حدیث نمبر 42

روایت ہے حضرت وائل ابن حجر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے پڑھا “غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمْ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ” تو کہا آمین اپنی آواز کھینچ کر ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،دارمی اور ابن ماجہ)

شرح

۱؎ اس حدیث سے نمازمیں اونچی آمین کہنا ہرگز ثابت نہیں ہوسکتا چند وجہ سے:ایک یہ کہ یہاں نماز کا ذکرنہیں،ممکن ہے کہ نماز کے علاوہ یہ تلاوت اور آمین ہوئی ہو۔دوسرے یہ کہ یہاں”مَدَّبِھَاصَوْتَہٗ” ہے مَدَّ کے معنی چیخنا نہیں بلکہ اس کے معنی ہیں کھینچنا،دراز کرنا،اس کا مقابل قصر ہے اسی لیے مہلت دینے،ڈھیل دینےکو مدّ کہا جاتا ہے،رب فرماتا ہے:”وَیَمُدُّہُمْ فِیۡ طُغْیٰنِہِمْ”یعنی حضورصلی اللہ علیہ وسلم آمین کا الف اور میم مدّ کے ساتھ پڑھتے تھے،بروزن قالین قصر سے نہیں جیسے کریم،یہی معنی ظاہر ہیں۔تیسرے یہ کہ امام احمد،دار قطنی،حاکم،مستدرک،طبرانی،ابو داؤد طیالسی،ابو یعلیٰ موصلی نے انہی وائل ابن حجر سے روایت کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں جب “وَلَا الضَّآلِّیۡنَ” پڑھا تو “قَالَ اٰمِیْن وَ اَخْفیٰ بِھَا صَوْتَہٗ”۔اور ابو داؤد و ترمذی،ابن ابی شیبہ نے انہی وائل ابن حجر سے روایت کی “وَخَفَضَ بِہَا صَوْتَہٗ”۔اَخْفیٰ کے معنی ہیں آہستہ پڑھا اور خَفَضَ کے معنی ہیں پست آواز سے پڑھا تو اب یہاں مَدَّ کے ایسے معنی کرنے چاہیں جو وہاں کے اَخْفٰی اور خَفَضَ کے خلاف نہ ہوں یعنی آواز کھینچی اس لیے یہاں جَھَرَ نہیں بلکہ مَدَّ آیا کیونکہ اَخْفَاء کا مقابل مَدَّ نہیں بلکہ جہر ہے رب فرماتا ہے:”یَعْلَمُ الْجَہۡرَ وَمَایَخْفٰی”۔جن احادیث میں “رَفَعَ بِہَا صَوْتَہٗ”ہے وہاں بھی “رَفَعَ مَدَّ”کا ترجمہ ہے ا ور یہی معنی ہیں کہ آواز کھینچ کر پڑھا۔غرض کہ ایسی حدیث آج تک نہ مل سکی جس میں نمازکا ذکر ہو اور آمین کے لیے لفظ جہر ہو،نیز اونچی آمین کہناحکمِ قرآن کے خلاف ہے کیونکہ آمین قرآن کی آیت نہیں بلکہ دعا ہے،رب فرماتا ہے:”قَدْ اُجِیۡبَتۡ دَّعْوَتُکُمَا”اوردعا آہستہ کہنی چاہیے،رب فرماتا ہے:”اُدْعُوۡا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً “ا سکی پوری بحث ہماری کتاب “جاءالحق”حصہ دوم میں دیکھو۔