تارکِ صلوٰۃ کفر کے قریب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا ہمارے اور منافقوںکے درمیان عہد نماز ہے۔ پس جس نے نما ز کو ترک کیا وہ کافر ہو گیا۔ (ترمذی)

اسی طرح حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ مَنْ تَرَک الصَّلٰو ۃ َمُّتَعَمِّداً فَقَدْ کَفَرَ‘‘ جس شخص نے نما ز جان بوجھ کر چھوڑی اس نے کفر کیا۔ (بزار )

’’ فَقَدْ کَفَرْ ‘‘کا مطلب یوں بتایا گیا کہ وہ کفر کے قریب ہو گیا کیوں کہ وہ نماز چھوڑ بیٹھا حالانکہ نماز دین کا ستون ہے اور یقین کی بنیاد ہے، ’’ فَقَدْ کَفَرْ ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ’’ اس نے کافر کا کام کیا‘‘ کیوں کہ کافر بھی نماز نہیں پڑھتا ہے اور اس نے بھی نہ پڑھی۔ چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ : ’’بندے اور شرک و کفر کے درمیان فرق نماز ہے جب اس نے نماز چھوڑ دی تو کافروں جیسا کام کیا ‘‘ (الحدیث )

ترمذی و غیرہ کی روایت میں ہے کہ حضو ر ﷺ نے فرمایا : کہ ہمارے اور ان کے درمیان فرق نماز کا ہے، جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کافروں جیسا کام کیا۔ (الحدیث)

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! اگر ہمارے پاس دولت ہو تو ہم اس کی حفاظت میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتے دولت کہاں محفوظ ہو گی، کیسے محفوظ ہو گی، اس میں اضا فہ کیسے ہوگا، اس کے سلسلہ میں ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں لیکن ایمان کے حوالے سے اتنی فکر نہیں ہوتی۔ یاد رکھیں! ایمان سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں قرآنِ مقدس اور احادیث مبارکہ میں تحفظ ایمان پر بے شمار ارشادات موجود ہیں مذکورہ حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ جس شخص نے نماز کو قصداً ترک کیا اس نے کفر کیایعنی اس کا ایمان اب خطرے میں پڑ گیا۔ ترک صلوٰۃ کی عادت سے اب کفر کے قریب تو پہونچ گیا کہیں اس کا ایمان بھی نہ چلا جائے لہٰذا چاہئیے کہ نماز میں چستی اور حفاظت کریں تاکہ ایمان محفوظ ہو جائے۔ اللہد ہم سب کا خاتمہ ایمان پرفرمائے۔

آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلاۃ واتسلیم