حدیث نمبر 68

روایت ہے حضرت نعمان بن بشیرسے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعہ میں”سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی ا ور”ہَلْ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ الْغٰشِیَۃِ” پڑھتے تھے۔فرماتے ہیں کہ جب عید اورجمعہ ایک دن میں جمع ہوجاتے تو یہ دونوں سورتیں دونوں نمازوں میں پڑھتے ۱؎(مسلم)

شرح

۱؎ عید میں بھی اور جمعہ میں بھی۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ ایک عید اور جمعہ جمع ہوجائیں تو نماز عید کیوجہ سے نماز جمعہ معاف نہ ہوجائے گی یہ بدستور فرض رہے گی۔حضرت عثمان غنی نے جو اپنے دور خلافت میں نماز عیدکے بعد فرمایا تھا کہ جمعہ کی نماز کے لیے جو چاہے ٹھہرے جو چاہے چلا جائےیہ ان گاؤں والوں سے خطاب تھا جن پر نہ نماز عید واجب تھی اور نہ نمازجمعہ فرض،برکت کے لیے عید و جمعہ پڑھنے شہر آجاتے تھے لہذا ان کافرمان اس حدیث کے خلاف نہیں۔دوسرے یہ کہ عید و جمعہ کا اجتماع منحوس نہیں جیسا کہ آج کل جہلا نے سمجھ رکھا ہے بلکہ اس میں دو برکتوں کا اجتماع ہے اور حضور کے زمانہ میں ایسا ہواہے۔تیسرے یہ کہ ایک سورت دو نمازوں میں پڑھنا جائز ہے۔خیال رہے کہ یہاں بھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا اکثری عمل مراد ہے دائمی نہیں ورنہ آپ سے نماز جمعہ و عیدین میں اور سورتیں پڑھنا بھی ثابت ہیں۔