے علم سے بھی نوازا !

علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی ٢٧٦ ھ ‘ علامہ ابی مالکی متوفی ٨٢٨ اور علامہ سنوسی متوفی ٨٩٥ ھ ‘ ان سب نے قاضی عیاض کی عبارت نقل کی ہے اور ان لوگوں کا رد کیا ہے۔ جنہوں نے علامہ باجی مالکی متوفی ٨٩٤ ھ پر تشنیع کی ہے۔

(صحیح مسلم مع شرح النوادی ج ٨‘ ص ٤٩٦٦‘ اکمال المعلم ج ٦‘ ص ٤٢٢۔ ٤٢١‘ معلم اکمال الاکمال ‘ ج ٦‘ ص ٤٢١) علامہ بدالدین محمود بن احمد عینی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں :

میں یہ کہتا ہوں کہ یہ منقول ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے لکھا۔ (عمدہ القاری ج ٢‘ ص ٣٠‘ مطبوعہ مصر) 

نیز لکھتے ہیں :

اور یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٢‘ ص ١٧١‘ مطبوعہ مصر) 

صحیح بخاری میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے محمد بن عبداللہ لکھا ‘ اس پر یہ سوال ہوا کہ آپ تو امی تھے آپ نے اپنا نام کیسے لکھا ؟؎

علامہ عینی نے اس کے تین جواب دیے ہیں :

پہلا جواب یہ ہے کہ امی وہ شخص ہے جو مہارت سے نہ لکھتا ہو نہ کہ وہ جو مطلقاً نہ لکھتا ہو ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ اس میں اسناد مجازی ہے ‘ اور تیسرا جواب یہ ہے کہ آپ کا لکھنا آپ کا معجزہ تھا۔ (عمدۃ القاری ‘ ج ١٨‘ ص ١١٣‘ مطبوعہ مصر) 

علامہ عینی کا دوسرا جواب صحیح نہیں ہے اور ان کی پہلی تصریحات کے بھی غلاف ہے۔ انہوں نے یہ جواب علامہ باجی کے مخالفین سے نقل کیا ہے ‘ صحیح جواب دہ ہے جس کو انہوں نے آخر میں ذکر کیا ہے۔

حافظ شہاب الدین احمد بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ٨٥٢ ء نے اس مسئلہ پر بہت تفصیل سے لکھا ہے ‘ ہم یہ پوری عبارت پیش کر رہے ہیں ہرچند کہ اس کی بعض چیزیں علامہ طیبی کی عبارت میں آچکی ہیں :

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال آیت نمبر 43