دہلی وقف بورڈ سےامانت اللہ کا استعفیٰ

غلام مصطفےٰ نعیمی

مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی

وقف بورڈ/مختلف کمیشن جیسے اداروں میں چئیرمین کا تقرر حکومت کی مدت کار سے ہوتا ہے. اس لئے نئی حکومت کی تشکیل پر پروٹوکول کے مطابق تقرریاں کی جاتی ہیں. امانت اللہ خان دہلی حکومت کے پچھلے ٹرم میں چئیرمین تھے. حکومت کی واپسی کے بعد بھی وہ عہدہ چئیرمین پر رہ کر مسلسل کام کر رہے تھے. خصوصاً دہلی فساد زدگان کی امداد ، لیگل ایڈ اور رفاہی کاموں کی پورے ملک میں گونج تھی. حال ہی میں انہوں نے بورڈ میں شرعی مسائل کے لیے دارالافتا کا قیام بھی کیا. اس درمیان ایک تکنیکی خامی بتا کر حکومت نے انہیں عہدے سے ہٹا دیا اور پچھلے مہینے لیے گئے ان کے تمام فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دے دیا. یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنے دن سے حکومت اس مفروضہ تکنیکی غلطی پر کیوں خاموش تھی؟

جیسے ہی وقف بورڈ نے فساد متاثرین کا باز آبادکاری اور بورڈ میں دارالافتا کا قیام کیا حکومت کو تکنیکی سبق یاد آگیا… وزیر اعلی خصوصی اختیار کی بنا پر بھی کسی کو چئیرمن بنا سکتے ہیں لیکن حالیہ معاملے میں ایسا کچھ نہیں ہوا…. اگر دہلی حکومت کے من میں چور نہیں ہے تو اگلے ایک دو دن میں پروسیجر پورا کرکے امانت کو چئیرمن منتخب کرلینا چاہیے… اگر معاملہ ٹال کر ریسیور لادا گیا تو سمجھ لیں کہ کیجری وال بھی بنیا گیری پر اتر آیا ہے..